وہ ممالک جہاں سیاحوں کا نازیبا لباس پہننا سنگین جرم ہے
خلاف ورزی پر جیل بھی بھیجا جاسکتا ہے اور ملک بدر بھی کیا جاسکتا ہے
دنیا بھر میں سیاحت کی بڑھتی ہوئی لہر کے ساتھ کئی ممالک اب اپنی ثقافتی شناخت اور معاشرتی آداب کے تحفظ کے لیے سیاحوں سے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کا تقاضا کر رہے ہیں۔
لباس کے یہ ضابطے صرف مذہبی یا تہذیبی بنیادوں پر نہیں بلکہ مقامی لوگوں کی عزت نفس اور مقام کی حرمت کو محفوظ بنانے کی کوشش بھی ہیں۔
آئیے اُن ممالک پر نظر ڈالتے ہیں جہاں نازیبا لباس پہننے پر سیاحوں کو سنگین نتائج بھگتنے پڑسکتے ہیں۔
کروشیا
یورپ کے حسین ملک کروشیا کے جزیرے ہوار (Hvar) میں سیاحوں کے لباس سے متعلق سخت قوانین نافذ ہیں۔
وہاں کوئی بھی شخص اگر ساحل یا پول ایریا سے باہر بکنی، زیرجامہ یا بغیر قمیض کے گھومتا پایا گیا تو اس پر 600 یورو تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
مقامی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام صرف شرافت یا حیا کے تحفظ کے لیے نہیں بلکہ جزیرے کے پرامن ماحول اور مقامی ثقافت کی حفاظت کے لیے ہے۔
ترکیہ
ترکیہ طویل عرصے سے سیاحوں کی پسندیدہ منزل رہا ہے، یہاں کے خوبصورت ساحل اور تاریخی مقامات لوگوں کو اپنی جانب کھینچتے ہیں۔
اگرچہ سیاحتی علاقوں میں لباس کی آزادی موجود ہے، مگر مساجد میں سخت ڈریس کوڈ لاگو ہوتا ہے۔
خواتین کو سر ڈھانپنا اور مردوں کو مکمل پینٹ پہننا لازمی ہوتا ہے، بیشتر مساجد میں سر ڈھانپنے کے لیے چادریں مفت فراہم کی جاتی ہیں، اگر کوئی سیاح ان قوانین پر عمل کرنے سے انکار کردے تو اسے مسجد سے باہر نکالا جا سکتا ہے۔
یونان
یونان کے مقدس مقامات جیسے میٹیورا خانقاہیں (Meteora Monasteries) لباس کے حوالے سے انتہائی حساس ہیں۔
یہاں مرد و خواتین دونوں کو مکمل اور لمبا لباس پہننا لازم ہے، بغیر آستینوں والی شرٹس یا شارٹس کی اجازت نہیں، اصولوں کی خلاف ورزی کی صورت میں داخلے کی اجازت نہیں ملتی۔
اس کے علاوہ یونان نے کئی تاریخی مقامات پر نوکدار ہیل والے جوتے پہننے پر بھی پابندی لگا رکھی ہے تاکہ ان کی قدیم تعمیرات کو نقصان نہ پہنچے۔
اسپین
اسپین میں بارسلونا اور مالورکا جیسے مشہور سیاحتی مقامات پر اگر کوئی شخص سوئمنگ سوٹ یا شارٹس میں شہر کی گلیوں میں گھومتا نظر آئے تو اسے 100 سے 300 یورو تک کا جرمانہ بھرنا پڑ سکتا ہے۔
بیچ اور پبلک سوئمنگ پولز کے قریبی علاقوں میں تو یہ لباس قابل قبول ہے، مگر شہری مراکز میں یہ لباس 'بدتمیزی' اور 'غیرمہذب' سیاحتی رویوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
تھائی لینڈ
تھائی لینڈ میں گرینڈ پیلس جیسے شاہی مقامات اور مندروں میں مخصوص ڈریس کوڈ کی پابندی سختی سے نافذ ہے۔
یہاں کندھے اور گھٹنے ڈھانپنا ضروری ہے اور چست یا بےحد عریاں لباس پہننے پر ممانعت ہے۔
ضوابط کی خلاف ورزی پر داخلے سے روک دیا جاتا ہے اور بعض اوقات جرمانے بھی عائد کیے جاتے ہیں۔
مراکش
اگرچہ مراکش میں گلف ممالک جتنی سختی نہیں ہے لیکن یہاں بھی دیہی علاقوں اور مذہبی مقامات پر لباس کے معاملے میں احتیاط کی توقع کی جاتی ہے۔
یہاں جانے والی سیاح خواتین کو اپنے بازو اور ٹانگیں ڈھانپنی چاہییں جبکہ مرد و خواتین دونوں کو چست لباس سے گریز کرنا چاہیے۔
خلاف ورزی پر یہاں جرمانے عائد کرنے کا رواج عام نہیں ہے لیکن سماجی طور پر اسے ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے اور اہم مقامات میں داخلے پر پابندی کا سامنا ہو سکتا ہے۔
متحدہ عرب امارات (یو اے ای)
دبئی اور ابوظہبی جیسے شہروں میں عوامی مقامات پر شائستہ لباس پہننا لازم ہے، شاپنگ مالز، میوزیمز اور سرکاری دفاتر میں کندھے اور گھٹنے ڈھانپنا ضروری ہے۔
سوئمنگ سوٹ صرف بیچ یا سوئمنگ پولز کے لیے مخصوص ہے، خلاف ورزی پر 2000 درہم (تقریباً 545 امریکی ڈالر) تک جرمانہ ہو سکتا ہے اور بار بار خلاف ورزی پر جیل بھی بھیجا جاسکتا ہے اور ملک بدر بھی کیا جاسکتا ہے۔
سعودی عرب
'ویژن 2030 اصلاحات' کے تحت سعودی عرب میں خواتین کے لیے عبایا پہننا اب کچھ علاقوں میں لازم نہیں رہا، مگر اب بھی یہاں کے سماجی اقدار اور مذہبی حساسیت لباس کے معاملے میں سخت ہیں۔
تنگ لباس، شارٹس یا بغیر آستینوں والی قمیضیں مرد و خواتین دونوں کے لیے ناپسندیدہ ہیں، خلاف ورزی پر عوامی سرزنش، جرمانے یا گرفتاری کا بھی سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔



