فلم / ٹی وی

کم کارڈیشین ممبئی کی سڑکوں پر گھومتےآوارہ کتوں سے گھبرا گئیں

دی کارڈیشینز سیزن 6 کی تازہ ترین قسط میں اُن کے ممبئی کے سفر کو دکھایا گیا

Web Desk

کم کارڈیشین ممبئی کی سڑکوں پر گھومتےآوارہ کتوں سے گھبرا گئیں

دی کارڈیشینز سیزن 6 کی تازہ ترین قسط میں اُن کے ممبئی کے سفر کو دکھایا گیا

فائل پکچر:گوگل
فائل پکچر:گوگل

دی کارڈیشینز سیزن 6 کے تازہ ترین قسط میں کم کارڈیشین اور کلوئی کارڈیشین کے تیز رفتار ممبئی کے سفر کو دکھایا گیا، جہاں وہ اننت امبانی اور رادھیکا مرچنٹ کی شادی میں شرکت کے لیے پہنچی تھیں۔

دونوں بہنوں نے مصروف شیڈول کے باوجود تھوڑی سی سیر و سیاحت کا وقت نکالا، جس میں جے شیٹی کے ساتھ ایک آشرم کا دورہ بھی شامل تھا لیکن ایک خاص لمحہ ایسا تھا جس نے مداحوں کو حیران بھی کیا اور ہنسنے پر بھی مجبور کر دیا

کلوئی نے وضاحت کی کہ ہم یہاں صرف 48 گھنٹوں کے لیے ہیں اور ہمارا شیڈول پہلے سے طے شدہ ہے، شادی میں جانے سے پہلے ہم کچھ مقامی مارکیٹوں کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ ہم بھارت کو جتنا ہو سکے، دریافت کر سکیں، تاہم ان کی توقعات حقیقت سے میل نہیں کھاسکیں۔

کم کارڈیشین نے تسلیم کیا کہ وہ مارکیٹ کو 1992 کی ڈزنی فلم "الہ دین" جیسا تصور کر رہی تھیں جو کہ مشرقِ وسطیٰ کے شہر "اگربہ" میں واقع ہے، بھارت میں نہیں، کِم نے سنجیدگی سے کہا کہ مجھے لگا تھا کہ یہ مارکیٹ اس جیسی ہوگی لیکن یہ تو بس عام سڑکیں ہیں، انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہی جو الہ دین میں دکھایا گیا ہے، جہاں وہ روٹی چوری کرتا ہے، مجھے لگا تھا کہ ہم وہاں جا رہے ہیں۔

اسکِمز کی بانی، جو واضح طور پر ممبئی کی گہما گہمی سے پریشان تھیں، گاڑیوں کے ہارن اور سڑک پر بھاگتے آوارہ کتوں سے گھبرا گئیں۔

انہوں نے حیرت سے کہا کہ میں ان گلیوں کے کتوں کے قریب نہیں جاتی، جس پر کلوئی نے مزاحیہ انداز میں کہا، "کم از کم یہاں ایک اسٹاربکس تو ہے'۔ 

کلوئی نے ایک اعترافی بیان میں اس تجربے کو مزاحیہ انداز میں بیان کیا اور کہا کہ یہاں رکشے چل رہے ہیں اور ہر کوئی حیران تھا کہ یہ لوگ یہاں کیا کر رہے ہیں۔

انٹرنیٹ پر لوگوں کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہو گیا کہ دو انتہائی امیر اور بااثر شخصیات، جن کے پاس ایک مکمل ٹیم موجود تھی، ممبئی آنے سے پہلے ایک سادہ گوگل سرچ تک نہ کر سکیں۔

ایک صارف نے ایکس پر تبصرہ کیا کہ کم کارڈیشین ممبئی کی کولابا کاز وے میں مایوس نظر آ رہی ہیں کیونکہ وہ سمجھتی تھیں کہ مارکیٹ الہ دین جیسی ہوگی، یہی وجہ ہے کہ امریکہ کو ایک بہتر تعلیمی نظام کی ضرورت ہے۔

کچھ لوگوں نے یہ سوچ کر تسلی دی کہ شاید یہ سب سکرپٹڈ تھا، ایک صارف نے لکھا کہ میں یہ سوچنا پسند کروں گا کہ یہ سب پہلے سے طے شدہ تھا اور کِم واقعی یہ نہیں سمجھتیں کہ مشرقِ وسطیٰ اور بھارت ایک ہی جگہ ہیں۔

آخرکار، کم اور کلوئی کا ممبئی کا یہ دورہ صرف ان کے ہائی پروفائل وزٹ کی وجہ سے ہی نہیں، بلکہ ان کی حیرت انگیز حد تک غلط توقعات کی وجہ سے بھی انٹرنیٹ پر وائرل ہو گیا۔

 جہاں ان کی الہ دین سے متاثرہ غلط فہمیاں مداحوں کو آنکھیں گھمانے پر مجبور کر رہی تھیں، وہیں ایک بار پھر کارڈیشینز نے ثابت کر دیا کہ ریئلٹی ٹی وی پر نظر آنے والی ہر چیز پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے۔