عالمی منظر

ڈونلڈ ٹرمپ کو میٹ گالا سے باہر کیوں رکھا گیا؟

کیا صرف ڈونلڈ ٹرمپ ہی پابندی کا شکار ہوئے ہیں؟

Web Desk

ڈونلڈ ٹرمپ کو میٹ گالا سے باہر کیوں رکھا گیا؟

کیا صرف ڈونلڈ ٹرمپ ہی پابندی کا شکار ہوئے ہیں؟

اسکرین گریب
اسکرین گریب

دنیا بھر میں فیشن کا سب سے قابلِ ذکر اور باوقار ایونٹ ’میٹ گالا‘ ہر سال امریکی شہر نیویارک میں منعقد ہوتا ہے، جہاں دنیا کے معروف فلمی ستارے، ماڈلز، موسیقار اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ شخصیات شرکت کرتی ہیں۔

 اس شاندار تقریب کی میزبانی کا اعزاز معروف فیشن میگزین ووگ کی ایڈیٹر انچیف اینا وِنٹور کو حاصل ہے، جو نہ صرف ایونٹ کی نگرانی کرتی ہیں بلکہ مہمانوں کی حتمی فہرست بھی خود ترتیب دیتی ہیں۔

اگرچہ میٹ گالا میں شرکت ایک اعزاز سمجھا جاتا ہے، لیکن چند معروف شخصیات ایسی بھی ہیں جنہیں اس تقریب میں شرکت سے روک دیا گیا ہے۔ ان میں ایک نمایاں نام امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ہے۔

دی انڈیپنڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ 2012 تک باقاعدگی سے میٹ گالا میں شریک ہوتے رہے، تاہم جب وہ امریکہ کے صدر بنے، تو اینا ونٹور نے انہیں مہمانوں کی فہرست سے نکال دیا۔ 

اگرچہ ونٹور نے اس فیصلے کی کبھی سرکاری وضاحت نہیں کی، لیکن وہ ماضی میں ڈیموکریٹک پارٹی کی حمایت اور اوباما خاندان سے قریبی تعلقات کے حوالے سے جانی جاتی ہیں، اور انہوں نے مختلف مواقع پر ٹرمپ کی پالیسیوں پر تنقید بھی کی ہے۔

2017 میں جیمز کارڈن کے شو دی لیٹ نائٹ میں ایک سوال کے جواب میں جب ونٹور سے پوچھا گیا کہ اگر انہیں کسی ایک شخصیت کو دوبارہ کبھی مدعو نہ کرنا پڑے تو وہ کون ہو گا؟ تو انہوں نے بلا جھجھک کہا "ٹرمپ۔"

یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف ڈونلڈ ٹرمپ ہی پابندی کا شکار ہوئے ہیں؟ رپورٹ کے مطابق، ٹی وی ہوسٹ ٹم گن نے 2016 میں انکشاف کیا تھا کہ اینا ونٹور سے متعلق ایک تبصرے کے بعد انہیں بھی ایونٹ میں شرکت سے روک دیا گیا۔

اسی طرح معروف گلوکار زین ملک، جنہوں نے 2016 میں اپنی سابقہ دوست جیجی حدید کے ساتھ میٹ گالا میں شرکت کی تھی، ان پر بھی مبینہ طور پر آئندہ شرکت پر پابندی ہے۔

اداکاراؤں میں ٹینا فے اور لیلے رائن ہارٹ بھی شامل ہیں، جنہوں نے میٹ گالا یا اینا ونٹور کی پالیسیوں پر تنقید کی، جس کے بعد انہیں بھی فہرست سے نکال دیا گیا۔

میٹ گالا جہاں دنیا کے سب سے بڑے ستاروں کی موجودگی سے چمکتا ہے، وہیں اس کی بند دروازوں کے پیچھے بننے والی پالیسیوں اور انتخابی فیصلے اکثر خبروں کی زینت بن جاتے ہیں۔