انفوٹینمنٹ

کرن جوہر کے وزن کا معاملہ ندا یاسر کے شو میں بھی پہنچ گیا

کرن جوہر پر دوائیوں کے ذریعے وزن کم کرنے کا الزام لگایا جارہا ہے۔

Web Desk

کرن جوہر کے وزن کا معاملہ ندا یاسر کے شو میں بھی پہنچ گیا

کرن جوہر پر دوائیوں کے ذریعے وزن کم کرنے کا الزام لگایا جارہا ہے۔

فائل فوٹو:گوگل
فائل فوٹو:گوگل

بالی وڈ کے معروف فلمساز کرن جوہر اچانک اپنے گرتے وزن کی وجہ سے چرچوں میں ہیں۔

اب ان کا وزن میں کمی کا چرچا اے آر وائی ڈیجیٹل کے ٹی وی شو ’ گڈمارننگ پاکستان‘ میں بھی پہنچ گیا جس میں ندا یاسر نے کرن جوہر کے وزن میں کمی سے متعلق سوال اٹھایا۔

کرن جوہر  پر یہ الزام لگایا جارہا ہے کہ انہوں نے قدرتی طریقوں کے بجائے ادویات کے ذریعے وزن کم کیا ہے۔

تاہم اس کی نفی کرتے ہوئے کرن جوہر کا کہنا تھا کہ میں نے وزن بالکل درست طریقے سے کم کیا ہے، ہر صبح ایک نئی توانائی اور جوش کے ساتھ جاگتا ہوں،کام کے لیے خود کو تیار محسوس کرتا ہوں، میں اس تبدیلی سے خوش ہوں۔

کرن جوہر نے کہا کہ یہ سب اس وقت شروع ہوا جب مجھے معلوم ہوا کہ میرے خون کے ٹیسٹ نارمل نہیں ہیں اور مجھے اپنے بلڈ لیولز کو درست کرنا ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ اگرچہ وہ ادویات پر ہیں لیکن ان کا وزن کم ہونے کی اصل وجہ صرف دن میں ایک بار کھانا کھانا ہے،کرن نے انکشاف کیا تھا کہ وہ ایسی خوراک لے رہے ہیں جس میں وہ دن بھر میں صرف ایک ہی کھانا کھاتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ کرن جوہر نے اپنی فٹنس میں مدد کے لیے پیڈل بال کھیلنے اور تیراکی کا سہارا بھی لیا، انہوں نے واضح کیا کہ ان کی یہ تبدیلی صحت کی وجوہات کی بنا پر تھی اور مکمل طور پر صحت مند طریقوں سے کی گئی ہے۔

ندا یاسر کے شو کا موضوع وزن میں کمی سے متعلق تھا جس میں ماہر غذائیت بھی شریک تھیں۔

 جب شو میں ایک دوا اوزیمپک کا ذکر آیا تو ندا یاسر نے فوراً کرن جوہر کا نام لیتے ہوئے کہا کہ آج کل سب کرن جوہر کو کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے اس دوا کے ذریعے وزن کم کیا ہے۔

جس پر ماہر غذائیت نے کہا کہ یہ ممکن ہے اور کرن جوہر بہت عجیب سے بھی لگ رہے ہیں، ان کی جلد خراب سی اور لٹک سی گئی ہے اور وہ بوڑھے سے لگ رہے ہیں، وہ پہلے زیادہ وزن میں ینگ لگتے تھے لیکن اب وزن کم کرنے کے بعد بوڑھے لگ رہے ہیں۔

ماہر غذائیت نے اس بات پر زور دیا کہ ڈائیٹ اور جسمانی مشقوں کے ذریعے وزن کم کرنا چاہیے جس سے باڈی ٹھیک بھی لگتی ہے اور صحت بھی اچھی رہتی ہے، اگر کوئی شارٹ کٹ اپنایا جاتا ہے تو اس کا الٹا نقصان ہی پہنچتا ہے۔

اوزیمپک دوا کیا ہے ؟

واضح رہے کہ2017 میں امریکا کی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن اتھارٹی نے اوزیمپک (Ozempic) ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں کے لیے منظور کی تھی تاکہ ان کے خون میں شوگر کی سطح کو کم کیا جا سکے۔

بعد ازاں اس کا استعمال وزن کم کرنے کی دوا کے طور پر مشہور ہو گیا اور کئی مشہور شخصیات کے بارے میں چہ مگوئیاں ہونے لگیں کہ وہ اپنی اسمارٹنیس کے لیے یہ دوا استعمال کر رہے ہیں۔