کرن جوہر کا روزانہ انزائٹی کی دوائیاں کھانے کا انکشاف
فلم ساز نے انزائٹی کے ساتھ اپنی جدوجہد کے بارے میں بات کی۔
بالی وڈ کے معروف فلمساز کرن جوہر نے زندگی میں ریلیشن شپ نہ رکھنے کی وجہ بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ وہ دوسروں پر بھروسہ کرنے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی خواہش کے باوجود تعلقات مشکل ہو جاتے ہیں۔
کرن جوہر جب ذاتی سچائیوں کو شیئر کرنے کی بات کرتے ہیں تو وہ کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹے۔
حال ہی میں انہوں نے اپنے رشتے کی حیثیت کے بارے میں بات کی اور شیئر کیا کہ وہ سنگل ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ انہیں رشتے میں نہ ہونے پر افسوس ہے اور انہوں نے رشتے میں اعتماد تلاش کرنے میں دشواری کا اعتراف کرتے ہوئے اسے اس شخص سے منسوب کیا جو وہ ہیں۔
فلم ساز نے انزائٹی کے ساتھ اپنی جاری جدوجہد کے بارے میں بھی بات کی اور انکشاف کیا کہ وہ اب بھی دوائی لے رہے ہیں۔
راج شامانی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کرن جوہر نے اپنی ذاتی زندگی کی خواہش کے بارے میں کھل کر اعتراف کیا۔
انہوں نے کہا کہ 'میری خواہش ہے کہ میں رشتے میں رہ سکتا، میں کسی رشتے میں نہیں ہوں، میں کون ہوں اس کی وجہ سے آسانی سے بھروسہ کرنا مشکل ہے، میں نہیں جانتا لیکن یہ میرے لیے مشکل ہے، ایک چیز جس کا مجھے اپنی زندگی میں افسوس ہے یا خالی، تاریک یا ادھورا علاقہ ہے وہ رشتہ میں نہ ہونے کا معاملہ ہے۔'
کرن جوہر نے سوشل انزائٹی کے ساتھ اپنی جدوجہد کے بارے میں بھی بات کی اور بتایا کہ یہ گزشتہ دو سے تین سال سے ان پر اثر انداز ہونے لگا ہے، انہوں نے اعتراف کیا کہ ہجوم میں رہنا انہیں بے چین کردیتا ہے۔
کرن نے یہ بھی بتایا کہ وہ تمام بی ٹاؤن پارٹیوں میں شرکت کے لیے جانے جاتے ہیں لیکن واضح کیا کہ وہ وہاں چند منٹ سے زیادہ نہیں ٹھہرتے، ان کے مطابق انہوں نے اس تکلیف کی وجہ سے پارٹیوں کی میزبانی بھی بند کر دی ہے، کیونکہ وہ سماجی میل جول سے گریز کرتے ہیں۔
فلمساز نے مزید ایک تکلیف دہ واقعہ کو یاد کیا جب انہیں ایک تقریب میں شرکت کے دوران پینک اٹیک پڑا۔
انہوں نے اپنے ہاتھوں اور پیروں میں 'پسینہ' اور بے قابو کپکپاہٹ ہونا یاد کیا، جس کے بعد ایک متعلقہ دوست انہیں جلدی سے ایک طرف لے گیا اور پانی پلایا۔
ہدایتکار نے شیئر کیا کہ وہ سیدھے ڈاکٹر کے پاس گئے کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ اس پر دل کا دورہ پڑ سکتا ہے لیکن اس کے بجائے انہیں ایک پینک اٹیک کی تشخیص ہوئی۔
کرن جوہر کا کہنا تھا کہ 'میں اپنے ماہر نفسیات سے ملا، پھر میں نے دوائی شروع کی اور میں ابھی تک اس پر ہوں، میں روز دواکھاتا ہوں اور امید ہے، آہستہ آہستہ میں اس چھٹکارا پالوں گا'۔
کرن جوہر نے اپنی تنہائی کے بارے میں بھی بات کی اور اسے اپنی زندگی میں مستقل موجودگی کے طور پر بیان کیا۔
فلمساز نے دوستوں، کنبہ اور اپنے بچوں کی گرمجوشی سے گھرے ہونے کے باوجود خود کے الگ تھلگ ہونے کا اعتراف کیا تاہم انہوں نے مزید کہا کہ وہ تنہا ہیں لیکن ناخوش نہیں۔
کرن جوہر نے وضاحت کی کہ ان کی اپنے اندرونی خیالات کا اظہار کرنے میں ناکامی اس تنہائی میں معاون ہے، انہیں اپنے جذبات کو کھلے عام بیان کرنا مشکل لگتا ہے، اس ڈر سے کہ اس کے جذبات دوسروں پر بوجھ بن جائیں۔
کرن نے اعتراف کیا کہ انہوں نے تھراپی سیشن کروائے ہیں لیکن اب اس کے لیے جانا چھوڑ دیا ہے، اس کے پیچھے کی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اپنے ہی معالج بن رہے ہیں، اپنے اندرونی تنازعات سے نمٹنے کے لیے خود بات چیت میں مصروف ہیں۔





