ٹکٹوں کی بلیک مارکیٹنگ، ٹرمپ نے نیا حکم جاری کر دیا
ان کے اس فیصلے کو کئی فنکاروں اور مداحوں نے سراہا ہے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹکٹوں کی بلیک مارکیٹنگ اور اضافی قیمتوں کے خلاف ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کردیے۔
اس آرڈر کے تحت کنسرٹس اور دیگر ایونٹس کے ٹکٹوں کی قیمتوں میں شفافیت لائی جائے گی، اور مصنوعی طور پر قیمتیں بڑھانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
وائٹ ہاؤس میں اس موقع پر معروف گلوکار اور ٹرمپ کے دیرینہ حامی کڈ راک بھی موجود تھے، جنہوں نے اس فیصلے کو مداحوں کے لیے ایک بڑی جیت قرار دیا۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ آج کل مداحوں کو اپنے پسندیدہ گلوکاروں اور فنکاروں کے کنسرٹس دیکھنے کے لیے غیر ضروری اور اضافی فیسیں ادا کرنی پڑتی ہیں، جو کہ بالکل ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹکٹوں کی قیمتیں وقت کے ساتھ اتنی زیادہ بڑھ گئی ہیں کہ اب اس مافیا کو روکنے کا وقت آ گیا ہے۔
کڈ راک نے اس بات پر زور دیا کہ آج کل ٹکٹ خریدنا ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ اگر آپ 100 ڈالر کا ٹکٹ خریدتے ہیں تو چیک آؤٹ تک یہ 170 ڈالر تک پہنچ جاتا ہے اور آپ کو یہ بھی نہیں پتہ چلتا کہ اضافی فیسیں کہاں جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ، بوٹس اور مڈل مین سسٹم میں مداخلت کرتے ہیں اور تمام اچھے ٹکٹ خرید کر انہیں 400 سے 500 فیصد زیادہ قیمت پر فروخت کرتے ہیں، جو کہ سراسر ناانصافی ہے۔
اس ایگزیکٹو آرڈر کے تحت اٹارنی جنرل اور سیکریٹری خزانہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ٹکٹوں کی دوبارہ فروخت پر لاگو تمام ٹیکس قوانین پر سختی سے عمل درآمد کریں۔ اس کے علاوہ، فیڈرل ٹریڈ کمیشن (FTC) کو بھی اس بات کی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ ٹکٹوں کی خریداری کے ہر مرحلے پر قیمتوں میں شفافیت ہو اور ان عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے جو غیر منصفانہ، دھوکہ دہی پر مبنی اور غیر مسابقتی طریقوں سے مارکیٹ پر قبضہ جمائے ہوئے ہیں۔
یہ اقدام صرف امریکی موسیقی اور تفریحی صنعت تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ اس کے اثرات بین الاقوامی سطح پر بھی محسوس کیے جائیں گے، خاص طور پر جنوبی ایشیائی کمیونٹی کے مداحوں اور بالی ووڈ کے کنسرٹس پر بھی اس کا اثر پڑے گا۔
حال ہی میں امریکہ میں ہونے والے بالی ووڈ کنسرٹس کے ٹکٹوں کی قیمتیں بے حد بڑھ چکی تھیں، اور پاکستانی و بھارتی کمیونٹی کے افراد ان ٹکٹوں کی خریداری میں مشکلات کا سامنا کر رہے تھے۔
اس ایگزیکٹو آرڈر سے اس کمیونٹی کے لیے بڑی خوشخبری آ سکتی ہے کیونکہ اس کے تحت بالی ووڈ اور جنوبی ایشیائی فنکاروں کے کنسرٹس کے ٹکٹوں کی قیمتوں میں غیر ضروری اضافے کو روکا جا سکے گا، جس سے عام مداحوں کو اپنے پسندیدہ گلوکاروں جیسے ارجیت سنگھ یا عاطف اسلم کے کنسرٹس کے ٹکٹ مناسب قیمتوں پر مل سکیں گے اور ٹکٹوں کی غیر قانونی دوبارہ فروخت کرنے والے دلالوں کا کاروبار متاثر ہو گا۔
ٹرمپ نے اس موقع پر کہا کہ یہ فیصلہ امریکی عوام کے مفاد میں ہے اور ہم ہر ممکن کوشش کریں گے کہ کسی کو ناجائز منافع خوری کی اجازت نہ دی جائے۔
ان کے اس فیصلے کو کئی فنکاروں اور مداحوں نے سراہا ہے، تاہم کچھ بڑی ٹکٹنگ کمپنیاں اس پر تحفظات کا اظہار کر رہی ہیں۔
اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ یہ نیا قانون کس حد تک کامیاب ہوگا اور کیا ٹکٹ مافیا واقعی کنٹرول میں آئے گا؟ لیکن یہ بات یقیناً کہی جا سکتی ہے کہ اب امریکی شائقین سمیت جنوبی ایشیائی کمیونٹی کے افراد بھی اپنے پسندیدہ فنکاروں کو زیادہ مناسب قیمت پر دیکھ سکیں گے، جو ایک بہت بڑی تبدیلی ثابت ہو گی۔




