مریم نواز اور ان کے منصوبوں کی خبر نما تشہیر، صحافی برس پڑے
بڑے اردو روزناموں کے صفحہ اول پر مریم نواز کے منصوبوں کا خبر کے انداز میں اشتہار شائع ہوا۔
حکومتِ پنجاب کو خبروں کی شکل میں پاکستان کے بڑے اردو اخبارات کے صفحہ اول پر وزیراعلیٰ مریم نواز کی کارکردگی کو سراہنے والے اشتہارات شائع کروانا مہنگا پڑ گیا۔
خیال رہے کہ 25 فروری کو متعدد اردو اخبارات کے پورے صفحہ اول کو مختص کر کے اس پر وزیر اعلیٰ مریم نواز کے منصوبوںک ے بارے میں خبر وں کی شکل میں اشتہار ات شائع کروائے گئے تھے۔
سرخیوں کی صورت میں شائع کردہ ان خبر نما اشتہاروں میں پنجاب حکومت کے مختلف منصوبوں کے بارے میں تفصیل بتائی گئی تھی۔
ان میں مریم نواز کے صوبے میں کینسر اسپتال بنانے کا اعلان، فضائی ایمبولینس، نوجوان طلبہ کے لیے اسکالر شپس، زرعی پیکج اور دیگر منصوبےخبروں کی صورت میں موجود تھے۔
یہی نہیں بلکہ ان میں مریم نواز کے مختلف بیانات اور تصاویر کو بھی نمایاں جگہ دی گئی اور صفحہ اول کے آخر میں صرف ایک جگہ پر حکومت پنجاب کا نام، نعرہ لوگو اور ریلیز آرڈر نمبر شامل کیا گیا ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان اشتہارات کو اس طرز پر اخبار کا حصہ بنایا گیا کہ وہ کہیں سے اشتہار نہیں لگ رہے بلکہ خبریں ہی معلوم ہورہے ہیں۔
سرکاری اشتہار کو خبر کی طرز پر پیش کرنے اور اخبار کے پورے صفحہ اول کو وزیراعلیٰ پنجاب کی کوریج کے لیے مختص کرنے پر سوشل میڈیا صارفین اور صحافیوں کی جانب سے برہمی کا اظہار کیا گیا۔
تاہم تشہیر کا یہ سلسلہ یہاں ہی نہیں رکا بلکہ اگلے روز یعنی 26 فروری کو اخبارات کے پورے صفحے پر مریم نواز کی قد آور تصاویر نے جگہ لے رکھی ہے، ذاتی نمائش کے اس انداز کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
معروف اینکر مبشر زیدی نے حکومت پنجاب کی اس حرکت پر برہمی کا اظہار پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں شائع ہونے والے ایک صفحے کا اشتہار ساتھ شیئر کرتے ہوئے کچھ یوں کیا کہ 'حکومت کوئی بھی ہو صحافت بکنے کو تیار ہے'۔
اینکر ابصا کومل کا کہنا تھا کہ 'ان اخبار مالکان اور مدیران نے صحافت کا سر شرم سے جھکا دیا، حکومت کی چاپلوسی اور ملنے والا معاوضہ ختم ہوجائے گا لیکن کھوئی ہوئی ساکھ واپس نہیں آئے گی'۔
صحافی اور تجزیہ نگار ماجد نظامی نے ایک پوسٹ میں کہا کہ آج کے اخبارات میں حکومت پنجاب نے 60 صفحات پر اشتہارات شائع کروائے جس میں کارکردگی کے ذکر سے زیادہ مریم نواز کی مختلف پوز میں تصاویر ہیں۔
سینیئر صحافی زاہد گشکوری نے اس طریقے کو پیکا ایکٹ کے تحت قابلِ گرفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ 'یہ مجرمانہ غفلت، نااہلی، بڑے پیمانے پر عوام کو گمراہ کرنے اور میڈیا اخلاقیات کی خلاف ورزی کا سنگین معاملہ ہے، جب قانون بنانے والے اسے توڑیں گے تو قانون کی پیروی کون کرے گا'؟
صحافی ریاض الحق نے تو ایک صفحے پر شائع ہونے والے ان اشتہارات میں وزیراعلیٰ پنجاب کے ناموں کی گنتی بھی کرڈالی اور بتایا کہ ایک صفحے پر 32 مرتبہ مریم نواز کا نام چھپا ہے۔
صحافی ماجد نظامی نے مریم کے اشتہارات کا موازنہ ان کے والد نواز شریف کے دور کے اشتہار سے کرتے ہوئے ایک اور پوسٹ میں کہا کہ ' اتنے برسوں بعد شریف خاندان کے لیے وقت تھما ہوا ہے، قد آور اخباری تصاویر کا خمار ابھی تک ختم نہیں ہوا'۔
اس صورتحال پر سینیئر صحافی مظہر عباس نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ چیز اصل میں ڈس انفارمیشن ہے، یہ فیک نیوز کی قسم ہے کیوں کہ آپ اپنے قارئین کو کنفیوژ کر رہے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ کہ یہ اشتہار کی شکل میں ہوتا تو اور بھی بات تھی مگر ایسے طریقہ کار کو روکنے کی ضرورت ہے، حقیقت میں پہلا صفحہ دوسرے نمبر پر تھا اور یہ پیغام پہنچانے کا غلط طریقہ تھا۔‘



