انفوٹینمنٹ

فلم انڈسٹری کو گُجر کلچر نے تباہ نہیں کیا، بابر علی

انڈسٹری کی تباہی کا ذمہ دار کوئی ایک شخص نہیں ہے، اداکار

Web Desk

فلم انڈسٹری کو گُجر کلچر نے تباہ نہیں کیا، بابر علی

انڈسٹری کی تباہی کا ذمہ دار کوئی ایک شخص نہیں ہے، اداکار

اسکرین گریب
اسکرین گریب

ماضی کے معروف اداکار بابر علی کا ماننا ہے کہ پاکستانی شوبز انڈسٹری ایک فرد کی غلطیوں کی وجہ سے نہیں بلکہ مختلف عوامل کی بنا پر زوال پذیر ہوئی۔

بابر علی نے حال ہی میں احمد علی بٹ کے پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے متعدد موضوعات پر کھل کر گفتگو کی۔ 

دوران گفتگو انہوں نے پرانے اور موجودہ دور کے فنکاروں کا موازنہ کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ نئے اداکار بھی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے ماضی میں فلم انڈسٹری میں سیاست، دوستیوں، اور گروہ بندی کے موضوعات پر بھی روشنی ڈالی اور اپنی چند فلموں پر بھی تبصرہ کیا۔ 

بابر علی نے اپنی فلم ’جیوا‘ کو اپنے کیریئر کا اہم ترین موڑ قرار دیا، اور کہا کہ اس فلم کے بعد ان کے کیریئر میں نمایاں تبدیلی آئی۔

فلم انڈسٹری کے زوال پر بات کرتے ہوئے بابر علی نے کہا کہ سید نور، شان، سعود، اور ریمبو ان کے بہترین دوست رہے ہیں اور سب نے بہترین کام کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے سعود کا وہ بیان نہیں سنا جس میں سعود نے شان اور سید نور کو فلم انڈسٹری کی تباہی کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔

 بابر علی کا ماننا ہے کہ اگر سعود نے ایسا بیان دیا ہے تو وہ ان کا ذاتی تجربہ اور رائے ہے، جس کا احترام کیا جانا چاہیے، لیکن وہ ذاتی طور پر انڈسٹری کے زوال کا ذمہ دار کسی ایک فرد یا چند افراد کو نہیں سمجھتے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی شوبز انڈسٹری مختلف وجوہات کی وجہ سے پستی کا شکار ہوئی ہے اور انڈسٹری کی ناکامی صرف کسی ایک فرد کے کردار کی وجہ سے نہیں ہے۔ 

بابر علی کے مطابق اسکرپٹ، پروڈکشن، پبلسٹی، اور وقت کی اہمیت کسی بھی انڈسٹری کی کامیابی کے لیے بنیادی عناصر ہیں لیکن پاکستانی فلم انڈسٹری میں ان پر کبھی خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ان تمام پہلوؤں کو سنجیدگی سے لیا گیا ہوتا تو آج ہم انڈسٹری کی ناکامی کا الزام کسی ایک فرد پر نہ لگاتے۔

بابر علی نے یہ بھی وضاحت کی کہ فلم انڈسٹری کو ’گجر کلچر‘ نے تباہ نہیں کیا، اگر اسکرپٹ، پروڈکشن، پبلسٹی اور وقت کی اہمیت کو مدنظر رکھا جاتا تو انڈسٹری کے حالات آج مختلف ہوتے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ بابر علی اداکار کیسے بنے؟

  پاکستانی اداکار بابر علی نے زندگی کا بڑی حقیقت بتاتے ہوئےکہا کہ شوبز انڈسٹری میں قدم رکھنے کیلئے وہ 2 سال تک پی ٹی وی کے باہر کھڑے رہے۔

بابر علی کا شمار پاکستان کے ان کامیاب اور محنتی فنکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے زندگی میں جو کچھ بھی حاصل کیا وہ اپنے بل بوتے پر حاصل کیا۔

انہوں نے جیوا، راجا پاکستانی، زیور، دولہا لیکر جاؤنگی اور بھائی لوگ جیسی کئی ایک فلموں کو اپنی اداکاری سے کامیاب بنایا مگر جب فلم انڈسٹری کا زوال شروع ہوئی تو یہ چھوٹی اسکرین (ڈرامہ) کی طرف چلے آئے، یہاں بھی اپنی محنت سے وہی مقام حاصل کیا جو فلموں میں انہیں حاصل تھا۔

آج بابر علی کا اپنے پروفیشنل کیرئیر کے بارے میں کہنا ہے کہ دنیا صرف مجھے آج ایک کامیاب اداکار کے طور پر جانتی ہے لیکن اس کے پیچھے کی میری محنت کو نہیں جانتی۔ لیکن مجھے آج بھی وہ دن یاد ہیں جب میں پی ٹی وی کے سامنے دن، رات صرف اس انتظار میں کھڑا رہتا تھا کہ کبھی تو مجھے اندر سے ہیرو کیلئے بلاوا آئے گا ۔

تو پھر یہی ہوا ایک دن مجھے کہا گیا کہ اندر آ جاؤ، جیسے ہی زندگی میں پہلی مرتبہ پی ٹی وی کے اندر داخل ہوا تو دیکھا کہ کچھ پروڈیوسرز وہاں سے گزر رہے تھے جنہوں نے مجھے دیکھتے ہی کہا کہ ہمیں ہمارا محمد بن قاسم مل گیا۔

اس کے بعد حیدر امام صاحب مجھے کمرے میں لے گئے اور اسکرپٹ میں سے کچھ لائنز پڑھنے کو کہا جو میں نے بہت ہی برے انداز میں پڑھ ڈالیں۔

جس کے بعد حیدر صاحب مجھ سے کہنے لگی کہ 15 منٹ ہیں آپ کے پاس اسے اچھے سے پڑھ لیں اور اندر دوسرے کمرے میں ہمارا بورڈ بیٹھا ہے اس کے سامنے جاندار طریقے سے یہ لائنز آپکو پڑھنی ہیں، بس پھر کیا تھا جب 13 منٹ گرز گئے تو گھر والدہ کو پی ٹی وی سے فون کرکے کہا امی 15 منٹ ملے ہیں آج مجھے۔

میری قسمت کا فیصلہ ہو گا آج۔ مزید یہ کہ ماں نے جب اپنے لاڈلے بیٹے کو پریشان حال دیکھا تو پنجابی زبان میں کہنے لگی جا بیٹا میری دعائیں تیرے ساتھ ہیں۔ تو بس پھر کیا تھا جیسے ہی میں اندر گیا تو اسکرپٹ پڑھا جو بورڈ ممبران کو بے حد پسند آیا۔ اس بورڈ میں مشی خان، فضیلہ قاضی وغیرہ وغیرہ شامل تھیں۔

واضح رہے کہ اداکار بابر علی نے 16 سال کی عمر میں شوبز انڈسٹری میں کام کرنا شروع کر دیا تھا۔