فلم / ٹی وی

’پرورش‘ دیکھنے کی وجوہات جانیے

پرورش کو بگ بینگ انٹرٹینمنٹ نے پروڈیوس کیا

Web Desk

’پرورش‘ دیکھنے کی وجوہات جانیے

پرورش کو بگ بینگ انٹرٹینمنٹ نے پروڈیوس کیا

پرورش  کو بگ بینگ انٹرٹینمنٹ نے پروڈیوس کیا
پرورش کو بگ بینگ انٹرٹینمنٹ نے پروڈیوس کیا

 پرورش ایک ایسا ڈرامہ ہے  جو روایتی کہانیوں سے ہٹ کر نئی نسل کی زندگی، ان کے چیلنجز، اور ایک مشترکہ خاندانی نظام میں رہنے کے تجربات کو بیان کرتا ہے۔ 

’پرورش’ صرف ایک ڈرامہ جو کہ صرف تفریح نہیں بلکہ زندگی کی حقیقتوں کا عکاس ہے۔

پرورش  کو بگ بینگ انٹرٹینمنٹ نے پروڈیوس کیا جبکہ کرن صدیقی نے تحریر کیا، ہدایت کاری کے فرائض انجام دیے ہیں میثم نقوی نے۔ یہ ڈرامہ ہر پیر اور منگل کی رات 8 بجے نشر کیا جاتا ہے۔

یہ کہانی تین نسلوں پر مشتمل ایک خاندان کی ہے، جہاں ایک چھت کے نیچے مختلف نظریات، رویے، اور مزاج آپس میں ٹکرا رہے ہیں۔

’پرورش‘ تین نسلوں پر مشتمل ایک خاندان کی کہانی ہے جو ایک ہی چھت کے نیچے رہنے کے چیلنجز سے دوچار ہے، جب بیرون ملک مقیم دو بھائیوں میں سے ایک جہانگیر   اپنی فیملی کے ساتھ ہمیشہ کے لیے پاکستان واپس آ جاتا ہے۔ پھر شروع ہوتا ہے کزنز اور بھابھیوں کا اکٹھا رہنا، وہ بھی دادی اور دادا کی خاموش اور جانبدار نظروں کے سامنے۔

لیکن بس یہ ہی نہیں، ڈرامے میں مایا اور اس کی فیملی کا بھی اہم کردار ہے جو ایک میڈیکل اسٹوڈنٹ بننے کا خواب رکھتی ہے، لیکن اُس کا والد اپنی بیٹیوں کی جلد شادی کرانے کے حق میں ہے، اور والدہ شادی شدہ زندگی سے نالاں ہے۔

 چار اقساط کے بعد، ’پرورش’ نے ناظرین کی دلچسپی حاصل کر لی ہے، خاص طور پر جنریشن گیپ، فیملی پریشرز اور بیرونِ ملک سے آنے والے کزنز کے کلچر شاک کے حوالے سے۔

ناظرین ایک طرف تو بیرونِ ملک سے آنے والے بچوں کی مشکلات سے جُڑ رہے ہیں، تو کچھ لوگ اس بات پر سوال اٹھا رہے ہیں کہ ان کے لہجے زیادہ غیرملکی کیوں نہیں؟

 جبکہ کچھ محض عینا آصف اور ثمر جعفری کو دوبارہ اسکرین پر ساتھ دیکھ کر خوش ہو رہے ہیں۔ ابوالحسن (ابولوگرافی) کی موجودگی اور دیگر اداکاروں کی عمدہ کارکردگی نے ڈرامے کو ’جین زی‘ سے متعلقہ فیملی ڈراما بنا دیا ہے ۔

ڈرامہ نوجوانوں پر دباؤ، تعلیم، جوائنٹ فیملی کے مسائل، پارٹ ٹائم جابز اور اسٹوڈنٹ لائف جیسے موضوعات پر بھی روشنی ڈالتا ہے۔ ان بچوں کے لیے جو اپنی پوری زندگی بیرونِ ملک گزار کر اچانک پاکستان آ جاتے ہیں، ایک زبردستی کا کلچرل جھٹکا ہوتا ہے۔

 جیسا ڈرامے میں انیہ کو لڑکیوں کے اسکول بھیجا جا رہا ہے کیونکہ اُس کے والد  اُن والدین میں سے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ اگر بچوں کو واپس ’اصل ثقافت‘ میں نہ لایا جائے تو وہ برباد ہو جائیں گے۔ لیکن حقیقت میں شاید پاکستان کا تعلیمی نظام اُن کے بچوں کے لیے زیادہ چیلنجنگ ہو  اور خود اُن کے لیے بھی۔

ولی کا کردار نبھانے والے ثمر جعفری اس اچانک تبدیلی سے بہت ناخوش ہیں جیسے کہ اکثر بیرونِ ملک پلے بڑھے پاکستانی بچے ہوتے ہیں۔ اُسے اپنی گرل فرینڈ کی یاد ستاتی ہے، اور وہ چپکے چپکے گٹار بجاتا ہے کیونکہ اُس کے والد نے اُس پر پابندی لگا رکھی ہے۔ 

 اُسے اپنے  پاکستانی کزن سمیر (ابوالحسن) کے ساتھ کمرہ شیئر کرنا پڑتا ہے، جس سے شروع میں جھگڑے اور زبانی تکرار بھی ہوتی ہے۔

ادھر گھر کی خواتین بھی اپنی اپنی جگہ پر جدوجہد میں مصروف ہیں۔ پاکستانی بہو کچن اور مصالحے پیسنے میں لگی ہے، جبکہ بیرونِ ملک سے آئی بہو بس دن گن رہی ہے کہ کب اُس کا شوہر پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ کرے۔ بڑے بھائی جہانگیر اور سلمان کے تعلقات میں بھی پرانی رقابت، حسد اور دادی دادا کی جانب داری دکھائی دیتی ہے۔

اس ڈرامے کی سب سے بڑی کامیابی اس کا کاسٹنگ ڈیپارٹمنٹ ہے، جہاں ہر کردار کی عمر اور کردار کے ساتھ مطابقت رکھی گئی ہے۔

نعمان اعجاز ایک روایتی، سخت مگر فکر مند باپ کے طور پر بہترین پرفارمنس دیتے ہیں۔

سویرا ندیم کے کردار میں وہ عورت جھلکتی ہے جو نئی زندگی میں جمنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔

ثمر جعفری اور عینا اسف کی کیمسٹری، چاہے وہ دوستانہ ہو یا تناؤ بھری، ناظرین کو بہت پسند آ رہی ہے۔

عبدلاالحسن (سمیر ) نے اپنے مزاحیہ اور جذباتی دونوں پہلوؤں سے دل جیت لیے ہیں۔

پرورش ایک ایسا ڈرامہ ہے جو ہر عمر کے ناظرین کو کچھ نہ کچھ سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ یہ نہ صرف نوجوان نسل کے لیے ریلیٹ ایبل ہے، بلکہ والدین کے لیے بھی ایک آئینہ ہے۔

اس ڈرامے کی کاسٹ میں ثمر جعفری، عینا آصف، نعمان اعجاز، سویرا ندیم، شمیم ہلالی، سعد ضمیر فریدی، رحم رفیق، نظر الحسن، بختاور مظہر، نورے ذیشان، حلیمہ علی، ارشد محمود، سمن انصاری، ابوال حسن اور دیگر شامل ہیں۔