نوجوت سنگھ سدھو نے 5 ماہ میں 33 کلو وزن کیسے کم کیا؟
کانگریس لیڈر نے انسٹاگرام پر اپنی پرانی اور نئی تصاویر شیئر کردیں۔
کرکٹر سے سیاست دان بنے نوجوت سنگھ سدھو کی وجہ شہرت ان کا زندہ دل انداز ہے، وہ عملی زندگی کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی خاصے متحرک ہیں۔
انہوں نے فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر اپنی زندگی میں آنے والی تبدیلی کے بارے میں انکشاف کر کے سوشل میڈیا صارفین کو دنگ کردیا۔ْ
سدھو نے بتایا کہ انہوں محض پانچ ماہ سے بھی کم عرصے میں اپنا 33 کلو گرام وزن کم کیا ہے۔
سابق کرکٹر نے اپنی ٹرانسفارمیشن سے پہلے اور بعد کی ایک تصویر پوسٹ کی،کیپشن میں انہوں نے بتایا کہ کس طرح ڈائیٹ، یوگا اور لمبی چہل قدمی نے انہیں فٹنس کے اس ہدف کو حاصل کرنے میں مدد کی۔
انہوں نے لکھا کہا 'پہلے اور بعد میں۔۔۔ اگست کے بعد سے پانچ ماہ سے بھی کم عرصے میں 33 کلوگرام وزن کم کر چکا ہوں'۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 'یہ سب کچھ قوتِ ارادی، عزم، عمل، یوگا کے ساتھ ڈسپلین ڈائیٹ، وزن کی ٹریننگ، اور لمبی چہل قدمی کے ذریعے ہوا تھا۔۔۔ ناممکن کچھ بھی نہیں ہے، گائیز - 'پہلا سکھ نیروگی کایا (صحت مند جسم کا ہونا سب سے بڑی نعمت ہے)'۔
یہ پوسٹ شیئر کیے جانے کے بعد سے نوجوت سنگھ سدھو کی پوسٹ کو ہزاروں لائکس اور بے شمار تبصرے مل چکے ہیں۔
انسٹاگرام صارفین نے ان کی حیرت انگیز تبدیلی پر ان کی تعریف کی اور پوسٹ کے کمنٹ سیکشن کو ہارٹ اینڈ فائر ایموجیز سے بھر دیا۔
ان کی اس تبدیلی پر جہاں صارفین نے ان کی تعریفیں کیں وہیں ان کے اپنا ڈائیٹ پلان شیئر کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
ایک صارف نے تبصرے میں لکھا کہ 'آپ اور آپ کی اہلیہ صحت کے حوالے سے ہندوستانی طریقہ کار کو اپنا کر متاثر کن مثال قائم کررہے ہیں' تو ایک کا کہنا تھا کہ 'لوگ کچھ بھی کہیں آپ اور آپ کی بیوی خوش اور صحتمند ہیں تو کافی ہے، اور کیا چاہیے زندگی میں'۔
البتہ کچھ صارفین نے ان کی تصاویر میں کوئی بڑا فرق نہ نظر آنے کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے دعوے کو جھوٹ قرار دیا تو کسی نے 33 بجائے 3.3 کلو وزن میں کمی قرار دی۔
گزشتہ سال کانگریس لیڈر نے اس دعوے کے بعد خبروں کی سرخیوں میں جگہ بنائی تھی کہ ان کی اہلیہ نوجوت کور نے ایک سادہ غذا اور طرز زندگی کے ذریعے صرف 40 دنوں میں اسٹیج 4 چھاتی کے کینسر پر قابو پالیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ نیم کے پتے، ہلدی، سیب کا سرکہ، لیموں کا سرکہ اور انٹرمیٹینٹ فاسٹنگ سے کینسر کا علاج ہو سکتا ہے، انہوں نے مزید کہا تھا کہ جسم کو خوراک کی کمی سے کینسر کے خلیات قدرتی طور پر مرنا شروع ہو جاتے ہیں۔
تاہم کینسر کے علاج سے متعلق سدھو کا یہ دعویٰ وائرل ہونے کے بعد طبی برادری اور صحت عامہ کے حامیوں کی طرف سے ردعمل کا اظہار کیا گیا تھا۔
بعدازاں سدھو نے ایک وضاحت بھی جاری کی، جس میں کہا گیا تھا کہ کینسر کے خلاف ان کی اہلیہ کی جنگ میں سرجری، کیموتھراپی، ہارمونل اور ٹارگٹڈ تھراپی، ایک سخت ڈائٹ پلان، اور بیماری سے لڑنے کا عزم بھی شامل تھا۔





