فلم / ٹی وی

آسکرز میں نامزد ہونیوالی فلم 'سنتوش' پر بھارت میں پابندی

فلم میں بھارتی پولیس میں میں عورتوں سے نفرت، اسلامو فوبیا اور تشدد کی تصویر کشی کی گئی تھی۔

Web Desk

آسکرز میں نامزد ہونیوالی فلم 'سنتوش' پر بھارت میں پابندی

فلم میں بھارتی پولیس میں میں عورتوں سے نفرت، اسلامو فوبیا اور تشدد کی تصویر کشی کی گئی تھی۔

فلم کی مرکزی اداکارہ کو ایشین فلم ایوارڈز میں بہترین اداکارہ کا ایوارڈ بھی ملا تھا۔
فلم کی مرکزی اداکارہ کو ایشین فلم ایوارڈز میں بہترین اداکارہ کا ایوارڈ بھی ملا تھا۔

بھارت کے سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن (سی بی ایف سی) نے تنقیدی طور پر سراہی جانے والی فلم 'سنتوش' کی انڈیا میں ریلیز کو اپنی پولیس فورس میں عورتوں سے نفرت، اسلامو فوبیا اور تشدد کی تصویر کشی کے خدشات پر روک دیا ہے۔

'سنتوش' کو برطانوی نژاد بھارتی فلم ساز سندھیا سوری نے لکھا اور ہدایت دیں جو شمالی ہندوستان کے پس منظر میں بنائی گئی ہے جس میں ایک نوجوان بیوہ کی تصویر کشی کی گئی جو پولیس فورس میں شامل ہوتی ہو کر ایک نوجوان دلت لڑکی کے قتل کی تحقیقات کرتی ہے۔

فلم کو بین الاقوامی سطح پر خاصی پذیرائی ملی ہے۔

یہ فلم بھارتی پولیس فورس کے گھناؤنے عناصر کی ایک مضبوط افسانوی تصویر کشی ہے، جس میں گہرائی میں سرائیت کرجانے والی بدسلوکی، دلتوں کے خلاف امتیازی سلوک کے علاوہ پولیس افسران کے برے رویوں اور تشدد کو نارمل بنانے کی عکاسی کی گئی ہے۔

یہ فلم بھارت میں جنسی تشدد، خاص طور پر نچلی ذات کی خواتین کے خلاف، اور ملک میں مسلم مخالف تعصب کی بڑھتی ہوئی لہر کے معاملے پر بھی روشنی ڈالتی ہے۔

'سنتوش' نے کانز فلم فیسٹیول میں اپنے ڈیبیو پر بڑے پیمانے پر پذیرائی حاصل کی جبکہ یہ آسکر کے بین الاقوامی فیچر فلم کی کیٹیگری کے لیے برطانیہ کی باضابطہ انٹری تھی اور اس سال بہترین ڈیبیو فیچر کے لیے بافٹا میں نامزد ہونے کے ساتھ ساتھ آبزرور میں 5 اسٹارز سمیت اچھے ریویوز حاصل کیے۔

فلم کی مرکزی اداکار شاہانہ گوسوامی نے حال ہی میں ایشین فلم ایوارڈز میں بہترین اداکارہ کا ایوارڈ جیتا ہے۔

یہ فلم بھارت میں بنائی گئی تھی اور اس میں مکمل طور پر ہندوستانی کاسٹ ہے جبکہ فلم کی کہانی ہندی زبان میں پیش کی گئی، جو شمالی ہندوستان کی غالب زبان ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ فلم سازوں نے ہندوستان میں فلم بنانے کے لیے اس سے قبل اسکرپٹ جمع کرایا تھا اور انہیں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔

 جنوری میں فلم کی تقسیم کے لیے بھارت کی سب سے بڑی سنیما چین سے بھی بات چیت جاری تھی۔

تاہم اب سی بی ایف سی کی جانب سے پولیس کی منفری تصویر کشی کے خدشات پر اس کی ریلیز کی منظوری نہ دینے کی وجہ سے بھارتی ناظرین اسے سینما گھروں میں دیکھنے سے محروم رہیں گے۔

فلم کی مصنفہ اور ہدایت کارہ سندھیا سوری نے سنسر کے فیصلے کو 'مایوس کن اور دل دہلا دینے والا' قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ 'یہ ہم سب کے لیے حیران کن تھا کیونکہ میں نے محسوس نہیں کیا کہ یہ مسائل ہندوستانی سنیما کے لیے خاص طور پر نئے ہیں یا دوسری فلموں نے اس سے پہلے نہیں اٹھائے تھے۔'

سنندھیا نے کہا کہ سنسر حکام نے ایک فہرست میں بنیادی کٹوتیوں کا مطالبہ کیا ہے جو اتنی لمبی اور وسیع ہے کہ ان پر عمل درآمد کرنا 'ناممکن' ہوگا۔

 قانونی پابندیوں کی وجہ سے وہ سنسر کے مطالبات کی صحیح تفصیلات نہیں بتاسکے البتہ انہوں نے کہا کہ کٹوتیوں کی فہرست اتنی لمبی تھی کہ یہ کئی صفحات پر محیط تھی۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جب کہ فلم میں پولیس کی غیر سمجھوتہ کرنے والی تصویر کشی کی گئی تھی، 'مجھے نہیں لگتا کہ میری فلم تشدد کو اس طرح سے بڑھاتی ہے جس طرح پولیس پر فوکس کرنے والی بہت سی دوسری فلموں نے کی ہے۔ اس میں سنسنی خیز کچھ بھی نہیں ہے۔'

سنسرشپ بورڈ کا یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب بھارت کے ثقافتی دائرے کو پہلے سے کہیں زیادہ بھاری پولیسنگ کا سامنا ہے، سیاسی طور پر حساس موضوعات سے نمٹنے والی فلمیں اور ٹی وی سیریز اکثر نفرت انگیز مہمات اور پولیس مقدمات کا نشانہ بنتی ہیں، یا انہیں ریلیز ہونے سے پہلے اسٹریمنگ پلیٹ فارمز سے ڈراپ کردیا جاتا ہے۔

سندھیا سوری نے اعتراف کیا کہ وہ موجودہ ماحول میں فلم کو بھارت میں ریلیز کرنے کے بارے میں 'گھبراہٹ' کا شکار تھیں لیکن اصرار کیا کہ یہ ان کے لیے انتہائی اہم ہے کہ فلم کے مسائل سے متاثر ہونے والے لوگ اسے دیکھ سکیں۔

پولیس تشدد اور تشدد بھارت میں بہت جانا پہچانا مسئلہ ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کی 2020 کی رپورٹ کے مطابق، بھارت میں پولیس معمول کے مطابق تشدد اور گرفتاری کے طریقہ کار کو کم یا بغیر کسی جوابدہی کے استعمال کرتی ہے۔