صحت

شوگر کی وجوہات، آپ کی روزمرہ عادات جو خاموش قاتل بن سکتی ہیں

نیند پوری نہ کرنا بھی ذیابیطس سمیت کئی بیماریوں کا سبب بنتا ہے

Web Desk

شوگر کی وجوہات، آپ کی روزمرہ عادات جو خاموش قاتل بن سکتی ہیں

نیند پوری نہ کرنا بھی ذیابیطس سمیت کئی بیماریوں کا سبب بنتا ہے

اسکرین گریب
اسکرین گریب

شوگر کی بیماری لاکھوں افراد کو متاثر کر رہی ہے اور اس کے پھیلاؤ کی وجوہات پر غور کرنا ضروری ہے تاکہ اس سے بچاؤ کے مؤثر طریقے اپنائے جا سکیں۔

ذیابیطس کی دو بنیادی وجوہات ہیں، پہلی وجہ موروثی عوامل ہیں۔ اگر آپ کے خاندان میں والدین، دادا، دادی یا کسی اور قریبی رشتہ دار کو یہ بیماری ہے تو آپ کے لیے بھی اس کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ جینیاتی طور پر منتقل ہونے والی یہ بیماری عام طور پر احتیاط نہ کرنے کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔

دوسری اہم وجہ طرزِ زندگی میں بے اعتدالیاں ہیں۔ جدید طرزِ زندگی، جس میں جسمانی سرگرمیوں کی کمی اور غیر صحت مند خوراک شامل ہے، ذیابیطس کے بڑھنے کا ایک بڑا محرک ہے۔ درج ذیل عوامل اس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں:

بیٹھے رہنے کی عادت:

آج کل لوگ زیادہ تر دفتری کام یا دیگر مصروفیات کے سبب کئی گھنٹے بیٹھے رہتے ہیں۔ مسلسل بیٹھے رہنے سے جسم میں چربی کا ذخیرہ بڑھ جاتا ہے اور میٹابولزم سست ہو جاتا ہے، جو شوگر کے خطرے کو بڑھاتا ہے۔

غیر صحت مند خوراک:

 ہماری غذاؤں میں فاسٹ فوڈ، تلی ہوئی اشیاء اور پروسیسڈ فوڈ کا استعمال بڑھ چکا ہے، جب کہ سبزیوں اور پھلوں کا استعمال کم ہو گیا ہے۔ یہ غیر متوازن خوراک بلڈ شوگر لیول کو متاثر کرتی ہے اور انسولین کی کارکردگی کو خراب کرتی ہے۔

نیند کی کمی:

 نیند پوری نہ کرنا بھی ذیابیطس سمیت کئی بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔ دیر سے سونا اور ناکافی نیند جسم میں ہارمونز کے عدم توازن کا باعث بنتی ہے، جس سے انسولین کے خلاف مزاحمت پیدا ہو جاتی ہے۔

جسمانی سرگرمیوں کی کمی: 

ماضی کے مقابلے میں آج کے دور میں جسمانی مشقت بہت کم ہو گئی ہے۔ ہاتھ سے کام کرنے کی بجائے ہم مشینوں پر انحصار کرتے ہیں، جس کی وجہ سے جسمانی سرگرمیاں کم ہو گئی ہیں۔ پیدل چلنے کی جگہ ہم گاڑی یا موٹر سائیکل کا استعمال کرتے ہیں، سیڑھیوں کے بجائے لفٹ کا انتخاب کرتے ہیں اور ورزش کے لیے وقت نہیں نکالتے، جس کے نتیجے میں جسم میں اضافی کیلوریز جلنے کی بجائے شوگر میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔

شوگرسے بچاؤ کے لیے چند ضروری احتیاطی تدابیر بھی تجویز کیں:

روزانہ کم از کم 30 منٹ کی ورزش یا چہل قدمی کریں۔

خوراک میں فاسٹ فوڈ اور پروسیسڈ اشیاء کی بجائے سبزیاں، دالیں اور قدرتی غذائیں شامل کریں۔

وقت پر سونے کی عادت اپنائیں اور روزانہ 7 سے 8 گھنٹے کی نیند لیں۔

زیادہ دیر تک بیٹھنے سے گریز کریں اور ہر گھنٹے بعد تھوڑی چہل قدمی کریں۔

پانی کا زیادہ استعمال کریں تاکہ جسم سے فاضل مادے خارج ہوتے رہیں۔

ذیابیطس سے بچاؤ کے لیے اپنی زندگی میں توازن پیدا کرنا ضروری ہے۔ صحت مند طرزِ زندگی اپنانا، متوازن خوراک کا استعمال اور جسمانی سرگرمیوں کو روزمرہ کے معمولات کا حصہ بنانا اس بیماری سے بچنے کا بہترین طریقہ ہے۔ اگر ہم اپنی صحت پر دھیان دیں اور محتاط رہیں، تو ذیابیطس جیسی سنگین بیماری سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔