فلم / ٹی وی

نوازالدین صدیقی ’کوسٹاؤ‘ میں جاندار اداکاری کے ساتھ سامنے آگئے

فلم میں نواز نے ایک حقیقی کردار کو پھر سے زندہ کیا ہے

تیمور احمد

نوازالدین صدیقی ’کوسٹاؤ‘ میں جاندار اداکاری کے ساتھ سامنے آگئے

فلم میں نواز نے ایک حقیقی کردار کو پھر سے زندہ کیا ہے

فائل فوٹو:گوگل
فائل فوٹو:گوگل

 نواز الدین صدیقی نے فلم ’کوسٹاؤ‘ میں ایک حقیقی کسٹم آفیسر کے روپ میں خود کو ڈھالا ہے فلم میں نواز نے 80 اور 90 کی دہائی کے مشہور کسٹم افسر کوسٹاو فرننڈس کا کردار نبھایا ہے جس نے اسمگلنگ مافیا کے گرد گھیرا ڈالا ہوا تھا۔

کہانی کا آغاز ’گووا‘ شہر سے ہوتا ہے جہاں کوسٹاؤ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہتا ہے اس کے ادارے کے اہلکار بھی بہت تعاون کرنے والے ہوتے ہیں اور اس لئے کوسٹاؤ بڑی اسمگلنگ کی کوششیں ناکام بنا دیتا ہے۔

کوسٹاؤ نے گوا شہر میں اپنے مخبروں کا جال بچھایا ہوا ہوتا ہے انہیں میں سے ایک مخبر اسے ایک بڑی اسمگنگ کی ٹپ دیتا ہے جس کی اسمگنگ مافیا کو پہلے سے خبر ہوجاتی ہے اور کوسٹاو اس مشن میں ناکام ہوجاتا ہے۔

دوسری بار وہی انفارمر 15ہزار کلو سونے کی اسمگنگ کی ٹپ دیتا ہے جسے حاصل کرنے کے لیے اب کوسٹاؤ دن رات ایک کردیتا ہے اور محکمہ جاتی ضوابط کو بھی فالو نہیں کرتا اور بالاآخر اسے سونے کی اسمگلنگ کا پتہ چل جاتا ہے لیکن اس دوران جھڑپ میں وہ اسمگلنگ مافیا کے ایک کارندے کا قتل کردیتا ہے اور سیلف ڈیفنس میں خود بھی زخمی ہوجاتا ہے۔

مقتول اسمگلنگ مافیا کے سرغنہ کا چھوٹا بھائی ہوتا ہے ، اس کے بعد فلم کا منظر عام تبدیل ہوجاتا ہے کوسٹاؤ کے خلاف دفعہ 302 کے تحت کارروائی شروع ہوجاتی ہے اور وہ اگلے کئی سال اپنی بے گناہی کو ثبوت کرنے میں لگا رہتا ہے۔

کوسٹاؤ کے خلاف اگلے کئی سالوں تک کیس چلتے ہیں جہاں  ماتحت عدالتیں اسے پھانسی کی سزا بھی سنا دیتی ہیں تاہم کوسٹاؤ ہمت نہیں ہارتا اور اس فیصلے کو اعلیٰ سطح کی عدالتوں میں چیلنج کردیتا ہے اور پھر بالاآخر سپریم کورٹ کے حکم پر اسے بری کردیا جاتا ہے۔

ان گزرے سالوں میں کوسٹاؤ کی ازدواجی زندگی کو جھٹکا بھی لگتا ہے جب اس کی اہلیہ اس سے طلاق لے لیتی ہیں۔

اس فلم کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں ’ساؤتھ فلم انڈسٹری‘ کے اثرات نہیں ہیں اگر نواز الدین صدیقی بھی سو سو لوگوں کو اکیلا ہتھوڑے سے مار رہا ہوتا تو دیکھنے والے کو بالکل بھی پسند نہیں آتا۔

پھر اس فلم میں ولن کو سفاک نہیں دکھایا گیا بلکہ ولن بجائے خود اپنے بھائی کے قتل کا بدلہ لینے کے، قانون کا سہارا غیر قانونی انداز میں لیتا ہے۔

اگر فلم کے معیار کی بات کی جائے تو نواز الدین صدیقی نے بہترین اور اپنی فطری اداکاری کی ہے، انہوں نے ’گوا‘ شہر کے مقامیوں کی طرح اپنے لہجے کو تبدیل بھی نہیں کیا اور فلم کو ایک ’فلو‘ میں لیکر چلتے گئے۔

اگر آپ نواز الدین صدیقی کے مداح ہیں تو یہ فلم آپ کو ضرور دیکھنی چاہیے، فلم کے آخر میں نوازالدین صدیقی کو کوسٹاؤ فرننڈس کے ساتھ لمحات شیئر کرتے ہوئے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔