انڈیا

'چھاوا' کا اثر، بھارت میں اورنگزیب کی قبر اکھاڑنے کا مطالبہ زور پکڑگیا

فلم 'چھاوا' ہندوانتہاپسندوں کے مسلم مخالف جذبات مزید بھڑکانے کا سبب بن گئی

Web Desk

'چھاوا' کا اثر، بھارت میں اورنگزیب کی قبر اکھاڑنے کا مطالبہ زور پکڑگیا

فلم 'چھاوا' ہندوانتہاپسندوں کے مسلم مخالف جذبات مزید بھڑکانے کا سبب بن گئی

(فائل فوٹو: سوشل میڈیا)
(فائل فوٹو: سوشل میڈیا)

بھارت میں مغل بادشاد اورنگزیب کے خلاف مبنی حال ہی میں ریلیز ہونے فلم 'چھاوا' ہندوانتہاپسندوں کے مسلم مخالف جذبات مزید بھڑکانے کا سبب بننے لگی۔

بھارتی ریاست مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے آج چھترپتی سنبھاجی نگر ضلع کے علاقے خلد آباد میں واقع مغل بادشاہ اورنگزیب کے مقبرے کو مسمار کرنے کے مطالبے کی حمایت کردی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم سب یہی چاہتے ہیں لیکن یہ کام قانون کے دائرے میں رہ کر کیا جانا چاہیے، کیونکہ کانگریس کہ دورِ حکومت میں اِس مقبرے کو محکمہ آثار قدیمہ کے حوالے کر کے تحفظ کی ذمہ داری سونپ دی گئی تھی۔

حال ہی میں بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ادین راجے بھوسلے، جو مراٹھا بادشاہ چھترپتی شیواجی مہاراج کی نسل سے ہیں، انہوں نے بھی اس مقبرے کو گرانے کا مطالبہ کیا تھا۔

اُن کا کہنا تھا کہ 'ایک بلڈوزر بھیج کر اس (اورنگزیب) کی قبر مسمار کر دو، وہ چور اور لٹیرا تھا'۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ جو لوگ اورنگزیب کے مقبرے پر جاتے ہیں اور اسے خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، انہیں اس مقبرے کو اپنے گھر لے جانا چاہیے، لیکن اورنگزیب کی شان میں قصیدے پڑھنے کا سلسلہ مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔

ادین راجے بھوسلے نے مطالبہ کیا کہ ان لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہئے جو چھترپتی سنبھاجی مہاراج کے بارے میں غلط بیانات دیتے ہیں۔

قبل ازیں 4 مارچ کو بی جے پی لیڈر نونیت رانا نے بھی اورنگ زیب کی قبر کو منہدم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ 'میں مہاراشٹر حکومت سے درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ جس طرح اورنگ آباد کا نام بدل کر ہمارے بھگوان سمبھاجی مہاراج کے نام پر رکھا گیا تھا، اسی طرح اورنگزیب کی قبر کو بھی مسمار کر دیا جائے'۔

اورنگزیب کا مقبرہ

مغل بادشاد اورنگزیب، جو 1707ء میں 87 سال کی عمر میں انتقال کر گئے تھے، انہیں خلدآباد میں دفن کیا گیا تھا، جو اورنگ آباد سے 25 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، یہیں 'بی بی کا مقبرہ' کے نام سے مشہور ان کی بیوی کا مقبرہ بھی موجود ہے۔

بعض تاریخی روایات کے مطابق بادشاہ اورنگزیب نے اپنی وصیت میں خواہش ظاہر کی تھی کہ انہیں خلدآباد میں دفن کیا جائے، جہاں ان کے مرشد، صوفی بزرگ سید زین الدین کی آخری آرام گاہ ہے۔ ان کی قبر سید زین الدین کے مزار کے احاطے میں موجود ہے۔

اورنگزیب نے وصیت کی تھی کہ انہیں ایک سادہ، کھلی جگہ میں دفن کیا جائے، بعد میں نظام حیدرآباد نے اُس وقت کے ہندوستانی وائسرائے لارڈ کرزن کی درخواست پر اورنگزیب کی قبر کے گرد ایک سنگ مرمر کی جالی نصب کروادی تھی۔

بھارت میں ہندوانتہاپسندی عروج پر

واضح رہے کہ بھارت میں گزشتہ چند برسوں کے دوران مسلمانوں کے خلاف پُرتشدد واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ 

انتہا پسند ہندو تنظیموں کی جانب سے ہجومی تشدد (mob lynching)، مساجد پر حملے، مسلم دکانداروں اور تاجروں کا بائیکاٹ اور مسلمانوں کو جبراً ہندو مذہب اپنانے پر مجبور کرنے جیسے واقعات عام ہوتے جارہے ہیں۔

حالیہ دنوں میں کئی بھارتی ریاستوں میں مسلمانوں کے گھر بلڈوزر سے مسمار کرنے یا مسلمان ناموں پر علاقوں اور سڑکوں کے نام تبدیل کرنے کی پالیسی کو اپنایا گیا ہے، جسے انسانی حقوق کی تنظیموں نے غیرقانونی، ظالمانہ اور متعصبانہ قرار دیا ہے۔ 

دہلی، اتر پردیش، مدھیہ پردیش، اور ہریانہ میں مسلمانوں کے خلاف پولیس کارروائیوں میں اضافے کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔

اسی طرح حجاب پہننے والی طالبات کو تعلیمی اداروں میں داخلے سے روکا گیا، جبکہ مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر اور دھمکیاں عام ہو گئی ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ جیسی تنظیموں نے بھارتی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف ہونے والے ان مظالم کو روکے اور ملک میں مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دے، تاہم بھارتی حکومت نہ صرف ان حملوں کو روکنے میں ناکام رہی ہے بلکہ بعض مواقع پر انتہا پسند عناصر کی خاموش حمایت بھی کی جاتی ہے۔