بھارتی کرکٹرز بھی پاک-بھارت جنگ کو ہوا دینے لگے
بھارتی کھلاڑی 'آپریشن سندور' کی مکمل حمایت کرتے نظر آرہے ہیں
پاکستان پر رات گئے بھارت کے بزدلانہ حملے کو جہاں بھارت کی سیاسی اور عسکری قیادت نے بڑی کامیابی قرار دیا، وہیں بھارتی کرکٹ ٹیم کے کئی نامور کھلاڑی بھی سوشل میڈیا پر دونوں ممالک کے درمیان جنگی ماحول کو ہوا دینے لگے۔
منگل اور بدھ کی درمیانی شب 12 بجے سے ایک بجے کے درمیان بھارت نے 6 مختلف مقامات بہاولپور، مریدکے، مظفرآباد، کوٹلی اور دیگر علاقوں پر 24 حملے کیے۔
اس بزدلانہ میزائل حملے کو بھارت نے 'آپریشن سندور' کا نام دیا ہے جس میں ایک بچے سمیت 8 نہتے پاکستانی شہید اور 35 زخمی ہوئے، جوابی کارروائی میں پاکستان نے بھارت کے 5 طیارے مار گرائے اور بھارتی فوج کا بریگیڈ ہیڈ کوارٹر بھی تباہ کردیا۔
حملے کے بعد جہاں بھارتی حکام بلندبانگ دعوے کرنے میں مصروف ہیں وہیں دوسری جانب بھارتی کھلاڑی بھی 'آپریشن سندور' کی مکمل حمایت کرتے نظر آرہے ہیں۔
سابق لیجنڈری بیٹسمین سچن ٹنڈولکر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر اپنے پیغام میں کہا کہ 'اتحاد میں بے خوفی، طاقت میں بے پایاں حدیں، بھارت کی ڈھال اس کے عوام ہیں، اس دنیا میں دہشت گردی کے لیے کوئی جگہ نہیں، ہم ایک ٹیم ہیں، جے ہند'۔
سابق بھارتی کرکٹر شیکھر دھون نے لکھا 'بھارت نے دہشت گردی کے خلاف مؤقف واضح کردیا، بھارت ماتا کی جے!'
سابق کپتان اور لیگ اسپنر انیل کمبلے نے اپنے'ایکس' اکاؤنٹ پر صرف ’جے ہند‘ لکھ کر اپنے جذبات کا اظہار کیا۔
سابق بھارتی کرکٹر ویرندر سہواگ نے سنسکرت کے مقولے 'دھرمو رکشتی رکشیتا'کے ساتھ اپنی پوسٹ شیئر کی، جس کا مطلب ہے ’دھرما (حق) اس کی حفاظت کرتا ہے جو اس (حق) کی حفاظت رکھتا ہے'۔
انہوں نے مزید لکھا کہ 'اگر کوئی آپ پر پتھر پھینکے تو اُس پر پھول پھینکو لیکن گملے کے ساتھ، آپریشن سندور! کتنا موزوں نام ہے'۔
سابق کرکٹر اور کمنٹیٹر آکاش چوپڑا نے اپنے 'ایکس' اکاؤنٹ پر لکھا کہ 'ہم سب ایک ساتھ کھڑے ہیں، جے ہند'۔
بھارتی باؤلر ورون چکرورتی نے انسٹاگرام اسٹوری پر’آپریشن سندور‘ کے پوسٹر کے ساتھ قوم سے اظہارِ یکجہتی کیا۔
نوجوان کرکٹر ویبھو سوریاونشی نے اپنے پیغام میں کہا کہ 'ہماری افواج کے تحفظ اور کامیابی کیلئے دعا گو، ہم سب ایک قوم ہیں، ہم سب ایک ساتھ کھڑے ہیں'۔
بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور کوچ 'گوتم گمبھیر نے ’جے ہند‘ کے نعرے کے ساتھ 'آپریشن سندور' کا پوسٹر شیئر کیا، جسے ہزاروں لوگوں نے ریٹویٹ کیا۔
واضح رہے کہ رواں برس 22 اپریل کو مقبوضہ کشمیر کے ضلع پہلگام کے سیاحتی مقام پر فائرنگ کے واقعے میں 26 افراد ہلاک اور ایک درجن زخمی ہوگئے تھے۔
بھارت کی ہندو انتہا پسند حکومت نے پہلگام واقعے کی تحقیقات کے بغیر روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کو مورد الزام ٹھہرایا اور 'سندھ طاس معاہدے' کو معطل کرنے سمیت متعدد پاکستان مخالف اقدامات کا اعلان کیا تھا۔
پاکستان نے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنےکا بھارتی یکطرفہ اعلان مسترد کر دیا جبکہ پاکستانی وزیردفاع خواجہ آصف کی جانب سے مسلسل یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ بھارت کسی بھی وقت پاکستان پر حملہ کرنے کی غلطی کر سکتا ہے۔


