عالمی منظر

ٹیرفس کیا ہیں اور یہ کیوں لگائے جاتے ہیں؟

امریکی صدر نے اتحادیوں سمیت کئی ممالک پر جوابی ٹیرف لگادیے ہیں۔

Web Desk

ٹیرفس کیا ہیں اور یہ کیوں لگائے جاتے ہیں؟

امریکی صدر نے اتحادیوں سمیت کئی ممالک پر جوابی ٹیرف لگادیے ہیں۔

امریکی صدر نے آج ٹیرف کا اعلان کیا ہے۔
امریکی صدر نے آج ٹیرف کا اعلان کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بڑے پیمانے پر جوابی ٹیرفس عائد کیے ہیں جو اس کے اہم معاشی شراکت داروں کو بھی نشانہ بناتے ہیں۔

اس اقدام سے عالمی تجارتی کشیدگی میں اضافہ ہوتا نظر آرہا ہے، چین کو 34 فیصد، پاکستان کو 29 فیصد، یورپی یونین کو 20 فیصد، اور بھارت کو 26 فیصد 'رعایتی باہمی ٹیرف' کا سامنا ہے۔

ان ٹیکسز سے متاثرہ شعبوں میں آٹوموبائل، ڈیری، اسٹیل اور الیکٹرانکس شامل ہیں۔

ٹرمپ کی تجارتی لڑائیاں نئی نہیں ہیں، اپنی پہلی مدتِ صدارت کے دوران بھی انہوں نے جارحانہ طور پر چین کو ٹیرف کا نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجے میں امریکی برآمدات پر جوابی ڈیوٹی لگائی گئی۔

ٹیرف کیا ہیں؟

ٹیرف ایک ٹیکس ہے جسے حکومت دوسرے ممالک سے درآمد کردہ سامان اور خدمات پر لگاتی ہے۔ جب مصنوعات کسی ملک کی سرحدوں کو عبور کرتی ہیں، تو درآمد کرنے والا کاروبار اپنے ملک کی حکومت کو یہ ٹیکس ادا کرتا ہے۔

ٹیرف کا حساب عام طور پر آئٹم کی قیمت کی شرح کے اعتبار سے کیا جاتا ہے، جسے ایڈ ویلورم ٹیرف(Ad Valorem) کہا جاتا ہے۔

ٹیرف کیوں لگائے جاتے ہیں؟

ٹیرف لگانے کا مقصد یہ ہے کہ: درآمدی اشیا کو مزید مہنگا بنا کر مقامی صنعتوں کی حفاظت کی جائے، محصولات صارفین کو مقامی طور پر تیار کردہ مصنوعات خریدنے کی ترغیب دیتے ہیں، جو ملکی کاروبار کو غیر ملکی مسابقت سے بچاتے ہیں۔

ٹیرف حکومتوں کے لیے آمدنی کا ذریعہ فراہم کرتے ہیں، خاص طور پر ان ممالک میں جہاں ٹیکس کی دوسری شکلیں محدود ہو سکتی ہیں۔

علاوہ ازیں محصولات کو درآمدات کی حوصلہ شکنی اور برآمدات کو فروغ دے کر تجارتی خسارے کو دور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ٹیرف کون ادا کرتا ہے؟

ٹیرف درآمد کنندگان اس وقت ادا کرتے ہیں جب سامان ملک میں داخل ہوجاتا ہے لیکن لاگت عام طور پر صارفین سے وصول کی جاتی ہے۔

کاروبار اپنے منافع کو کم کر کے اس کی کچھ لاگت خود برداشت کرسکتے ہیں لیکن اکثر صارفین کو زیادہ قیمت ادا کرنا پڑتی ہے، کچھ معاملات میں برآمد کنندگان مسابقتی رہنے کے لیے اپنی قیمتیں کم کرتے ہیں۔

وقت گزرنے کے ساتھ کمپنیاں ٹیرف سے بچنے کے لیے پیداواری یونٹ کو امریکا منتقل کر سکتی ہیں۔

اسی طرح ہیں اگر کوئی دوسرا سپلائر دستیاب نہ ہو تو درآمد کنندگان بھی استثنیٰ کی درخواست کر سکتے ہیں۔

امریکی ٹیرف کیسے نافذ اور وصول کیے جاتے ہیں؟

یو ایس کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن (سی بی پی) انٹری کی تقریباً 330 بندرگاہوں پر محصولات نافذ کرتا ہے، بشمول سرحدی کراسنگ، بندرگاہیں اور ہوائی اڈے، محکمہ خزانہ ضوابط کی نگرانی کرتا ہے، لیکن سی بی پی وصولی، آڈٹ اور جرمانے کا انتظام کرتا ہے۔

درآمد شدہ اشیا کو بین الاقوامی ہم آہنگی کے نظام کے تحت عددی کوڈ ملتے ہیں، جو ٹیرف کی شرح کا تعین کرتے ہیں۔

کاروبار کسٹم کلیئرنس پر ٹیرف ادا کرتے ہیں، اور فنڈز وزارت خزانہ کے جنرل فنڈ میں جاتے ہیں۔

پروڈکٹ کی تفصیلات کا غلط اعلان کرنا - چاہے غلطی سے ہو یا دھوکا دہی سے - جرمانے کا باعث بن سکتا ہے۔

خصوصی چھوٹ

دوبارہ درآمد شدہ امریکی سامان: اگر امریکا میں بنی کسی پروڈکٹ میں بیرونِ ملک ردِ و بدل نہیں کیا جاتا ہے تو یہ ڈیوٹی فری واپس آتی ہے۔

تیار شدہ سامان: مثال کے طور پر اگر امریکی سونا بھارت کو زیور بنانے کے لیے بھیجا جاتا ہے، تو حتمی مصنوعات (سونے کی قیمت سمیت) دوبارہ داخل ہونے پر ٹیکس عائد کیا جاتا ہے۔

باہمی ٹیرف کیا ہیں؟

ایک باہمی ٹیرف وہ ہوتا ہے جب ایک ملک درآمدی ٹیکس (ٹیرف) سے میل کھاتا ہے جسے دوسرا ملک اپنے سامان پر لگاتا ہے۔

سادہ الفاظ میں، اگر ملک A ملک B سے درآمدات پر 10 فیصد ٹیرف وصول کرتا ہے، تو ملک B ملک A سے اشیا پر وہی 10 فیصد ٹیکس لگا کر جواب دیتا ہے، اس کا مقصد اقوام کے درمیان منصفانہ اور متوازن تجارت کو یقینی بنانا ہے۔

کچھ ممالک صرف مماثل شرحوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ تجارتی خسارے کی بنیاد پر ٹیرف مقرر کرتے ہیں، مثال کے طور پر امریکا نے ان قوموں پر زیادہ ٹیرف پر غور کیا ہے جن کے ساتھ اس کا تجارتی فرق ہے، جس کا مقصد اسے درست کرنا ہے کیوں کہ وہ اسے غیر منصفانہ تجارت کے طور پر دیکھتا ہے۔