انفوٹینمنٹ

کنگنا رناوت کی فلم 'ایمرجنسی' پر بنگلہ دیش میں پابندی عائد

پابندی کیوجہ فلم کی کہانی سے زیادہ دونوں ممالک کے درمیان جاری سیاسی تناؤ ہے

Web Desk

کنگنا رناوت کی فلم 'ایمرجنسی' پر بنگلہ دیش میں پابندی عائد

پابندی کیوجہ فلم کی کہانی سے زیادہ دونوں ممالک کے درمیان جاری سیاسی تناؤ ہے

(اسکرین گریب)
(اسکرین گریب)

بالی وڈ کی اسکینڈل کوئن اداکارہ و بھارتیا جنتا پارٹی (بی جے پی) کی رکن پارلیمنٹ کنگنا رناوت کی فلم 'ایمرجنسی' کی ریلیز پر بنگلہ دیش میں پابندی عائد کردی گئی ہے۔

بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش میں فلم 'ایمرجنسی' کی نمائش روکنے کا فیصلہ بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان موجودہ کشیدہ تعلقات کا نتیجہ ہے۔

فلم میں پاکستان کے دولخت ہونے اور بنگلہ دیش کے قیام میں بھارتی فوج اور اندرا گاندھی کی حکومت کے کردار اور شیخ مجیب الرحمن کی حمایت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

علاوہ ازیں فلم میں بنگلہ دیشی انتہا پسندوں کے ہاتھوں شیخ مجیب الرحمن کے قتل کی منظرکشی بھی کی گئی ہے، خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہی وہ عوامل ہیں جو بنگلہ دیش میں اس فلم پر پابندی کا سبب بنے ہیں۔

تاہم 'ایمرجنسی' پہلی فلم نہیں جسے بنگلہ دیش میں پابندی کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس سے قبل 'پشپا 2' اور 'بھول بھولیا 3' جیسی فلموں کو بھی بنگلہ دیش میں ریلیز کرنے سے روک دیا گیا تھا۔

اس تناظر میں یہ دعویٰ درست معلوم ہوتا ہے کہ بنگلہ دیش میں 'ایمرجنسی' پر پابندی کیوجہ فلم کی کہانی سے زیادہ دونوں ممالک کے درمیان جاری سیاسی تناؤ ہے۔

فلم 'ایمرجنسی' مسلسل تنازعات کا شکار کیوں؟

سابق بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کیجانب سے 1975ء میں بھارت میں ایمرجنسی کے نفاذ اور ہنگامہ خیز سیاسی صورتحال کی عکاسی کرنے والی یہ فلم ابتداء سے ہی تنازعات کا شکار رہی ہے۔

منیکارنیکا فلمز اور زی اسٹوڈیوز کی مشترکہ پروڈیوس کردہ فلم ‘ایمرجنسی‘ گزشتہ سال 6 ستمبر کو سنیما گھروں میں ریلیز ہونے والی تھی تاہم فلم میں موجود کچھ مناظر کی وجہ سے فلم کی ریلیز کا روک دیا گیا تھا۔

بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سکھ برادری کے کچھ اہم رہنماؤں کی جانب سے فلم ‘ایمرجنسی‘ پر سکھوں سے متعلق چند مناظر پر سخت اعتراضات کا اظہار کیا گیا تھا جس کے بعد فلم کو جانچ پڑتال کے دائرے میں لایا گیا تھا۔

بھارتی سکھ برادری کی جانب سے شدید مظاہروں کے ذریعے اس بات کا مطالبہ کیا گیا تھا کہ متنازع فلم 'ایمرجنسی' میں سکھوں سے متعلق قابل اعتراض مناظر کو فوری طور پر ہٹایا جائے۔

اپنے مظاہروں میں سکھ برادری کا مزید کہنا تھا کہ ’ حکومت کی جانب سے کنگنا اور فلم میکرز کو اس بات کا پابند کیا جائے کہ وہ سکھوں کے جذبات مجروح کرنے پر سکھ برادری سے معافی بھی مانگیں‘۔

اداکارہ کنگنا رناوت کی جانب سے فلم میں موجود متنازع مناظر کو ہٹانے کی حامی بھر لی گئی تھی جس کے بعد بھارتی سینسر بورڈ کی جانب سے فلم کو کلین چٹ مل گئی اور اب یہ فلم 17 جنوری کو سینما گھروں میں ریلیز کی جارہی ہے۔