ٹیکنالوجی

ایلون مسک کے روبوٹک سرجری کے دعوے

کیا انسانوں کو پیچھے چھوڑ دیں گے؟

Web Desk

ایلون مسک کے روبوٹک سرجری کے دعوے

کیا انسانوں کو پیچھے چھوڑ دیں گے؟

اسکرین گریب
اسکرین گریب

ارب پتی شخصیت ایلون مسک کا روبوٹس کے حوالے سے نیا دعویٰ خطرے کی گھنٹی بن گیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایلون مسک نے کہا ہے کہ آئندہ پانچ سالوں میں روبوٹس انسانوں کے بہترین سرجنز کو پیچھے چھوڑ دیں گے۔

 ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے مزید وضاحت کی کہ ان کی کمپنی نیورالنک دماغ میں باریک الیکٹروڈز لگانے کے لیے روبوٹس کا استعمال کر رہی ہے، کیونکہ یہ کام انسانوں کے لیے بہت پیچیدہ اور مشکل ہے۔

انہوں نے اپنے ایک سوشل میڈیا پیغام میں لکھا کہ چند سالوں میں روبوٹس انسانی سرجنز سے زیادہ مہارت حاصل کر لیں گے اور پانچ سال میں یہ سب سے بہترین سرجنز سے بھی آگے نکل جائیں گے۔

 ایلون مسک کے مطابق نیورالنک کو روبوٹ کی مدد اس لیے لینی پڑی کیونکہ انسان مطلوبہ رفتار اور درستگی کے ساتھ یہ پیچیدہ کام نہیں کر سکتے۔

یہ دعویٰ ایلون مسک نے اس وقت کیا جب سوشل میڈیا پر مشہور شخصیت ماریو نوفال نے امریکی میڈیکل کمپنی ‘میڈرونک‘ کی کامیابی کا ذکر کیا۔ اس کمپنی نے اپنے ‘ہیوگو‘ نامی روبوٹک سسٹم کو 137 سرجریوں میں کامیابی سے استعمال کیا، جن میں مثانے، گردے اور پروسٹیٹ کے آپریشن شامل تھے۔

 ان سرجریوں کے نتائج ڈاکٹروں کی توقعات سے بھی بہتر آئے، اور کامیابی کی شرح 98 فیصد سے زیادہ رہی۔ اس کے علاوہ، پیچیدگیوں کی شرح بھی خاصی کم دیکھی گئی۔

دوسری جانب، ایلون مسک کی کمپنی نیورالنک اس وقت اپنی برین کمپیوٹر ٹیکنالوجی کا کلینیکل ٹرائل کر رہی ہے، جس کا مقصد فالج یا دماغی بیماریوں میں مبتلا افراد کو اپنے دماغ کے ذریعے اشیاء کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت دینا ہے۔

 اب تک تین افراد کو کامیابی سے نیورالنک کے دماغی امپلانٹس لگائے جا چکے ہیں، تاہم یہ ٹیکنالوجی ابھی عام لوگوں کے لیے دستیاب نہیں ہے۔