کھیل

موجودہ پاکستانی ٹیم پر بحث کرتے سابق کرکٹرز آپس میں ہی لڑ پڑے

90ء کی دہائی کے بڑے اسٹارز پاکستان کیلئے کوئی بڑی مثال قائم کرکے نہیں گئے، محمد حفیط

Web Desk

موجودہ پاکستانی ٹیم پر بحث کرتے سابق کرکٹرز آپس میں ہی لڑ پڑے

90ء کی دہائی کے بڑے اسٹارز پاکستان کیلئے کوئی بڑی مثال قائم کرکے نہیں گئے، محمد حفیط

(اسکرین گریب)
(اسکرین گریب)

آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں پاکستانی ٹیم کی ناقص کارکردگی پر جہاں کئی روز سے کھلاڑیوں اور ٹیم مینجمنٹ پر تنقید جاری ہے وہیں ماضی کے کرکٹرز کے درمیان بھی لفظی چپقلش شروع ہوگئی۔

چیمپئنز ٹرافی کے دوران مختلف ٹی وی چینلز پر جاری اسپورٹس شوز میں سابق پاکستانی کرکٹرز اپنے تجزیے اور تبصرے پیش کررہے ہیں اور ایونٹ سے سب سے پہلے باہر ہونے والی میزبان پاکستانی ٹیم کو خوب آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں۔

ایسا ہی ایک اسپورٹس شو سرکاری ٹی وی چینل پر بھی جاری ہے جس میں شعیب اختر، شعیب ملک اور محمد حفیظ جیسے نامور سابق پاکستانی کرکٹرز اپنے تجزیے اور تبصرے پیش کرتے ہیں۔

حال ہی میں اس پروگرام ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں شعیب اختر کو کہتے سُنا گیا کہ 'قومی کرکٹ ٹیم میں ہمیں 90ء کی دہائی کے بڑے بڑے کرکٹ اسٹارز کا کوئی نعم البدل کیوں نہیں ملا؟ عبدالرزاق کا کوئی نعم البدل کیوں نہیں آیا؟ میرا کوئی نعم البدل کیوں نہیں آیا؟ شاہد آفریدی، وسیم اکرم، وقار، انضمام، ان سب کا نعم البدل کیوں نہیں ملا؟ 20 سال ہوگئے'۔

اس پر شعیب ملک نے طنزیہ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ 'نہیں ملے نا؟ لیکن ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2009 اور 2017 کے پلیئرز جیتے ہوئے ہیں'۔

ساتھ بیٹھے محمد حفیظ نے بھی شعیب ملک کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ '90 کی دہائی کے کرکٹرز کا میں خود بڑا فین ہوں لیکن جب پاکستان کی بات آتی ہے تو پتا چلتا ہے ان میگا سٹارز نے کوئی آئی سی سی ایونٹ نہیں جیتا، 1996، 1999 اور 2003 کے آئی سی سی ٹورنامنٹس ہم بُری طرح ہارے، لہٰذا وہ بڑے اسٹارز پاکستان کیلئے کوئی بڑی مثال قائم کرکے نہیں گئے، وہ میگا سُپر اسٹارز تھے لیکن کوئی آئی سی سی ایونٹ جیت کر ہم لوگوں کو انسپائر نہ کر سکے‘۔

محمد حفیظ کے اس بیان پر سابق فاسٹ بولر اور 90 کی دہائی میں پاکستانی ٹیم کی قیادت کرنے والے وقار یونس نے ’ایکس‘ پر پوسٹ کرتے ہوئے اپنی کارکردگی شیئر کی۔

(اسکرین شاٹ: ایکس)
(اسکرین شاٹ: ایکس)

انہوں نے اپنی کارکردگی کے اعداد وشمار سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’90 کا لونڈا‘۔

سابق کرکٹر نے ہیش ٹیگ کا استعمال کرتے ہوئے 'ناٹ بیڈ' بھی لکھا اور وسیم اکرم کو بھی پوسٹ میں ٹیگ کیا۔

کرکٹ لیجنڈز کے درمیان اِس لفظی چپقلش پر جہاں کرکٹ شائقین انتہائی پریشان نظر آرہے ہیں وہیں پاکستانی ٹیم کے مستقبل کے حوالے سے مزید مایوسی بڑھنے کا بھی اظہار کررہے ہیں۔ 

چیمپئز ٹرافی

واضح رہے کہ پاکستان کی میزبانی میں منعقدہ آئی سی سی چیمپئز ٹرافی 2025ء سے سب سے پہلے پاکستانی کرکٹ ٹیم ہی باہر ہوئی۔

ایونٹ کے میزبان ملک پاکستان کو ٹورنامنٹ کے ابتدائی 2 میچز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا جبکہ گروپ کا آخری میچ بارش کی نذر ہوگیا تھا۔

پہلے میچ میں نیوزی لینڈ سے قومی ٹیم کی شکست کے بعد آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے پانچویں میچ میں بھارت نے پاکستان کو 6 وکٹوں سے ہرا کر ایونٹ سے تقریباً باہر کردیا تھا، جسکے بعد نیوزی لینڈ کے ہاتھوں بنگلادیش کی شکست کے ساتھ ہی پاکستان کی سیمی فائنل میں جانےکی رہی سہی امیدیں بھی دم توڑ گئی تھیں اور پھر بنگلا دیش کے ساتھ قومی ٹیم کا آخری میچ بارش کی نذر ہوگیا تھا۔

بھارت اور نیوزی لینڈ ایونٹ کے فائنل میں پہنچ چکے ہیں، رواں ماہ 7 مارچ بروز اتوار کو دبئی میں ہونے والے فائنل میں بھارت کا مقابلہ نیوزی لینڈ سے ہوگا۔