اسکینڈلز

سیف پر حملے سے متعلق کرینہ کا بیان سامنے آگیا

اداکارہ نے بتایا کہ گھر کے باقی افراد بالکل ٹھیک ہیں۔

Web Desk

سیف پر حملے سے متعلق کرینہ کا بیان سامنے آگیا

اداکارہ نے بتایا کہ گھر کے باقی افراد بالکل ٹھیک ہیں۔

سیف پر حملے کےوقت کرینہ اور بچے گھر پر ہی موجود تھے۔
سیف پر حملے کےوقت کرینہ اور بچے گھر پر ہی موجود تھے۔

سیف علی خان کی اہلیہ، اداکار کرینہ کپور خان کی ٹیم نے اداکار پر چاقو سے حملے کے بعد ایک بیان شیئر کیا ہے، جس میں یقین دلایا گیا کہ کرینہ اور بچے بالکل ٹھیک ہیں، ساتھ ہی مداحوں سے رازداری کی درخواست بھی کی۔

ممبئی پولیس کے مطابق سیف علی خان کو بدھ اور جمعرات کی رات گھر میں گھسنے والے چور نے چاقو کے وار سے حملے کا نشانہ بنایا۔

رپورٹس کے مطابق سیف علی خان پر ان کے بچوں کے کمرے میں حملہ کیا گیا، اداکار نے حملہ آوروں کو پکڑنے کی کوشش کی اور خاندان کی حفاظت کے لیے اس سے مزآحمت کی۔

میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ اداکار کے جسم پر چاقو کے وار سے 6 زخم آئے جس میں سے 2 خاصے گہرے ہیں جو گردن اور ریڑھ کی ہڈی کے قریب آئے تاہم ان کی اہلیہ کے جانب سے جاری بیان میں اس کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔

رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ اس وقت سیف علی خان ممبئی کے لیلاوتی اسپتال میں زیر علاج ہیں جہاں ان کی سرجری انجام دی گئی اور جسم سے ایک 3 انچ کا تیز دھار آبجیکٹ بھی نکالا گیا ہے۔

اس حوالے سے کرینہ کی ٹیم کی جانب سے شیئر کیے گئے بیان میں بتایا گیا کہ 'گزشتہ رات سیف علی خان اور کرینہ کپور خان کی رہائش گاہ میں چوری کی کوشش کی گئی تھی اور سیف کے بازو پر چوٹ آئی جس کے لیے وہ اسپتال میں زیر علاج ہے'۔

بیان میں کہا گیا کہ 'خاندان کے باقی اراکین بالکل خیریت سے ہیں، ہم میڈیا اور مداحوں سے گزارش کرتے ہیں کہ صبر سے کام لیں اور مزید قیاس آرائیاں نہ کریں کیونکہ پولیس پہلے ہی اپنی مناسب تحقیقات کر رہی ہے۔ آپ کی تشویش کے لیے آپ سب کا شکریہ'۔

مبینہ طور پر حملہ آور چاقو کے وار کے بعد موقع سے فرار ہو گیا کیونکہ گھر میں موجود مزید لوگ جاگ گئے تھے، پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

پولیس نے ابتدائی اطلاعات کی رپورٹ درج کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے اور حملہ آور کو پکڑنے کے لیے متعدد ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔

ممبئی کرائم برانچ کے افسران بشمول افسر دیا نائک کو اداکار کے گھر پہنچتے دیکھا گیا، میڈیا رپورٹ کے مطابق پولیس اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے اور اس سلسلسے میں انہوں نے چند مشتبہ افراد کو حراست میں بھی لیا ہے۔