انفوٹینمنٹ

عمران خان نے نادیہ جمیل کو پولیس سے کیسے چُھڑوایا ؟

عمران خان اپنے دیگر چار دوستوں کے ہمراہ انہیں چھڑانے تھانے پہنچے

Web Desk

عمران خان نے نادیہ جمیل کو پولیس سے کیسے چُھڑوایا ؟

عمران خان اپنے دیگر چار دوستوں کے ہمراہ انہیں چھڑانے تھانے پہنچے

اسکی
اسکی

سینئر اداکارہ نادیہ جمیل نے  انکشاف کیا کہ شادی سے قبل وہ اپنے منگیتر، جو اب ان کے شوہر ہیں، کے ساتھ پولیس کے ہاتھوں پکڑی گئیں اور انہیں چھڑوانے کے لیے ان کے والد کے ہمراہ عمران خان بھی تھانے پہنچے تھے۔

انہوں نے ایک انٹرویو میں اپنے بچپن، کیریئر اور بیماری سمیت مختلف موضوعات پر کھل کر بات کی۔ گفتگو کے دوران انہوں نے بتایا کہ انہیں 18 سال کی عمر میں اپنی سہیلیوں سے ملاقاتوں کی اجازت ملی، جس کے بعد وہ دوستوں کے ساتھ باہر جا سکتی تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے شوہر کو محض 14 سال کی عمر سے جانتی ہیں اور شادی سے قبل دونوں کے درمیان ٹیلیفون پر بات چیت اور ملاقاتوں کا سلسلہ بھی جاری تھا۔ اس زمانے میں پی ٹی سی ایل کے فون ہوا کرتے تھے، اور وہ والدین سے چھپ کر منگیتر کو کال کیا کرتی تھیں، حتیٰ کہ کوشش رہتی کہ والدین کو اس بارے میں علم نہ ہو۔

ان کے مطابق 17 سال کی عمر کے بعد ان پر بچپن کی سختیاں کم ہونے لگیں اور 18 سال کی عمر میں انہیں اپنی سہیلیوں سے ملنے کی آزادی ملی۔

ایک واقعہ یاد کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ انہوں نے دوستوں سے ملنے کے بہانے اپنے منگیتر سے ملاقات کا منصوبہ بنایا۔ اس وقت ضیاء الحق کے دور میں قائم کی گئی اخلاقی پولیس، جسے ’شاہین پولیس‘ کہا جاتا تھا، نکاح کے بغیر ساتھ گھومنے والوں کو پکڑنے کے لیے سرگرم رہتی تھی۔

وہ اپنے منگیتر کے ہمراہ گاڑی میں سیر کے لیے نکلی تھیں کہ راستے میں شاہین پولیس نے انہیں روک کر گرفتار کر لیا اور تھانے لے گئی۔

 انہوں نے اور ان کے منگیتر نے پولیس کی منت سماجت کی اور حتیٰ کہ موقع پر ہی جرمانے کے طور پر سزا قبول کرنے کی درخواست بھی کی، مگر پولیس انہیں تھانے لے گئی اور نکاح نامہ نہ ہونے کے باعث حوالات میں بند کر دیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ تھانے میں پہنچنے کے بعد پولیس نے انہیں ایک کال کرنے کی اجازت دی تاکہ وہ اپنے اہل خانہ کو اطلاع دے سکیں۔ انہوں نے فوری طور پر اپنے والد کے دوست یوسف صلاح الدین کو فون کیا، جو اس وقت اپنے دوستوں کے ساتھ موجود تھے، اور ان کے ساتھ عمران خان بھی بیٹھے ہوئے تھے، جو نادیہ جمیل کے والد کے قریبی دوست تھے۔

بعد ازاں، ان کے والد، عمران خان اور ان کے چار دیگر دوست انہیں چھڑانے کے لیے تھانے پہنچے۔ جب پولیس اہلکاروں نے عمران خان کو دیکھا تو وہ حیران رہ گئے اور فوراً چائے منگوا لی۔

انہوں نے بتایا کہ اس واقعے کے کئی سال بعد جب وہ عمران خان سے ایک ٹی وی انٹرویو میں ملاقات کے لیے گئیں تو انہوں نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ جس شخص کے ساتھ پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہوئی تھیں، شادی بھی اسی سے کر لی۔