ملالہ یوسفزئی آج کل کونسی کتابیں پڑھ رہی ہیں؟
ملالہ نے حال ہی میں نئی خریدی گئی کتب کی تفصیلات شیئر کردیں
خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والی نوبیل انعام یافتہ پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی نے خواتین کے حقوق اور مثالی کردار پر مبنی نئی خریدی گئی کتب کی تفصیلات شیئر کردیں۔
دنیا بھر میں ہر سال 8 مارچ کو خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے، جبکہ امریکہ سمیت کئی مغربی ممالک میں مارچ کے پورے مہینے خواتین کے تاریخی کردار کو نمایاں کیا جاتا ہے۔
اسی مناسبت سے ملالہ یوسفزئی نے چند نئی کتابیں خریدی ہیں جنکی تفصیلات انہوں نے اپنی تازہ انسٹاگرام پوسٹ میں شیئر کیں۔
ملالہ نے لکھا کہ 'خواتین کے تاریخی کردار پر مرکوز اس مہینے میں، میں یہ چند کتابیں پڑھ رہی ہوں، میں نے نائیجیرین مصنف Chimamanda Ngozi Adichie کا نیا ناول DREAM COUNT لندن میں Daunt Books سے خریدا ہے، مصنف کو حقوق نسواں پر مبنی ادب تخلیق کرنے والی شخصیات میں ایک مرکزی حیثیت حاصل ہے، میں نے ان کے بہت سے شاندار مضامین پڑھ رکھے ہیں، تاہم پہلی بار میں ان کا ناول پڑھ رہی ہوں، میں نے ابھی اسے پڑھنا شروع کیا ہے، لہذا کوئی مجھے پہلے سے اسکی تفصیلات بتا کر مزہ کرکرا نہ کرے'۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 'رواں سال کے آغاز میں، میں نے معروف مصنفہ میری شیلی کی کتاب 'فرینکنسٹائن' کی ایک کاپی خریدی تھی، سچ کہوں تو میں نے یہ صرف اس لیے خریدی کیونکہ مجھے اسکا کور دلچسپ لگا، اُس وقت، میں نہیں جانتی تھی کہ وہ سائنس فکشن لکھنے والی ابتدائی مصنفین میں سے ایک تھیں، انکی والدہ خواتین کے حقوق کا فلسفہ بیان کرتی تھیں، اور خود شیلی نے بھی اپنے مشہور ناولوں میں حقوق نسواں کو موضوع بنایا تھا، شاید یہ بات درست ہوکہ ہمیں کسی کتاب کے بارے میں اس کا سرورق دیکھ کر رائے قائم نہیں کرنی چاہئیں، لیکن 'فرینکنسٹائن' کے معاملے میں میں نے یہ چانس لیا اور بہت کچھ سیکھا'۔
ملالہ نے مزید لکھا کہ 'اگر آپ مجھے کافی عرصے سے فالو کر رہے ہیں، تو آپ کو معلوم ہوگا کہ میں اپنا بہت سا وقت افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کے بارے میں بات کرنے اور انکے حقوق کی وکالت کرنے میں صرف کرتی ہوں، طالبان کی ظالمانہ حکومت نے خواتین کے وجود کو عملی زندگی سے مٹا دیا ہے، ان پر اسکول جانے، کام کرنے، یہاں تک کہ پارکوں میں لطف اندوز ہونے پر بھی پابندی لگا دی ہے، میں افغان لڑکیوں کیلئے ہمیشہ فکرمند رہتی ہیں، اس لیے مجھے دو آپ بیتیاں پڑھ کر کافی تسلی اور حوصلہ ملا ہے جو ان کے عزم کو ظاہر کرتی ہیں'۔
پہلی آپ بیتی کے بارے میں بتاتے ہوئے ملالہ نے لکھا کہ 'میری طرح، سولا محفوظ کی عمر 11 سال تھی جب طالبان نے ان خاندانوں کو دھمکانا شروع کیا جنہوں نے اپنی لڑکیوں کو اسکول بھیجا، اپنی آپ بیتی DEFIANT DREAMS میں وہ بتاتی ہیں کہ کس طرح انہوں نے خود اپنی مدد آپ انگریزی، فزکس اور فلسفہ پڑھا، یہ سب کچھ انہوں نے اپنے گھر تک محدود رہتے ہوئے کیا، آج وہ ٹفٹس یونیورسٹی میں کوانٹم کمپیوٹنگ پڑھ رہی ہیں، یہ جاننے کے لیے یہ خوبصورت کتاب ضرور پڑھیں کہ افغانستان میں کڑی پابندیوں مقید سولا محفوظ یہاں تک کیسے پہنچیں'۔
دوسری آپ بیتی کے بارے میں ملالہ نے بتایا کہ 'خالدہ پوپال افغانستان میں خواتین کی نیشنل فٹبال ٹیم کی پہلی کپتان تھیں، اُن سے بہتر کوئی نہیں سمجھ سکتا کہ کس طرح کھیلوں میں حصہ لینے سے خواتین کو اعتماد اور آزادی کا احساس ملتا ہے، وہ بھی ایک ایسے معاشرے میں جو ان کی ہر حرکت کو کنٹرول کرتا ہے، 2021 میں جب طالبان نے افغانستان پر قبضہ کیا تو خواتین کھلاڑیوں کی زندگیاں خطرے میں تھیں، اپنی آپ بیتی MY BEAUTIFUL SISTERS میں، خالدہ اپنی ساتھی کھلاڑیوں کو نکالنے میں مدد کرنے اور جلاوطنی میں اپنے خوابوں کو پورا کرنے کی کہانی بیان کرتی ہیں'۔
پوسٹ کے آخر میں ملالہ نے لکھا کہ 'خواتین کے تاریخ کردار پر مرکوز مہینہ مبارک ہو، براہ کرم! آپ سب بھی خواتین مصنفین کی تحریر کردہ پسندیدہ کتابوں کے بارے میں کمنٹ سیکشن میں بتائیں'۔
ملالہ یوسفزئی کون؟
یاد رہے کہ ملالہ یوسفزئی 2012 میں خواتین کی تعلیم کیلئے آواز اٹھانے پر انتہاپسند دہشتگردوں کے ایک حملے میں زخمی ہوگئی تھیں، اُس وقت وہ محض 15 سالہ اسکول طالبہ تھیں، خوش قسمتی سے وہ اس حملے میں محفوظ رہیں جس کے بعد وہ بیرون ملک چلی گئی تھیں۔
ملالہ یوسفزئی 2012ء سے برطانیہ میں مقیم ہیں، تاہم بیرون ملک جاکر بھی انہوں نے خواتین کے حقوق اور تعلیم کیلئے آواز اٹھانے کا سلسلہ جاری رکھا اور 2014ء میں انہیں نوبیل انعام سے بھی نوازا گیا۔
ملالہ اب تک نوبل، سخاروف اور ورلڈ چلڈرن پرائز سمیت 40 سے زائد بین الاقوامی اعزازات اپنے اور پاکستان کے نام کر چکی ہیں۔
ملالہ یوسف زئی اِن دنوں برطانیہ کے شہر برمنگھم میں رہائش پزیر ہیں اور آج بھی اقوامِ متحدہ سمیت دنیا کے ہر فورم پر بچوں اور بچیوں کی تعلیم کے لیے سب سے توانا اور مؤثر آواز ہیں۔
ملالہ یوسف زئی نے ہمیشہ اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ دنیا بھر میں حقیقی تبدیلی صرف تعلیم کے ذریعے ہی ممکن ہے۔




