’پرورش‘ کے ’سمیر’ کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟
ابوالحسن ایک اداکار ہی نہیں، ایک سوچ ہے
انسٹاگرام پر دکھائی دینے والا ایک نوجوان جو صرف کانٹینٹ بنانے کے لیے کیمرہ آن کرتا تھا آج لاکھوں دلوں پر راج کر رہا ہے۔
اگر آپ پاکستانی ڈراموں کے فین ہیں تو آپ آج کل ڈرامہ سیریل ’پرورش‘ کے سحر میں ہوں گے، اسکا لاابالی کردار 'سمیر' اصل زندگی میں بھی اُتنا ہی ریلیٹ ایبل ہے جتنا اسکرین پر۔ سمیر کا اصل نام ابوالحسن ہے جسے انٹرنیٹ ابولوگرافی سے جانتا ہے۔
شہرت، اداکاری اور ٹی وی سے پہلے ابوالحسن ایک مشن پر تھے۔ وہ ہر ہفتے ایک ویڈیو اپلوڈ کرتے تھے، لیکن مقصد صرف وائرل ہونا نہیں تھا، مقصد شعور پیدا کرنا، ایک تحریک کو جنم دینا تھا۔
انسٹاگرام پر شیئر ہونے والی ابوالحسن کی ویڈیوز میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی سوشل میسج ہوتا جیسے وہ ناظرین کو ایک نئی سوچ دینے کی کوشش کر رہے ہوں۔ انہیں کبھی پیسہ یا فیم کی فکر نہیں تھی۔ ان کا ماننا تھا کہ اگر آپ کا میسج سچا ہے، تو وہ خود ہی لوگوں تک پہنچ جائے گا۔
ابوالحسن کا ماننا ہے کہ آج کی جنریشن، خاص طور پر جین زی اکثر خود کو دوسروں کی آنکھوں سے دیکھتی ہے۔ وہ خود کو خود ڈیفائن نہیں کرتے۔ شاید اسی لیے انہیں اپنا راستہ نہیں ملتا۔ وہ اطلاع دینے کے خلاف ہیں، اور رِسک لینے کو ضروری سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق اصل سکون تب آتا ہے جب آپ توکل کرتےہیں یعنی اپنے فیصلے خدا پر چھوڑ دیتے ہیں۔
محبت کے بارے میں ابوالحسن کا نظریہ جذباتی ضرور ہے، مگر کمزور نہیں۔ وہ کہتے ہیں جب وہ کسی سے محبت کرتے ہیں، تو دل و جان سے کرتے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی جانتے ہیں کہ عزت سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ اگر محبت میں بے عزتی آجائے، تو وہ خاموش نہیں رہتے۔
ابوالحسن کا کہنا ہے کہ مرد ہو یا عورت، جذبات کمزوری کی علامت نہیں۔ رو دینا، غصہ آنا، دکھ محسوس کرنا – یہ سب انسان ہونے کی علامتیں ہیں۔
ابوالحسن کی محبت کا انداز بہت خاص ہے۔ ان کے مطابق محبت میں مکمل قبولیت ہونی چاہیے۔ چاہے وہ کسی کی نیچرل بیوٹی ہو یا ایک خاص سوچ، ابوالحسن اپنے پارٹنر کو ویسا ہی قبول کرتے ہیں جیسا وہ ہے۔ وہ جھوٹی تعریفوں کے قائل نہیں، بلکہ صرف تب تعریف کرتے ہیں جب وہ دل سے ہو۔‘
جب ان سے سوال کیا گیا کہ ڈرامہ سیریل ’پرورش‘ میں کردار کیسے ملا؟ جواب میں انہوں نے کہا کہ ’میثم بھائی (ڈائریکٹر) نے بتایا کہ جب وہ سمیر کا کردار پڑھ رہے تھے تو ان کے دماغ میں میں آیا ۔
جب ابوالحسن کو پرورش کی آفر آئی، تو انہوں نے پوری اسکرپٹ پڑھ کر فیصلہ کیا۔ بگ بینگ انٹرٹینمنٹ کے میثم نقوی نے خود بتایا کہ جب وہ سمیر کے کردار کو پڑھ رہے تھے، تو اُن کے ذہن میں ابوالحسن کا چہرہ آیا۔
ابوالحسن نے کہا کہ ’پرورش‘ میں ‘سمیر’ کا کردار میرے دل کے بہت قریب ہے۔ مصنفہ کرن صدیقی اور میثم نقوی نے ابوالحسن پر بھروسہ کیا، اور اُسے کردار میں اپنی تخلیقی آزادی دی۔ یہی وجہ ہے کہ ‘سمیر’ Gen Z کے دل کے اتنے قریب ہے۔





