فلم / ٹی وی

امیتابھ بچن یا رجنی کانت سے میرا کوئی مقابلہ نہیں، موہن لال

ہم تمام اداکاروں کے درمیان بھائی چارہ موجود ہے، بھارتی اداکار

Web Desk

امیتابھ بچن یا رجنی کانت سے میرا کوئی مقابلہ نہیں، موہن لال

ہم تمام اداکاروں کے درمیان بھائی چارہ موجود ہے، بھارتی اداکار

فائل فوٹو:گوگل
فائل فوٹو:گوگل

ساؤتھ فلم انڈسٹری کے معروف ہدایتکار و اداکار  موہن لال کا کہنا ہے کہ ان کا رجنی کانت اور امیتابھ بچن کے ساتھ کسی قسم کا کوئی مقابلہ نہیں ہے، دونوں ہی لیجنڈ اداکار ہیں۔

موہن لال کی فلم ’امپورام ایل 2‘ کے ٹریلر کو شاندار پزیرائی ملی ہے، رجنی کانت نے بھی اس ٹریلر کو دیکھ کر ایکس پر پوسٹ میں کہا کہ ’زبردست کام ، مبارک باد، میں پوری ٹیم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں‘۔

ایک خصوصی گفتگو میں، ملیالم سپر اسٹار موہن لال کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھی اداکاروں سے ملنے والی حمایت اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کے درمیان حقیقی بھائی چارہ پایا جاتا ہے، برخلاف اس تصور کے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ مقابلے میں ہیں۔

انہوں نے ملیالم فلم انڈسٹری کے لیجنڈری اداکار مموتھی کو اپنا بھائی اور خاندان قرار دیتے ہوئے خاص طور پر امیتابھ بچن اور رجنی کانت کا ذکر کیا، جنہوں نے ان کی فلم کے ٹریلر کی دل سے تعریف کی۔

موہن لال نے کہا کہ یہ مقابلہ نہیں بلکہ سراہے جانے کا جذبہ ہے، میں نے ٹریلر امیتابھ بچن صاحب کو بھیجا، رجنی سر نے مجھے خود فون کیا اور کہا کہ یہ آپ نے کیا کر دیا اوہ میرے خدا، وہ واقعی ٹریلر سے متاثر ہوئے، یہ تعریف اس نیت سے نہیں تھی کہ وہ ہم سے بہتر کوئی اور فلم بنانا چاہتے ہیں، جو سرمایہ ہم نے فلم پر لگایا ہے، وہ صاف نظر آ رہا ہے اور یہ ایک بہت اہم چیز ہے، ایک پروڈیوسر کے طور پر، رجنی سر اس بات کو آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چاہے ہم محسوس کریں یا نہ کریں، ایک اداکار اور ہدایت کار کے درمیان خاص ہم آہنگی پیدا ہو جاتی ہے، پرتھوی جب مجھ سے کہتا ہے کہ ایک اور شاٹ درکار ہے، تو مجھے ایک قسم کا جوش محسوس ہوتا ہے کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ میں اس کے معیار پر پورا نہیں اترا اور مجھے بہتر کرنا ہے، کسی بھی ہدایت کار سے یہ سننا ایک خوبصورت احساس ہوتا ہے۔

موہن لال، جو پرتھوی راج کے والد سکمارن کے ساتھ بھی متعدد فلموں میں کام کر چکے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ عام طور پر وہ مائیک کے ذریعے ہدایات دیتا ہے لیکن اگر اسے مجھ سے کچھ کہنا ہو، تو وہ میرے پاس آ کر آہستہ سے کہتا ہے تاکہ دوسرے لوگ نہ سن سکیں، وہ کہتا ہےکہ نہیں نہیں ، تم نے اچھا کیا، لیکن مجھے کچھ اور چاہیے، ہمارے درمیان ایک زبردست ہم آہنگی ہے اور وہ مجھ سے جو چاہے کہہ سکتا ہے، وہ بہت شرارتی بھی ہے لیکن اس کی شرارت کے بارے میں میں کچھ نہیں بتا سکتا۔