دلچسپ و خاص

جنوری کے مہینے سے متعلق دلچسپ حقائق

کیلنڈر میں جنوری پہلا مہینہ اور اس کی یکم تاریخ سال کا پہلا دن کیسے بنے؟

Web Desk

جنوری کے مہینے سے متعلق دلچسپ حقائق

کیلنڈر میں جنوری پہلا مہینہ اور اس کی یکم تاریخ سال کا پہلا دن کیسے بنے؟

(فائل فوٹو: سوشل میڈیا)
(فائل فوٹو: سوشل میڈیا)

سال کا پہلا مہینہ جنوری ایک نئی شروعات کی علامت سمجھا جاتا ہے جبکہ کچھ لوگوں کے نزدیک یہ بس ایک مہینہ ہے۔

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ یکم جنوری کو ہی سال کا پہلا دن اور سال کا آغاز کیوں سمجھا جاتا ہے؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ہمیشہ سے سال کا پہلا دن نہیں تھا، کیلنڈر میں جنوری پہلا مہینہ اور اس کی یکم تاریخ سال کا پہلا دن کیسے بنے؟ اس سوال کا جواب قدیم روم کی تاریخ سے ملتا ہے۔

آئیے جنوری کے مہینے کے حوالے سے چند تاریخی اور دلچسپ حقائق کے بارے میں جانتے ہیں۔

جنوری کا نام رومی خدا جانوس (Janus) کے نام پر رکھا گیا ہے، جانوس کو 2 سر سے ظاہر کیا جاتا ہے، یعنی یہ بیک وقت مسقبل اور ماضی کی جانب دیکھ رہا ہے۔

تاریخ میں جنوری کے دوسرے نام بھی ملتے ہیں، اس کا ایک نام وولف موناتھ (Wulfmonath) بھی ہے جبکہ روم کے قدیم بادشاہ شارلیمین اس مہینے کو ونٹر مینوتھ (Wintermanoth) یعنی سرد مہینہ کہا کرتے تھے۔

ابتداء میں رومی کیلنڈر میں صرف 10 مہینے اور 304 دن ہوتے تھے، اس میں جنوری اور فروری شامل نہیں تھا اور سال کا آغاز موسم بہار کی آمد کے ساتھ مارچ میں ہوتا تھا۔

روم کے دوسرے بادشاہ نوما پمپیلیوس نے جنوری اور فروری کو رومی کیلنڈر میں شامل کیا تاکہ یہ قمری کیلنڈر کے برابر ہو جائے لیکن اُس وقت جنوری میں 29 دن مقرر کیے تھے۔

پھر ایک ایسا دور بھی آیا جب یہ کیلنڈر سورج کی گردش کے ساتھ ہم آہنگ نہیں رہا، اس میں موسموں کی تبدیلی اور فصلوں کی کاشت وغیرہ کے اوقات کا درست اندازہ لگانے میں مشکل پیش آنے لگی۔

بعدازاں رومی فرماں روا جولیئس سیزر نے ریاضی اور فلکیات کے ماہرین سے مشورہ کرکے اس کیلنڈر میں جنوری کے ایام 31 کردیے اور لیپ ایئر کا نظام بھی متعارف کرایا، دلچسپ بات یہ ہے کہ لیپ ایئرز میں جنوری ہمیشہ اُس دن سے شروع ہوتا ہے، جس دن اپریل اور جولائی شروع ہوتے ہیں۔

مختلف تاریخی حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ 150 قبلِ مسیح ہی میں سلطنت روم میں انتظامی وجوہ کی بنا پر جنوری کو سال کا پہلا مہینہ مقرر کیا گیا، جبکہ بعض مؤرخین کے مطابق جولیئس سیزر نے ہی جنوری کو سال کا پہلا مہینہ اور یکم جنوری کو سال کا پہلا دن قرار دیا تھا۔

برطانیہ میں کچھ لوگ اس مہینے کو 'خشک جنوری' یا 'ڈرائی جنوری' کے طور پر مناتے ہیں، اس مہینے میں برطانیہ کے لوگ پورا مہینہ شراب نوشی چھوڑ دیتے ہیں۔

اسی طرح کئی کلچرز میں یہ تصور بھی عام ہے کہ آپ سال کے پہلے دن جو کام کریں گے وہ آپ کے سال بھر کی سرگرمیوں پر اثرانداز ہوگا۔