مقبول ویب سیریز YOU کے اداکار کا مطالعہِ قرآن کا انکشاف
میرے بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر ہمیشہ قرآن رکھا ہوتا ہے، پین بیجلی
معروف ہالی وڈ اداکار پین بیجلی، جو مقبول ویب سیریز You اور Gossip Girl میں اپنے کرداروں کے لیے عالمی شہرت رکھتے ہیں، انہوں نے حال ہی میں اپنی روحانی زندگی کے دلچسپ پہلوؤں سے پردہ اٹھایا ہے۔
امریکی اخبار 'یو ایس اے ٹوڈے' کو دیے گئے انٹرویو کے دوران پین بیجلی نے ان کتابوں اور روحانی معمولات کا ذکر کیا جنہوں نے انہیں زندگی کے دباؤ کم کرنے اور مشکل کرداروں کو نبھاتے ہوئے اپنی شخصیت میں عاجزی برقرار رکھنے میں مدد دی ہے۔
پین بیجلی نے انکشاف کیا کہ 'سچ کہوں تو، میرے بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر ہمیشہ قرآن رکھا ہوتا ہے، جس کی آیات پر میں کبھی کبھی غور و فکر کرتا ہوں'۔
انہوں نے مزید بتایا کہ وہ کلاسیکی ناول Dracula بھی پڑھتے ہیں، جس کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'یہ ایک اچھی کتاب ہے'۔
تاہم بیجلی کی روحانی زندگی صرف رات کے وقت کے مطالعے تک محدود نہیں، بلکہ ان کے دن کا آغاز بھی ایک خاص دعا سے ہوتا ہے، جو کہ بہائی مذہب سے تعلق رکھتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 'میری صبح کی روٹین بچوں اور کام کی وجہ سے بالکل بے ترتیب سی ہے، لیکن ایک چیز ہے جو میں ہمیشہ کرتا ہوں'۔
اُن کا کہا تھا کہ کہ یہ ایک دعا ہے جسے'long obligatory prayer' کہا جاتا ہے، جوکہ بہائی مذہب کی بنیادی عبادات میں سے ایک ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 'یہ دعا تقریباً 15 منٹ میں مکمل ہوتی ہے، مجھے یہ مکمل یاد ہے اور میں برسوں سے اسے پڑھ رہا ہوں کیونکہ مجھے یہ بہت پسند ہے، اگر میں بہت تیز پڑھوں تو 7 منٹ میں ختم ہو جاتی ہے اور پھر 2 منٹ مراقبہ کرتا ہوں، اس طرح 9 منٹ کی روحانی مشق ہوجاتی ہے'۔
پین بیجلی نے مزید کہا کہ اگر وقت ہو تو وہ اس دعا کو آہستہ اور توجہ سے پڑھتے ہیں تاکہ دن کا آغاز سکون کے ساتھ بامقصد انداز میں ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ 'اگر کسی دن میں اِن سب چیزوں کیلئے 15 سے 20 منٹ نکال سکوں تو یہ ایک لگژری جیسا محسوس ہوتا ہے، اس سے مجھے زندگی کی اصل حقیقت اور اس کے مقصد کی زیادہ وضاحت سے یاد دہانی ہوتی ہے، یا کم از کم ایک بھرپور، بامعنی زندگی کے بارے میں سوچنے میں مدد ملتی ہے'۔
پین بیجلی کا یہ انکشاف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں روحانیت اور ذہنی سکون کی تلاش ایک سنجیدہ موضوع بن چکی ہے۔
اداکار کی باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہرت اور کامیابی کے باوجود، انسان کے اندر کی تلاش کبھی ختم نہیں ہوتی اور یہی تلاش کبھی کبھی انسان کو مقدس مذہبی کتابوں سے جوڑ دیتی ہے۔




