سلمان خان نے بالی وڈ فلموں کی ناکامی کی وجوہات بتا دیں
سلمان خان نے بالی وڈ فلموں کی ناکامی سے متعلق دل کھول کر بھڑاس نکالی
سلمان خان کی نئی فلم ’سکندر‘ اس عید پر ریلیز ہونے والی ہے لیکن انہوں نے بالی وڈ کے ڈاؤن فال پر کھل کر بات کرتے ہوئے کہا کہ جب بیکار موویز بنیں گی تو وہ فلاپ تو ہوں گی۔
میڈیا کے سامنے بے باکی سے بات کرنے کے معاملے میں سلمان خان پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے، وہ وہی کہتے ہیں جو ان کے دل میں ہوتا ہے، چاہے وہ سننے والوں کی توقعات کے خلاف ہی کیوں نہ ہو، ایسے دور میں جب فلمی صحافی ستاروں کے رٹے رٹائے جوابات سننے کے عادی ہو چکے ہیں، سلمان آج بھی ان پرانے اچھے دنوں کی یاد دلاتے ہیں جب ستارے کھل کر اپنی رائے کا اظہار کرتے تھے۔
بدھ کے روز، اداکار نے اپنی آنے والی فلم سکندر کی تشہیر کے دوران میڈیا سے ملاقات کی اور حسبِ معمول کچھ تلخ حقائق بیان کیے۔
سلمان خان کا اپنی فلموں کی ناکامی پر تبصرہ
جب اداکار سے بالی وڈ کے باکس آفس پر چل رہے بُرے دور کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے دو ٹوک انداز میں جواب دیا کہ جب اتنی ایوریج پکچرز بنیں گی تو فلاپ تو ہوں گی ہی،جو فلمیں بن رہی ہیں وہ سب بری ہیں بشمول میری اپنی فلمیں بھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی فلم نہیں چلتی تو وہ خراب فلم ہے اور اگر وہ کامیاب ہو جائے تو وہ بہترین فلم ہے۔
2023 میں سلمان خان کی فلم ’کسی کا بھائی کسی کی جان‘ بڑی ناکامیوں میں سے ایک تھی، جو اپنی سرمایہ کاری بھی واپس حاصل نہ کر سکی۔
سلمان خان نے اس ناکامی کی ذمہ داری خود پر لیتے ہوئے کہا کہ اداکار وہ ہوتا ہے جو پوسٹر پر نظر آتا ہے سینما میں نظر آتا ہے تو اگر فلم نہیں چلتی تو قصور بھی اسی کا ہوگا۔
سلمان خان نے فلم انڈسٹری میں لکھی جا رہی کہانیوں اور فلم سازی کے معیار پر بھی بات کی۔
انہوں نے کہا آج کل وہ لوگ اپنی تسکین کے لیے لکھ رہے ہیں، وہ ڈائریکٹرز سے مقابلہ کر رہے ہیں، پروڈیوسر دوسرے پروڈیوسرز سے مقابلہ کر رہے ہیں، ہر کوئی دوسرے کو یہ دکھانا چاہتا ہے کہ فلم کیسے بنتی ہے لیکن فلم آپ کو عوام کے لیے بنانی چاہیے‘۔
انہوں نے مزید کہا ‘آپ کو کہانی ایسے لکھنی چاہیے کہ آپ خود فرنٹ لائن میں بیٹھ کر فلم انجوائے کر سکیں یہ سوچنا کہ ان کو سمجھ نہیں آئے گی بالکل غلط ہے جب آپ ایسا سوچیں گے تو آپ آڈیئنس کو چمچ سے کھلانے کی کوشش کریں گے لیکن ناظرین بہت آگے جاچکے ہیں او ٹی ٹی پلیٹ فارمز کی وجہ سے آج عوام کو ہر طرح کی فلمیں اور دنیا بھر کا سینما دیکھنے کو مل رہا ہے۔
59 سالہ اداکار نے فلم میکرز سے گزارش کی کہ وہ اچھی اور معیاری فلمیں بنائیں ، جو کہ ان کے مطابق، آج کل نہیں بن پارہیں۔
سلمان خان نے اپنے والد سلیم خان کی بات شیئر کرتے ہوئے کہا کہ آج کل فلمیں اس لیے بنتی ہیں کیونکہ کسی اداکار کی ڈیٹس مل گئی ہیں، یا کسی ہیروئن کی شادی ہو رہی ہے یا پھر کسی کے پاس فنڈنگ آ گئی ہے ایک فلم تب ہی بننی چاہیے جب آپ کے پاس بہترین کہانی ہو اس کے علاوہ کچھ نہیں۔
سلمان خان نے اپنی گفتگو کا اختتام ایک امید بھری بات پر کرتے ہوئے کہا فلمیں چاہے اچھی ہوں یا بری، یہ ملک میں سب سے زیادہ دیکھی جانے والی تفریح کا ذریعہ ہیں۔
اداکار کا کہنا تھا کہ ‘لوگ نائٹ کلب جا سکتے ہیں لیکن کتنے لوگ ایسا کرتے ہیں؟ زیادہ تر لوگ گھر بیٹھ کر فلمیں دیکھتے ہیں،انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آنے والے دنوں میں ہندی سینما کے لیے اچھے وقت واپس آئیں گے۔
فلم سکندر کے بارے میں
سلمان خان کی اگلی فلم سکندر میں ان کے ساتھ راشمیکا مندنا، کاجل اگروال، ستیاراج اور شرمن جوشی بھی نظر آئیں گے۔ یہ فلم 30 مارچ کو عید کے موقع پر سینما گھروں میں ریلیز ہوگی۔




