دلچسپ و خاص

سال میں کچھ مہینے 30 اور کچھ 31 دنوں کے کیوں ہوتے ہیں؟

بادشاہ آگستس نے فروری سے ایک دن کم کرکے اسے 28 دنوں کا کر دیا

Web Desk

سال میں کچھ مہینے 30 اور کچھ 31 دنوں کے کیوں ہوتے ہیں؟

بادشاہ آگستس نے فروری سے ایک دن کم کرکے اسے 28 دنوں کا کر دیا

اسکرین گریب
اسکرین گریب

اگر آپ کیلنڈر پر غور کریں تو دیکھیں گے کہ فروری کا مہینہ صرف 28 دنوں پر مشتمل ہوتا ہے (لیپ ایئر کو چھوڑ کر)، جبکہ ستمبر اور نومبر میں 30 دن ہوتے ہیں۔ لیکن کیا آپ نے کبھی یہ سوچا ہے کہ سال کے 12 مہینے دنوں کے حساب سے برابر کیوں نہیں ہوتے؟

 کچھ مہینے 30 اور کچھ 31 دنوں کے کیوں ہوتے ہیں؟ اس سوال کا جواب جاننے کے لیے ہمیں کیلنڈر کی تاریخ پر نظر ڈالنی ہوگی۔

آج کل جو کیلنڈر ہم استعمال کرتے ہیں اسے گریگورین کیلنڈر کہا جاتا ہے۔ یہ کیلنڈر دراصل جولین کیلنڈر پر مبنی ہے، جس میں وقتاً فوقتاً کچھ تبدیلیاں کی گئی تھیں۔ جولین کیلنڈر قدیم روم میں رائج تھا۔

قدیم رومی کیلنڈر اسلامی قمری سال کی طرح تھا، جس کی تاریخیں چاند کے مہینوں پر مبنی تھیں، اور ایک سال کی لمبائی تقریباً 365.25 دنوں پر مشتمل ہوتی تھی۔ 

قدیم رومی کیلنڈر میں مہینے 29 یا 30 دنوں کے ہوتے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ قدیم روم نے ابتدائی طور پر یونان کے 10 مہینوں والے کیلنڈر کا تصور اپنایا تھا، جس میں سال کے تقریباً 60 دن شمار ہی نہیں ہوتے تھے۔

مثال کے طور پر، 738 قبل مسیح میں رومی باشندے 10 مہینے والے کیلنڈر کا استعمال کرتے تھے اور سال کا آغاز مارچ سے ہوتا تھا۔ بعد میں ان 60 دنوں کا حساب شامل کرنے کے لیے، 700 قبل مسیح میں جنوری اور فروری کے مہینے کا اضافہ کیا گیا۔ 

اس وقت، جنوری سال کا پہلا اور فروری آخری مہینہ ہوا کرتا تھا اور یہ روایت 424 قبل مسیح تک برقرار رہی۔

اس وقت کے بعد، فروری کو سال کا دوسرا مہینہ بنا دیا گیا۔ 46 قبل مسیح میں جولیس سیزر نے رومی کیلنڈر میں اصلاحات کرتے ہوئے فروری کے علاوہ باقی تمام مہینوں کو 30 یا 31 دن کا کر دیا۔

 اس کیلنڈر میں فروری 29 دنوں کا ہوتا تھا اور ہر چوتھے سال اس میں ایک اضافی دن شامل کر کے اسے 30 دن کا کیا جاتا تھا۔

لیکن پھر رومی بادشاہ آگستس نے فروری سے ایک دن کم کرکے اسے 28 دنوں کا کر دیا اور اگست کے مہینے کو 31 دن کا بنا دیا۔ تب سے سال کے 7 مہینے 31 دنوں پر اور 4 مہینے 30 دنوں پر مشتمل ہوتے ہیں، جبکہ فروری صرف 28 دنوں کا ہوتا ہے۔