پاکستان

ملالہ یوسفزئی نے اپنے والدین کی سالگرہ یادگار بنا دی

ملالہ نے اپنے والدین کی سالگرہ کی خوبصورت جھلکیاں پیش کیں

Web Desk

ملالہ یوسفزئی نے اپنے والدین کی سالگرہ یادگار بنا دی

ملالہ نے اپنے والدین کی سالگرہ کی خوبصورت جھلکیاں پیش کیں

ملالہ یوسفزئی نے اپنے والدین کی سالگرہ یادگار بنا دی

نوبل انعام یافتہ پاکستانی خاتون ملالہ یوسف زئی نے اپنے والدین کی سالگرہ کی خوشیوں کو دوبالا کردیا۔

ملالہ یوسف زئی نے فوٹو اینڈ ویڈیو ایپ انسٹاگرام پر مختلف مناظر پر مشتمل ایک خوبصورت ویڈیو شیئر کی جس کے ساتھ وہ والدین کو سالگرہ کی مبارکباد دیتی نظر آئیں۔

اس موقع پر ان کے دونوں بھائی خوشحال یوسفزئی اور اٹل خان بھی موجود تھے۔

اس خوبصورت ویڈیو میں ملالہ نے تصویری جھلکیاں دکھائی تھیں جس میں ملالہ نے والدین کے دیسی اسٹائل میں سالگرہ کو سیلبریٹ کرنے کا کیپشن بھی دیا۔

ان کے والدین کے سر پر برتھ ڈے کیپس اور اور ہاتھوں میں غبارے تھے جن پر سالگرہ مبارک لکھا ہوا تھا جبکہ ملالہ ان کے پیچھے کھڑی نظر آرہی تھیں۔

اگلی تصویر میں ملالہ کے والدین ایک ساتھ نظر آئے جس میں ملالہ کے والد نے برتھ ڈے کیپ پھر سے پہن رکھا تھا۔

ملالہ نے ایک اور خوبصورت تصویر میں اپنے والدین کو خوبصورت انداز میں دکھایا جس میں وہ ساتھ کھڑے تھے۔

ایک دوسری تصویر میں ان کے والد ضیاالدین یوسفزئی اور والدہ تور پکئی یوسفزئی اپنے بیٹے خوشحال یوسف زئی کے ساتھ موجود تھے ۔

ملالہ نے اس کے بعد ایک فیملی پکچر شیئر کی جس میں وہ ، ان کے والدین اور دونوں بھائی ساتھ موجود تھے ۔

ایک تصویر میں ملالہ کے والدین اپنا برتھ ڈے کیک کھاتے نظر آئے اور پھر ایک ویڈیو میں ضیا الدین یوسف زئی اپنی بیٹی کو محبت بھرا بوسہ دیتے دکھائی دیے ، ملالہ تصویر کھنچواتے وقت بے ساختہ ہنس بھی پڑی تھیں۔

ملالہ نے اس ویڈیو کا کریڈٹ بطور ڈائریکٹر خود ہی کو دیا جبکہ ویڈیو گرافی کا کریڈٹ اپنے بھائی خوشحال کو دے دیا، اسی میں ملالہ نے ماڈلز کے ناموں کی جگہ ’موم اینڈ ڈیڈ ‘ لکھا ہوا تھا۔

ملالہ نے اس خوبصورتی کے ساتھ اپنے والدین کے ساتھ یہ قیمتی لمحات قید کیے کہ مداح بھی تعریف کیے بنا نہیں رہ سکے اور انہوں نے بھی ملالہ کے والدین کو سالگرہ کی مبارکبادیں دیں۔

گزشتہ ماہ ہی ملالہ یوسفزئی نے 13 سال کے طویل وقفے کے بعد اپنے آبائی علاقے سوات کا دورہ کیا تھا جہاں 2012 میں طالبان نے ان کو حملہ کرکے شدید زخمی کردیا تھا۔

اس دورے کے موقع پر انہوں نے اپنے خاندان کے افراد سے ملاقات کی اور اپنے مقامی تعلیمی اداروں کا بھی جائزہ لیا۔

ملالہ یوسفزئی کے بارے میں تفصیلات:

12 جولائی 1997 میں پیدا ہونے والی ملالہ یوسف زئی کو شہرت اس وقت حاصل ہوئی جب انہوں نے سوات میں طالبان کے خلاف آواز بلند کی، اس وقت طالبان لڑکیوں کے اسکولوں کو تباہ کررہے تھے۔

ملالہ نے ایک فرضی نام ’گل مکئی کی ڈائری ‘ کے عنوان سے بی بی سی پر ایک ڈائری لکھنا شروع کی جس میں انہوں نے مقامی لوگوں کے ساتھ پیش آنے والے مسائل کا ذکر کیا ۔

9 اکتوبر 2012 کو طالبان نے انہیں اسکول جاتے ہوئے فائرنگ کرکے شدید زخمی کردیا، ان کے سر پر بھی گولی لگی، انہیں پہلے مقامی اسپتال لے جایا گیا پھر انہیں ائیرایمبولینس کے ذریعے لندن بھیجا گیا جہاں ان کی زندگی بچائی گئی۔

2014 میں ملالہ کو نوبیل امن انعام سے نوازا گیا اور وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والی سب سے کم عمر شخصیت بن گئیں۔

انہوں نے ’ملالہ فنڈ‘قائم کیا، جو دنیا بھر میں لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ کے لیے کام کرتا ہے

آج ملالہ کا نام پوری دنیا میں لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے جانا جاتا ہے اور وہ لڑکیوں کی تعلیم کے حق کے لیے مکمل فعال نظر آتی ہیں۔