فلمی کردار میں ڈوب جانے کو ترجیح دیتا ہوں، نوازالدین صدیقی
خود کو نمایاں بنانا بہت مشکل کام ہے، نواز الدین صدیقی
چھوٹے کرداروں سے مرکزی کرداروں میں آنے کی جدوجہد کرنے والے نواز الدین صدیقی کا کہنا ہے کہ وہ کرداروں میں گُم ہوجانے کو ترجیح دیتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دیگر اداکاروں کی طرح ان کا مقصد بھی یہی ہوتا ہے کہ وہ اپنے کردار میں اس قدر ڈوب جائیں کہ خود کو ہی نظر نہ آئیں۔
ایک انٹرویو میں نوازالدین صدیقی نے کہا کہ میرے لیے خود کو نمایاں بنانا یا پریزنٹیبل بنانا بہت مشکل ہے، مجھے یہ بہت اچھا لگتا ہے کہ میں کسی کونے میں بیٹھا ہوں اور کوئی مجھے نہ دیکھ رہا ہوبلکہ میں دوسروں کو دیکھ رہا ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے ایسا لگتا ہے جیسے دنیا ایک 70 ایم ایم فلم ہو اور میں اسے دیکھ رہا ہوں۔
نوازالدین نے فلمی دنیا میں عام لوگوں کے کردار ادا کرتے ہوئے شہرت حاصل کی، چاہے وہ ’منا بھائی ایم بی بی ایس‘ اور ’پیپلی لائیو‘جیسی بڑی فلموں میں چھوٹے کردار ہوں یا ’لنچ باکس‘،’بجرنگی بھائی جان‘ اور ’مانجھی‘ جیسی فلموں میں اہم کردار۔
نوازالدین صدیقی کا سفر
اتر پردیش کے مظفر نگر کے گاؤں بڈھانا سے دہلی کے نیشنل اسکول آف ڈرامہ سے ہوتے ہوئے ممبئی تک کا سفر ان کے لیے آسان نہ تھا، نواز الدین ایک لمبی جدوجہد کے بعد بالی وڈ کے سب سے ہمہ گیر اداکاروں میں سے ایک بنے۔
اداکار کے بقول یہ سب ان کے لیے کسی فلمی خواب سے کم نہیں، انہوں نے بتایا کہ وہ سیدھے سی گریڈ فلمیں دیکھ کر ورلڈ سینما تک پہنچے۔
نواز الدین صدیقی نے بتایا کہ بچپن میں بڈھانا میں کسی ادبی یا ثقافتی اثرات کی کوئی خاص روایت نہیں تھی لیکن ایک کچا تھیٹر ضرور تھا جہاں اکثر سی گریڈ فلمیں چلتی تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ میں انہی فلموں کے ساتھ بڑا ہوا ہوں، جب شہر آیا نیشنل اسکول آف ڈرامہ گیا، تو وہاں ورلڈ سینما سے تعارف ہوا، اس دوران میں نے بالی وڈ کی کئی فلمیں چھوڑ دیں، جو بعد میں جا کر دیکھیں۔
کرداروں میں گم ہونا نواز کا شوق
پچاس سالہ اداکار کا کہنا ہے کہ وہ آج بھی ہر نئے کردار کو ایک نیا امتحان سمجھ کر قبول کرتے ہیں، ان کی نئی فلم او ٹی ٹی پر ریلیز ہونے جا رہی ہے جس میں وہ سابق کسٹمز افسر کوسٹاﺅ فرنینڈس کا کردار نبھا رہے ہیں۔
نواز نے مزید کہا کہ انہیں یہ پسند نہیں کہ وہ نمایاں نظر آئیں، میرے کئی دوست کہتے ہیں کہ اگر نواز کو بھیڑ میں کھڑا کر دیا جائے، تو پتا ہی نہیں چلے گا کہ کہاں ہے، وہ بھیڑ میں گھل جاتا ہے، مجھے یہ چیز پسند ہے۔
فلم انڈسٹری میں مختلف کردار ادا کرنے کے حوالے سے ان کا کہناتھا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ان کے اوپر کسی مخصوص کردار کی چھاپ لگ جائے ، اس لیے انہوں نے بال ٹھاکرے کا کردار بھی ادا کیا اور سعادت حسین منٹو جیسے کردار بھی گہرائی میں ڈوب کر ادا کیے۔
انہوں نے کہا کہ وہ ایسے کردار ادا کرنا پسند کرتے ہیں جو حقیقی زندگی کے زیادہ قریب ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ خود کو بالکل اچھا دکھاتے ہیں، میں ان سے ڈرتا ہوں، کیونکہ وہ کچھ نہ کچھ چھپا رہے ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ایک فنکار کے لیے سب سے خوبصورت تجربہ یہی ہوتا ہے کہ وہ مختلف کرداروں کے بیچ سفر کرے۔
انہوں نے کہا کہ اگر میں خود کو دہراتا رہوں گا تو بور ہو جاؤں گا، ہر دن ایک نیا امتحان ہونا چاہیے، جب کوئی نیا کردار آتا ہے، لگتا ہے جیسے نیا امتحان پاس کرنا ہے۔
حقیقی زندگی کےکردار سب سے چیلنجنگ
نواز کا کہنا ہے کہ اگرچہ وہ کئی بایوپک فلموں کا حصہ رہے ہیں لیکن حقیقی کردار نبھانا آج بھی ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔
فلم ’کوسٹاﺅ‘ میں وہ ایک ایسے کسٹمز افسر کا کردار ادا کر رہے ہیں جس نے گووا میں سونے کی اسمگلنگ کے خلاف سخت کارروائی کی۔
انہوں نے کہا کہ یہ کردار ہیرو کے طور پر نہیں دکھایا گیا، اس میں خامیاں بھی ہیں، میں نے فلم سے پہلے ان کے ساتھ وقت گزارا، ان کو دیکھا، سمجھا، جب ان کے دوستوں نے فلم دیکھی تو کہا کہ تم میں اور کوسٹاﺅ میں کوئی فرق نہیں، اس سے بڑی تعریف اور کیا ہو سکتی ہے؟
ان کی دیگر بایوپک فلموں میں کیتن مہتا کی ’مانجھی: دی ماؤنٹین مین‘ بھی شامل ہے، جس میں انہوں نے دشرتھ مانجھی کا کردار ادا کیا، وہ شخص جس نے تنہا پہاڑ کاٹ کر سڑک بناڈالی تھی۔
آنے والے پروجیکٹس
فلم "کوسٹاﺅ" یکم مئی کو ریلیز ہو رہی ہے،اس کے بعد ان کی فلمیں ’رات اکیلی ہے 2‘،’سیکشن 108‘،’فرار‘ اور ’تھما‘ ریلیز کے لیے تیار ہیں، جسے دنیش وجان کی ’استری‘ ہارر کامیڈی یونیورس کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔





