انفوٹینمنٹ

جیا بچن کی امیتابھ کے لیے یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کرنے کی اپیل

یادگاری ڈاک ٹکٹ ہے کیا؟

Web Desk

جیا بچن کی امیتابھ کے لیے یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کرنے کی اپیل

یادگاری ڈاک ٹکٹ ہے کیا؟

اسکرین گریب
اسکرین گریب

بھارتی فلم انڈسٹری کی نامور اداکارہ اور سیاستدان جیا بچن نے راجیہ سبھا سے درخواست کی ہے کہ بالی ووڈ کی دو عظیم ترین فلموں، ’شعلے‘ اور ’دیوار‘ کی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر ان کے اعزاز میں یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جائے۔

 ان دونوں فلموں میں ان کے شوہر، امیتابھ بچن نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔

جیا بچن کا کہنا ہے کہ ‘شعلے‘ اور ‘دیوار‘ نہ صرف بھارتی سنیما کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں بلکہ ان فلموں نے بالی ووڈ کی شناخت اور ارتقاء میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

1975 میں ریلیز ہونے والی یہ دونوں فلمیں امیتابھ بچن کے کیریئر کے لیے سنگِ بنیاد ثابت ہوئیں۔ ‘شعلے‘ کو ہندی سنیما کا سب سے بڑا کلاسک مانا جاتا ہے، جبکہ ‘دیوار‘ نے امیتابھ بچن کو اینگری ینگ مین  کے روپ میں فلم انڈسٹری میں امر کر دیا۔

جیا بچن نے مودی حکومت پر زور دیا کہ ان شہرہ آفاق فلموں کی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جائے تاکہ ہندوستانی سنیما کی تاریخی اہمیت کو مزید اجاگر کیا جا سکے۔

یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ اس سے قبل بھی ہندی سنیما کی معروف شخصیات جیسے ستیہ جیت رے، راج کپور ،مدھوبالا ،نرگس ،بمل رائے اور یش چوپڑا کے اعزاز میں ڈاک ٹکٹ جاری کیے جا چکے ہیں، جنہوں نے بھارتی فلم انڈسٹری میں لازوال خدمات انجام دی ہیں۔

اگر جیا بچن کی یہ درخواست قبول کی جاتی ہے، تو یہ بھارتی فلم انڈسٹری کے لیے ایک اہم سنگ میل ہوگا، جو نہ صرف ان دو شاہکار فلموں کو خراجِ تحسین پیش کرے گا بلکہ سنیما کی تاریخ میں ان کی لازوال اہمیت کو بھی تسلیم کرے گا۔

یادگاری ڈاک ٹکٹ کسی خاص موقع، شخصیت، تاریخی واقعے یا ثقافتی ورثے کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے جاری کیے جاتے ہیں۔ یہ نہ صرف ڈاک کے نظام میں استعمال ہوتے ہیں بلکہ تاریخ اور ثقافت کے عکاس بھی ہوتے ہیں۔ مختلف ممالک میں حکومتیں اہم قومی اور بین الاقوامی مواقع پر خصوصی ڈاک ٹکٹ جاری کرتی ہیں، جو یادگار حیثیت رکھتے ہیں اور اکثر نایاب ہونے کی وجہ سے ان کی قدر وقت کے ساتھ بڑھتی جاتی ہے۔

دنیا کا پہلا ڈاک ٹکٹ ‘پینی بلیک‘ (Penny Black) 1840 میں برطانیہ میں جاری کیا گیا تھا، جو ملکہ وکٹوریہ کی تصویر سے مزین تھا۔ اس کے بعد سے مختلف ممالک نے تاریخی، ثقافتی اور سائنسی کامیابیوں کو تسلیم کرنے کے لیے یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کرنے کی روایت قائم کی۔

یادگاری ڈاک ٹکٹ کی اہمیت درج ذیل پہلوؤں میں نمایاں ہوتی ہے:

تاریخ اور ثقافت کی ترویج

یہ کسی ملک کی تاریخ، ثقافت، قومی ہیروز اور اہم کامیابیوں کو محفوظ رکھنے کا ایک ذریعہ ہوتے ہیں۔

بین الاقوامی شناخت

عالمی سطح پر یہ ڈاک ٹکٹ کسی ملک کی شناخت اور اس کے نمایاں واقعات کو اجاگر کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

کلکٹرز کے لیے قیمتی سرمایہ

یادگاری ڈاک ٹکٹ جمع کرنے (Philately) کا شوق رکھنے والے افراد انہیں بطور سرمایہ رکھتے ہیں، کیونکہ وقت کے ساتھ ساتھ ان کی مالیت میں اضافہ ہوتا ہے۔

تعلیمی و تحقیقی پہلو

طلبہ اور تاریخ دان ان ٹکٹوں کے ذریعے کسی قوم کے ماضی اور ترقیاتی سفر کو سمجھنے میں مدد حاصل کرتے ہیں۔

معاشی فوائد

نایاب ڈاک ٹکٹ بین الاقوامی نیلامی میں لاکھوں روپے میں فروخت ہوتے ہیں، جو کسی ملک کے لیے مالی فوائد بھی لا سکتے ہیں۔