چیٹ جی پی ٹی کیساتھ تمیز سے بات کرنا کمپنی کو مہنگا پڑنے لگا
'پلیز' اور 'تھینک یو' کے استعمال سے کروڑوں ڈالرز کا خرچہ آتا ہے، کمپنی سربراہ
دنیا بھر میں جہاں روبوٹس اور مصنوعی ذہانت نے انسانی گفتگو کے انداز کو بدل کر رکھ دیا ہے، وہاں ایک چھوٹا سا لفظ 'براہِ کرم' یا 'شکریہ' بھی کروڑوں روپے خرچ کروا رہا ہے۔
یہ انکشاف معروف چیٹ بوٹ 'ChatGPT' بنانے والی کمپنی OpenAI کے سی ای او سیم آلٹمین نے کیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر ایک صارف نے تجسس کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا تھا کہ 'میں سوچتا ہوں ہے کہ چیٹ جی پی ٹی سے گفتگو کے دوران لوگوں کے 'براہِ کرم' اور 'شکریہ' کہنے کیوجہ سے OpenAI کو بجلی کے اخراجات کی مد میں کتنی بھاری رقم ادا کرنی پڑتی ہوگی'۔
اس پر سیم آلٹمین نے نہایت سنجیدہ انداز میں جواب دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ 'اس پر ہمارا کروڑوں ڈالرز کا خرچہ آرہا ہے' تاہم انہوں نے اطمینان کا اظہار کیا کہ 'یہ رقم 'اچھی جگہ خرچ ہو رہی ہے'، ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ 'حقیقت میں یہ اخراجات صارفین کے اندازے سے بھی کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں'۔
اتنا خرچہ کیوں؟
جب آپ ChatGPT جیسے مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹ سے بات کرتے ہیں اور اس سے خوش اخلاقی سے گفتگو کرتے ہیں، تو وہ بھی آپ کو شائستہ انداز میں جواب دیتا ہے۔
مگر یہ بات اکثر صارفین کو معلوم نہیں کہ یہ اضافی الفاظ صرف الفاظ نہیں، بلکہ اس کیلئے پسِ پردہ پیچیدہ اور طاقتور سسٹمز کا استعمال ہوتا ہے۔
ان ماڈلز کو چلانے کے لیے دنیا بھر میں پھیلے ڈیٹا سینٹرز استعمال ہوتے ہیں جنہیں نہ صرف معلومات پراسیس کرنے کے لیے بلکہ ان سینٹرز کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے بھی بڑی مقدار میں بجلی درکار ہوتی ہے ، تاکہ وہ گرم ہوکر ناکارہ نہ ہو جائیں۔
یہی وجہ ہے کہ محض ایک اضافی جملے سے ہزاروں کمپیوٹرز متحرک ہو جاتے ہیں اور اس پورے عمل میں بھاری اخراجات آتے ہیں۔
انسان اور AI کی گفتگو میں شائستگی کی اہمیت
دلچسپ بات یہ ہے کہ سیم آلٹمین نے صارفین کو چیٹ جی پی ٹی سے شائستہ انداز میں بات چیت کرنے سے منع نہیں کیا، بلکہ اُن کا ماننا ہے کہ یہ پیسہ 'صحیح جگہ خرچ ہو رہا ہے'۔
اسی حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے Microsoft کے ڈیزائن مینیجر کرٹس بیورز کا کہنا ہے کہ 'شائستہ زبان کے استعمال سے چیٹ بوٹ کے جوابات میں بھی نرمی اور تعاون کا رجحان پیدا ہوتا ہے'۔
انہوں نے وضاحت کی کہ 'آپ جس انداز میں بات کرتے ہیں، AI اسی کے مطابق ردعمل دیتا ہے'۔
Microsoft کی ورک لیب (WorkLab) کی ایک رپورٹ کے مطابق 'جنریٹیو AI اُن پرامپٹس کے انداز، پیشہ ورانہ معیار اور گہرائی کی عکاسی کرتا ہے جو اسے دی جاتی ہیں، جب AI شائستگی کو نوٹ کرتا ہے، تو وہ خود بھی زیادہ شائستہ بن جاتا ہے'۔



