عالمی منظر

ٹرمپ کا بڑا فیصلہ، دنیا کے کئی ممالک پر ٹیرف عائد

ٹرمپ کے اقدام نے عالمی تجارتی جنگ کو تیز جبکہ افراط زر میں اضافے اور ترقی رکنے کا خطرہ پیدا کردیا۔

Web Desk

ٹرمپ کا بڑا فیصلہ، دنیا کے کئی ممالک پر ٹیرف عائد

ٹرمپ کے اقدام نے عالمی تجارتی جنگ کو تیز جبکہ افراط زر میں اضافے اور ترقی رکنے کا خطرہ پیدا کردیا۔

ٹرمپ نے  ایک فہرست کے ساتھ ٹیرف کا اعلان کیا۔
ٹرمپ نے  ایک فہرست کے ساتھ ٹیرف کا اعلان کیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک سے امریکا میں درآمد کی جانے والی مصنوعات پر بھاری ٹیرف (ٹیکس) عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق درجنوں ممالک سے درآمد کی جانے والی مصنوعات پر 10 فیصد سے زیادہ ٹیرف عائد کیا گیا، جس کے سبب عالمی سطح پر تجارتی جنگ شدت اختیار کر گئی اور خطرہ  ہے کہ اس سے عالمی معاشی نمو بہت زیادہ متاثر ہوگی۔

وائٹ ہاؤس میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران امریکی صدر نے ہاتھ میں ایک فہرست اٹھائے کئی ممالک پر جوابی ٹیرف کا اعلان کیا اور کہا کہ ’بہت سے معاملات میں، تجارت کو لے کر دوست دشمن سے بھی بدتر ہیں۔‘

وائٹ ہاؤس کے روز گارڈن میں خطاب کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’یہ ہماری آزادی کا اعلان ہے۔‘

ڈونلڈ ٹرمپ نے اس دوران بتایا کہ وہ پاکستان پر 29 فیصد جوابی محصول لگانے جا رہے ہیں، ساتھ ہی بتایا کہ پاکستان کی جانب سے امریکا پر 58 فیصد ٹیرف عائد ہے۔

بھارت پر جوابی ٹیرف کا اعلان کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’وہ ہم سے 52 فیصد ٹیرف چارج کرتے ہیں اور ہم سالوں سے کچھ نہیں لے رہے ہیں۔‘

انہوں نے بھارتی وزیر اعظم ٹریندر مودی کے دورے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’وزیر اعظم (نریندر مودی) ابھی واپس گئے ہیں، وہ میرے بہت اچھے دوست ہیں لیکن میں نے ان سے کہا ہے کہ آپ کا ہمارے ساتھ سلوک اچھا نہیں ہے۔‘

امریکہ نے بھارت کے 52 فیصد ٹیرف کے جواب میں ان پر 26 فیصد جوابی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اسی طرح چینی درآمدات پر 34 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا جبکہ ٹرمپ کی جانب سے پہلے عائد کیے گئے 20 فیصد محصولات کے علاوہ مجموعی طور پر نئی درآمدات 54 فیصد تک پہنچ جائیں گی۔

جوابی ٹیرف میں امریکا نے اپنے قریبی اتحادیوں کو بھی نہیں بخشا بشمول یورپی یونین، جسے 20 فیصد ٹیرف کا سامنا ہے، اور جاپان، جسے 24 فیصدکا ہدف دیا گیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے لگائے گئے جوابی ٹیرف کے نفاذ کی تاریخیں بھی الگ الگ ہیں، ٹیکس کی کم سے کم شرح  10 فیصد ہے، جس کا نفاذ 5 اپریل جبکہ سب سے زیادہ شرح 9 اپریل سے لاگو ہوں گی۔

 وائٹ ہاؤس نے ٹیرف عائد کیے گئے ممالک کی فہرست میں روس کو  شامل نہ کرنے کا دفاع کیا اور کہا کہ ماسکو پر امریکی پابندیاں پہلے ہی ’کسی بھی معنی خیز تجارت کو روک دیتی ہیں۔‘