'فراری سے رکشہ پر آگئے ہیں' محمد عامر کا رضوان پر طنز
محمد عامر نے رضوان کی کپتانی پر کڑی تنقید کی
پاکستان کرکٹ ٹیم کا چیمپئنز ٹرافی میں سفر ختم ہوچکا ہے اور سیمی فائنل میں پہچنے والی چار ٹیموں میں جگہ بنانے میں بھی ٹیم ناکام رہی ہے۔
پاکستان نے پہلے ہی میچ میں نیوزی لینڈ سے شکست کھائی، پھر بھارت سے مسلسل دوسری شکست کھانی پڑی اور پھر بنگلہ دیش کے خلاف تیسرا میچ بارش کے باعث منسوخ ہوگیا اور یوں میزبان ٹیم ٹورنامنٹ سے آؤٹ ہوگئی۔
سابق پاکستانی کرکٹر محمد عامر نے اس ناکامی پر کھل کر محمد رضوان کی کپتانی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
اسٹریٹ فارورڈ انداز میں بات کرنے کے لیے مشہور عامر نے ایک بھارتی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں رضوان اور بابر اعظم کی کپتانی کا موازنہ کرتے ہوئے طنزیہ انداز میں قہقہہ لگایا۔
انہوں نے انٹرویو میں کہا کہ رضوان فراری سے رکشہ پرآگئے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ پہلے مجھے ان کی کپتانی پسند آئی کیونکہ انہوں نے ڈومیسٹک کرکٹ اور پی ایس ایل میں قیادت کی تھی اور وہاں کامیاب بھی رہے تھے، ان کی ٹیم فائنل کھیلتی تھی لیکن پھر اچانک دو چار مہینوں میں ان کے فیصلے بدلنے لگے، مجھے نہیں معلوم کہ ایسا کیوں ہوا، یا ان کے ساتھ کیا ہوا کیونکہ میں دو چار مہینے ان کے ساتھ ڈریسنگ روم میں نہیں رہا، وہ اس طرح کیوں برتاؤ کر رہے ہیں، ان کے فیصلے عجیب لگ رہے ہیں۔
محمد عامر نے مزید کہا کہ شروع میں وہ ایک دلیر کپتان لگ رہے تھے، ایسا لگا تھا کہ وہ کچھ چیزیں بدل دیں گے لیکن پھر دو چار مہینے بعد یوں لگا جیسے وہ کرکٹ کی سمجھ سے بہت دور ہو گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سب نے کہا کہ یہ اسکواڈ ٹھیک نہیں، اس میں حقیقی اوپنرز نہیں ہیں، اسپنرز شامل کرنے چاہیے، اگر کپتان یہ کہتا ہے کہ اس کے پاس کوئی اختیار نہیں تھا، تو یہ جھوٹ ہے، اس کے پاس اختیار تھا،جس طرح رضوان کو کپتان بنایا گیا، وہ یہ فیصلے کر سکتے تھے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا، میں نہیں جانتا کیوں؟
محمد عامر نے فخر زمان کی انجری کے بعد امام الحق کو ٹیم میں بلانے کے فیصلے پر بھی تنقید کی۔
انہوں نے کہا کہ جب فخر زمان زخمی ہوئے تو انہیں ایک اضافی اسپنر شامل کرنے کا موقع ملا تھا، یہی میں کہہ رہا ہوں، جب آپ لوگوں کے احسانوں تلے دب جاتے ہیں اور ٹیم کو پیچھے رکھ دیتے ہیں، تو مسائل پیدا ہوتے ہیں، ان کے پاس موقع تھا، ان کے پاس اوپنر عثمان موجود تھا، انہیں امام الحق کی ضرورت نہیں تھی، وہ ایک اضافی اسپنر شامل کر سکتے تھے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا، انہیں جرات مند ہونا چاہیے تھا اور ان فیصلوں کی ذمہ داری لینی چاہیے تھی۔
محمد عامر نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے لیے بھی وارننگ جاری کی اور ان کے حالیہ مینجمنٹ اسٹائل پر سوالات اٹھائے۔
انہوں نے کہا کہ اگر صحیح فیصلے نہ کیے گئے تو پاکستان کرکٹ 20 سال پیچھے جا سکتی ہے۔
پاکستان کے ایونٹ سے باہر ہونے کے بعد ہر طرف سے سخت تنقید ہو رہی ہے اور شائقین بھی شدید غصے میں ہیں، کئی شائقین نے بابر اعظم اور محمد رضوان کو سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔



