انفوٹینمنٹ

پنجابی انداز کی دھوم، دلجیت کی میٹ گالا انٹری

Web Desk

پنجابی انداز کی دھوم، دلجیت کی میٹ گالا انٹری

اسکرین گریب
اسکرین گریب

دنیا کے سب سے بڑے اور باوقار فیشن ایونٹ میٹ گالا 2025ء میں ایک اور سپر اسٹار کی شمولیت نے مداحوں کو خوشی سے جھومنے پر مجبور کر دیا ہے۔

 معروف بھارتی گلوکار اور اداکار دلجیت دوسانجھ نے اس ایونٹ میں اپنے ڈیبیو کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔

دلجیت نے انسٹاگرام پر ایک مختصر مگر پراثر پوسٹ شیئر کرتے ہوئے ‘فرسٹ ٹائم‘ کے الفاظ لکھے، جس کے ساتھ امریکی ریپر گنا کے مشہور گانے ـ

اسکرین گریب
اسکرین گریب

میٹ گالا کو پسِ منظر میں استعمال کیا گیا ہے۔ اس اسٹائلش اعلان نے سوشل میڈیا پر مداحوں میں جوش و خروش کی لہر دوڑا دی۔

پہلی بار میٹ گالا میں پنجابی انداز

دلجیت دوسانجھ کی شرکت سے میٹ گالا میں پنجابی رنگ اور ثقافتی تنوع کا ایک منفرد پہلو شامل ہونے جا رہا ہے، جس کا مداح شدت سے انتظار کر رہے ہیں۔

دلجیت کے ساتھ اس بار شاہ رخ خان اور کیارا ایڈوانی بھی پہلی بار میٹ گالا کے ریڈ کارپٹ پر جلوہ گر ہوں گے۔

 یہ بین الاقوامی شہرت یافتہ ایونٹ 5 مئی کو نیویارک کے میٹروپولیٹن میوزیم آف آرٹ میں منعقد ہوگا۔

دلجیت دوسانجھ نے اپنے مخصوص مزاحیہ انداز اور دلکش لہجے میں کہا کہ اگرچہ انہیں خاندان کے کئی افراد کی جانب سے شادیوں کے دعوت نامے مل چکے ہیں، لیکن یہ دعوت بالکل مختلف ہے۔ 

انہوں نے میزبانوں اور مہمانوں کے نام بھی بلند آواز میں پڑھ کر سنائے، اور مداحوں کے ساتھ اُن تحائف کی تفصیل بھی شیئر کی جو منتظمین کی جانب سے انہیں دیے گئے۔

بعدازاں، دلجیت نے ایک طنزیہ اور مزاحیہ ٹویٹ پوسٹ کی جس میں انہوں نے مداحوں سے میٹ گالا میں پہنے جانے والے لباس کے لیے تجاویز مانگتے ہوئے لکھا کہ،‘میٹ گالا۔ کی پایئے پھر؟‘(کیا پہنا جائے؟)

اپنے وی لاگ میں دلجیت نے ایک کارڈ بھی پڑھ کر سنایا جس میں درج تھا کہ میوزیم میں تقریب کے دوران موبائل فونز اور ریکارڈنگ ڈیوائسز کا استعمال ممنوع ہے۔ اس دعوت نامے میں مزید درج تھا کہ،‘Superfine: Tailoring Black Style‘

اس سال کے میٹ گالا کا تھیم ‘Superfine: Tailoring Black Style‘ ہے، جو سیاہ فام ثقافت، وقار، اور فیشن میں اُن کے تاریخی کردار کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔ اس تھیم کے تحت نفیس سلائی، چمکدار ملبوسات اور ایسے ڈیزائنز کو ترجیح دی گئی ہے جو انفرادیت، روایت اور شائستگی کی نمائندگی کرتے ہیں۔

یہ تھیم مونیکا ملر کی کتاب Slaves to Fashion سے متاثر ہے، جو سیاہ فام فیشن کے گہرے ثقافتی اثرات اور باوقار پہناوے کے ذریعے طاقت کے اظہار پر روشنی ڈالتی ہے۔