اقرا کہے تو اداکاری چھوڑ کر گھر بیٹھ جاؤں گا، یاسر حسین
میں نہیں چاہتا کہ اقرا مشہور ادکارہ ہے تو میں اس کے ساتھ ڈراموں میں آتا رہوں، یاسر حسین
نامور اداکار، ہدایتکار اور اسٹیج آرٹسٹ یاسر حسین نے کہا ہے کہ اگر اُن کی اہلیہ و معروف اداکارہ اقرا عزیز کو ان کی ضرورت ہو تو وہ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اپنے ایکٹنگ کیریئر سے وقفہ لیکر بیٹے (کبیر) کی دیکھ بھال کیلئے گھر بیٹھنے کو تیار ہیں۔
انہوں نے یہ بات ایک حالیہ انٹرویو میں 'عرب نیوز' سے گفتگو کے دوران کہی، جس میں انہوں نے اپنے خاندانی اور پیشہ ورانہ زندگی کے توازن پر روشنی ڈالی۔
یاسر اور اقرا پاکستان کی شوبز انڈسٹری کی مقبول ترین جوڑیوں میں سے ایک ہیں، دونوں کی شادی دسمبر 2019 میں ہوئی تھی، اس سے قبل یاسر حسین نے لکس اسٹائل ایوارڈز کے دوران اسٹیج پر اقرا کو سب کے سامنے شادی کی پیشکش کی تھی۔
جولائی 2021 میں ان کے ہاں بیٹے کبیر کی پیدائش ہوئی، جس کے بعد سے یہ جوڑا اپنے مصروف شیڈول کے باوجود ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی میں ہم آہنگی برقرار رکھے ہوئے ہے۔
اِن دنوں اقرا عزیز مقبول ڈرامہ سیریل 'پیرڈائز' میں مرکزی کردار نبھا رہی ہیں، جبکہ یاسر حسین کراچی آرٹس کونسل میں اسٹیج ڈرامہ 'منکی بزنس' میں بطور ہدایتکار اور اداکار جلوہ گر ہیں۔
دونوں کی فنی راہیں ایک ہی شعبے سے ہونے کے باوجود مختلف رہی ہیں، جہاں اقرا نے زیادہ تر ٹیلی ویژن ڈراموں پر توجہ مرکوز رکھی ہے، وہیں یاسر نے تھیٹر اور ہدایتکاری کی طرف رجحان رکھا ہے۔
یاسر حسین نے انٹرویو میں کہا کہ 'اگر آج اقرا کہہ دے کہ میں ایک فلم کر رہی ہوں اور تم اپنا سب کچھ چھوڑ کر کبیر کی دیکھ بھال کرو، تو میں سب کچھ چھوڑ دوں گا، میرے لیے میرا بچہ سب سے پہلے ہے'۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ شادی اور والد بننے کے بعد ان کی شخصیت میں خاصا مثبت بدلاؤ آیا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ 'میں شادی سے پہلے بہت زیادہ ہائپر تھا، لیکن اب مجھ میں ایک اچھا بدلاؤ آیا ہے، اور مجھے یہ پسند بھی آ رہا ہے'۔
یاسر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ چونکہ وہ دونوں میاں بیوی ایک ہی شعبے سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے وہ ایک دوسرے کے کام کے تقاضوں کو بہتر انداز میں سمجھ پاتے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ 'اگر میری شادی کسی ڈاکٹر سے ہوتی، اور وہ میرے شعبے کو نہ سمجھتی یا میں اُس کے کام کو نہ سمجھتا، تو شاید ہمارے درمیان مسائل ہوتے لیکن ہمیں معلوم ہے کہ شوٹنگ کے اوقات کیسے ہوتے ہیں، تھیٹر میں وقت کیسے لگتا ہے، اس لیے ہم ایک دوسرے کی بےحد معاونت کرتے ہیں'۔
یاسر حسین نے بتایا کہ وہ پیشہ ورانہ حدود کا خیال رکھتے ہیں اور دانستہ طور پر اقرا کے ساتھ اسکرین پر رومانوی کردار ادا کرنے سے گریز کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 'میرے اور اقرا کے درمیان تقریباً 10 یا 11 سال کا فرق ہے، میں نہیں چاہتا کہ وہ مشہور ادکارہ ہے تو میں اس کے ساتھ ڈراموں میں آتا رہوں، میں چاہتا ہوں کہ وہ اپنے ہم عمر اداکاروں کے ساتھ کام کرے تاکہ اس کی اسکرین ایج بلاوجہ نہ بڑھے'۔
اگرچہ ماضی میں دونوں نے ڈرامہ 'جھوٹی' میں ایک ساتھ کام کیا تھا جب وہ منگنی کے بندھن میں بندھے ہوئے تھے اور بعد ازاں' ایک تھی لیلیٰ' نامی منی سیریز میں بھی انہوں نے ساتھ کام کیا تھا، جسکی ہدایتکاری یاسر حسین نے کی تھی لیکن یاسر کا کہنا ہے کہ وہ ازدواجی کیمسٹری کو اسکرین پر دکھانے کے حق میں نہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ 'شادی ایک بہت ذاتی رشتہ ہے، اور میں نہیں چاہتا کہ وہ کیمسٹری کسی ٹی وی ڈرامے میں نظر آئے'۔
یاسر نے یہ بھی واضح کیا کہ دونوں فنکار ہونے کے باوجود، وہ ایک دوسرے کے کیریئر فیصلوں میں مداخلت نہیں کرتے۔
انہوں نے بتایا کہ 'ہماری ایک انفرادی زندگی بھی ہے، ہم ایک دوسرے کی پروفیشنل چوائسز پر اثرانداز نہیں ہوتے'۔
تاہم یاسر نے یہ ضرور کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اقرا ہلکے پھلکے اور مثبت کرداروں میں کام کرے اور ایسے سنجیدہ یا ڈارک کریکٹرز سے اجتناب کرے جن سے اقرا کی پرجوش اور خوش مزاج شخصیت کا تاثر متاثر ہو۔
اُن کا کہنا تھا کہ میں نہیں چاہتا کہ اقرا 'جاوید اقبال'، 'ٹیکسالی گیٹ' یا میرے لاہور میں چلنے والے پراجیکٹ 'خطرناک' جیسے ڈارک کریکٹرز ادا کرے، وہ ایک بہت خوش مزاج شخصیت کی مالک ہے، میں نہیں چاہتا کہ اس کی امیج متاثر ہو'۔






