انفوٹینمنٹ

ہنی سنگھ کی زندگی کے حالات و واقعات کا تفصیلی جائزہ

گلوکاری ، اداکاری اور شہرت کا شاہکار ہنی سنگھ کے بارے میں جانیے

ایمن ملک

ہنی سنگھ کی زندگی کے حالات و واقعات کا تفصیلی جائزہ

گلوکاری ، اداکاری اور شہرت کا شاہکار ہنی سنگھ کے بارے میں جانیے

اسکرین گریب
اسکرین گریب

بلو آئیز، لو ڈوز، جیسے ریپ سانگ سننے کیساتھ ہی سب کے ذہنوں میں معروف بھارتی ریپر گلوکار اور میوزک پروڈیوسر ہنی سنگھ کا چہرہ بنتا ہے جو نہ صرف ملٹی ٹیلنٹڈ ہیں بلکہ اپنی شخصیت کی بدولت بھی ایک انفرادی پہچان رکھتے ہیں۔

کئی دیگر نامور شخصیات کی طرح ہنی سنگھ نے بھی اپنے اصل نام کے بجائے پیشہ ورانہ نام سے شہرت حاصل کی ویسے تو انکا نام ہردیش ہنی سنگھ ہے لیکن دنیا کا ہر بچہ بڑا انہیں ’یویو ہنی سنگھ’ کے نام سے جانتا ہے۔

تو آئیے بات کرتے ہیں آج اس شخص کی جس کی پوری زندگی ایک کھلی کتاب کی مانند ہے، میوزک سے لے کر اداکاری اورپھر ازدواجی تعلقات بھی ہنی سنگھ کی مکمل زندگی کا احاطہ کیے ہوئی ہے۔

ہنی سنگھ کی ابتدائی زندگی اور تعلیمی قابلیت:

فائل فوٹو
فائل فوٹو

15 مارچ 1983 کو پنجاب کے شہر ہوشیار پور میں ایک سکھ خاندان میں آنکھ کھولنے والے ہردیش ہنی سنگھ کا خاندان حالانکہ لاہور، پاکستان سے تعلق رکھنے والا ایک لاہوری سکھ مہاجر تھا لیکن انکی پرورش دہلی کے مغربی علاقے کرم پورہ میں ہوئی، جو کہ 1947 میں بھارت-پاکستان تقسیم کے بعد ایک مہاجر بستی بن گیا تھا۔

ہنی سنگھ نے اپنی ابتدائی تعلیم گرو نانک پبلک اسکول، پنجابی باغ نئی دہلی سے حاصل کی اور اسکول کے دنوں سے ہی مستقبل کے گلوکار میں وہ تمام صلاحتیں رونما ہونی شروع ہوگئیں جس نے آج انہیں فرش سے عرش تک پہنچایا ہوا ہے۔

کیونکہ ہنی سنگھ اسکول کے دنوں میں طبلہ بجاتے تھے اور چونکہ وہ ایک سکھ تھے، اس لیے ابتداء میں پگڑی پہنتے تھے، تاہم ان کے بال قدرتی طور پر ڈریڈ لاکس کی شکل اختیار کرنے لگے، اور تین بار دھونے کے باوجود ان میں کوئی فرق نہ آیا یہی وجہ تھی کہ بالآخر، ان کی والدہ کو ہنی سنگھ کے بال 12 یا 13 سال کی عمر میں کاٹنے پڑے۔

بالوں سے محروم ہونے کے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے ہنی سنگھ بتاتے ہیں کہ اگلے دن اسکول اسمبلی میں انہوں نے سر پر کپڑا لپیٹا، اور جب پرنسپل نے دیکھا تو انہیں باہر نکال دیا۔ اس واقعے کے بعد ان کے والد نے تقریباً 2 سے ڈھائی سال تک ان سے بات نہیں کی، جس کی وجہ سے سنگھ نے طبلہ بجانا چھوڑ دیا اور بعد میں وہ ملحد (Atheist) بن گئے۔

ہنی سنگھ کے دیگر مذاہب سے تعلقات:

فائل فوٹو
فائل فوٹو

گلوکار کے مطابق وہ مذہب کو صرف علم کی حد تک جاننا چاہتے تھے، لیکن اس پر عمل کرنے کے خواہشمند نہیں تھے۔ اپنی زندگی میں انہوں نے مختلف مذاہب سے واقفیت حاصل کی، جن میں سکھ مت (اپنے گھرانے سے)، ہندو مت (اپنے روحانی گرو ابھینو آچاریہ جی سے)، اور اسلام و صوفی ازم (2007 میں جب وہ موہالی، پنجاب منتقل ہوئے) شامل ہیں۔ بعد ازاں بائپولر ڈس آرڈر سے صحت یابی کے دوران وہ بھگوان شیو کے بھگت بن گئے۔

یہ بھی پڑھیں:اللو ارجن کی حیران کم کمائی کرنے والی فلمیں کونسی؟

تعلیمی اعتبار سے گلوکار نے 2001 میں انفارمیشن ٹیکنالوجی میں بی ایس سی کیا تاکہ وہ اپنے خاندان سے کمپیوٹر حاصل کر سکیں جس پر وہ بیٹس اور میوزک پروڈکشن کر سکیں۔

لیکن وہ کہتے ہیں نا کہ شوق کا کوئی مول نہیں ہوتا، ایسا ہی کچھ ہنی سنگھ کیساتھ بھی ہوا کیونکہ موسیقی سے دلچسپی کی وجہ سے ہنی سنگھ نے برطانیہ کا سفر کیا اور ٹرینیٹی کالج آف میوزک میں تعلیم حاصل کی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ دہلی واپس آگئے اور بطور ریکارڈنگ آرٹسٹ اور بھنگڑا میوزک پروڈیوسر کیریئر کا آغاز کیا۔

ہنی سنگھ کا شاندار کیرئیر:

فائل فوٹو
فائل فوٹو

زندگی کے بہت کم وقت میں کئی تجربات کرنے والے ہنی سنگھ کیلئے جب اپنے خوابوں کو پورا کرنے کا وقت قریب آیا تو انہوں نے اپنے والد کی ناراضی مول لینے کیساتھ ساتھ بنا کسی تاخیر کے سال 2003 میں ایک انڈرگراؤنڈ میوزک پروڈیوسر کے طور پر زندگی کے نئے باب کا آغاز کرلیا۔

یہی وہ وقت تھا جب انہوں نے اپنا پہلا البم’دیسی بائے نیچر’ ریلیز کیا، کہا جاتا ہے کہ انہوں نے میوزک پروڈکشن اپنی محنت کے بل بوتے خود سیکھی تھی۔کیونکہ انہوں نے کالج کے دنوں میں انگریزی گانوں سے میوزک اور بیٹس کا سیمپل لے کر سیکھنا شروع کیا۔ اس البم کی پائریٹڈ سی ڈیز برمنگھم، برطانیہ میں فروخت ہونے لگیں۔

بس یہیں سے گلوکار پر قسمت کی دیوی مہربان ہونا شروع ہوگئی اور سال 2004 میں، برمنگھم کی ایک میوزک کمپنی نے خود ہنی سنگھ سے رابطہ کیا تاکہ وہ ایک پنجابی ریمکس البم کے لیے میوزک پروڈیوسر کے طور پر کام کریں۔

’لے کر ہم دیوانہ دل’:

فائل فوٹو
فائل فوٹو

سونے پر سہاگا اس وقت بھارت میں ریمکس گانے کافی مقبول ہو رہے تھے۔ پھر ہنی سنگھ 21 سال کی عمر میں اس البم کے لیے ممبئی گئے جہاں انہوں نے نہ صرف اس البم پر 10 ماہ تک کام کیا بلکہ اس البم کے لیے ’لے کر ہم دیوانہ دل’ کا میوزک ویڈیو بھی بنایا گیا، جو ان کی اسکرین پر پہلی جھلک تھی۔

کہا جاتا ہے کہ اس ویڈیو نےانہیں ’میوزک کِڈ ہنی سنگھ’ کے طور پر متعارف کروایا جو ان کا اس وقت کا اسٹیج نام تھا۔ اور پھر اس البم کا نام ’بالی وڈ ریبرتھ’ رکھا گیا، تاہم یہ البم فلاپ ہو گیا۔ ہنی سنگھ نے اس البم کے عوض ملنے والے 5 لاکھ روپے کا معاوضہ یہ کہہ کر ٹھکرا دیا کہ جب البم چلا ہی نہیں تو وہ پیسے نہیں لیں گے۔

کامیابی کی سیڑھی اتنی آسانی سے نہیں چڑھی جاتی، اور یہی نشیب و فراز گلوکار کی زندگی میں بھی آئے۔

’پیشی’:

فائل فوٹو
فائل فوٹو

اور پھر سال 2005 میں ہنی سنگھ کے کارناموں پر روشنی ڈالتے ہیں جب انہوں نے ’پیشی ’ نامی ایک البم پر کام کیا جو بل سنگھ کے لیے تھا، اور وہ اس کے میوزک ویڈیو میں بھی نظر آئے۔

بعدازاں 2005 سے 2006 کے دوران، پنجابی گلوکار اشوک مستی نے ہنی سنگھ سے ایک نئے گانے ’گلاسی’ کی کمپوزیشن کروائی جس میں ہنی سنگھ نے پہلی بار انگریزی ریپ گایا جو ایک زبردست کامیابی ثابت ہوا، اس کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہنی سنگھ کا یہ گانا بی بی سی ورلڈ چارٹس تک پہنچ گیا۔

اس کامیابی کو سمیٹنے کے بعد ہنی سنگھ اگلے سال یعنی 2007 میں موہالی، پنجاب منتقل ہو گئے، کیونکہ ایک دوست نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ پنجابی میوزک انڈسٹری میں کام آسانی سے مل جائے گا۔ اس وقت ہنی سنگھ پنجاب میں ایک ایوارڈ یافتہ میوزک پروڈیوسر کے طور پر جانے جانے لگے۔

’دی نیکسٹ لیول’:

فائل فوٹو
فائل فوٹو

اور صرف یہی نہیں بلکہ ہنی سنگھ کے مداحوں نے وہ وقت بھی دیکھا جب انہوں نے سال 2008 اور 2009 میں دلجیت دوسانجھ کے چھٹے اسٹوڈیو البم ’دی نیکسٹ لیول’ کے لیے موسیقی کمپوز کی۔

اس البم میں ہنی سنگھ نے کئی گانوں میں ریپ بھی کیا جیسے ’پنگا’ اور لاس اینجلس، جبکہ ’روبرو’ گانے کے بول بھی انہوں نے لکھے جو دلجیت کا اب تک کا واحد اردو گانا ہے۔ یہ البم بہت کامیاب رہا اور شائقین نے اس جوڑی کے کام کو بہت سراہا۔

لک 28 کڑی دا:

فائل فوٹو
فائل فوٹو

اور پھر جب یہاں بھی یویو کی کامیابی حاصل کرنے کا جنون کم نہ ہوا تو انکا گانا ’لک 28 کڑی دا’ منظر عام پر آتے ہی چھا گیا جسے مئی 2011 میں بی بی سی ایشین ڈاؤن لوڈ چارٹس میں پہلے نمبر پر پیش کیا گیا اورصرف یہی نہیں بلکہ یہ دلجیت کی فلم ’لائن آف پنجاب’ کے پروموشن کے لیے بھی استعمال ہوا۔

پھر دیکھتے ہی دیکھتے ہنی سنگھ 2010 کی دہائی میں بھارتی میوزک انڈسٹری میں تیزی سے مقبول ہونے لگے۔ وہ انسل انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور رامجس کالج، دہلی جیسے متعدد کالج فیسٹیولز میں پرفارم کرتے رہے۔ اُن کی مشہور فنکاروں جیسے دلجیت دوسانجھ کے ساتھ کولیبوریشنز نے ان کی پوزیشن کو مزید مستحکم کیا۔

بعدازاں اس سال کے آخر میں ہنی سنگھ پنجاب میں تین سال بطور ایوارڈ یافتہ میوزک پروڈیوسر کام کرنے کے بعد دہلی واپس آئے تاکہ وہ اپنا خود کا پہلا اسٹوڈیو البم تیار کر سکیں۔ 11 نومبر 2011 کو ان کا پنجابی البم ’انٹرنیشنل ولیجر’ ریلیز ہوا، جس میں 14 گانے شامل تھے۔

اور پھر جب ہنی سنگھ کے البم کی بات ہو اور ’براؤن رنگ’ کا ذکر نہ ہو ایسا کیسے ممکن ہے؟ یہ میوزک ویڈیو یوٹیوب پر 2012 کی سب سے زیادہ ٹرینڈنگ ویڈیو میں سے ایک بنی جسے کمپوزیشن، شاعری، گائیکی، ریپ اور بین الاقوامی ویڈیو پروڈکشن کے لیے بہت سراہا گیا۔

اس سب کے بعد گلوکار کے شاہکار کی فہرست میں انگریزی بیٹ، ڈوپ شوپ، گولیاں، گیٹ اپ جوانی بھی شامل ہے جو نہ صرف موسیقی کے متوالوں کے دلوں کے قریب ہے بلکہ یہ سبھی چارٹ بسٹرز ثابت ہوئے۔

یو یو ہنی سنگھ نے اپنی صحت سے متعلق سنجیدہ مسائل پر قابو پانے کے بعد 2018 میں ’مکھنا’ گانے کے ساتھ شاندار واپسی کی، جس نے انہیں ایک بار پھر بھارتی میوزک انڈسٹری میں نمایاں مقام دلا دیا۔

پھر 2019 میں ہنی سنگھ نے مشہور پنجابی گلوکار ملکیت سنگھ کے ساتھ ’گُڑ نال عشق متھا – دی یو یو ریمیک’ پر کام کیا، جو ان کی ورسٹائل صلاحیتوں کا ثبوت تھا۔ 2020 میں ’لوکا’ جیسے گانے سامنے آئے جو خوب مقبول ہوئے۔ اس کے علاوہ وہ ’بلو تُو آگ اے اور ’جنگل بیل’ میں بھی شامل ہوئے۔

2021 میں ہنی سنگھ نے ’فرسٹ کس’ اور ’سیاں جی’ جاری کیا۔ اسی سال ’کانٹا لگا’اور ’بوم بوم’ جیسے گانوں کے ذریعے بھی وہ میوزک سین میں سرگرم رہے۔

2023 میں انہوں نے ’ہنی 3.0’ البم کے تحت ’کلااسٹار’ ریلیز کیا، جو ان کے 2014 کے ہِٹ گانے ’دیسی کلاکار’ کا سیکوئل تھا۔

بعدازاں ’ہنی 3.0’ کے دیگر گانے جیسے ناگن، تجھ پہ پیار، سیویج اور کلے کلے بھی سامنے آئے۔

2024 میں، ہنی سنگھ نے 18 گانوں پر مشتمل البم ’گلوری’ ریلیز کیا، جس میں ملینیئر، پائل اور جٹ محکمہ شامل تھے۔ اس البم میں 10 مختلف زبانوں میں گانے شامل تھے، جن میں ہندی، پنجابی، انگریزی، ہریانوی، بھوجپوری، ہسپانوی، فرانسیسی، عربی، سندھی اور بلوچی شامل ہیں، جن میں سے 6 زبانیں برصغیر سے تعلق رکھتی ہیں۔

دسمبر 2024 میں ہنی سنگھ نے ’ہٹ مین’ گانا ریلیز کیا، جو اداکار سونو سود کی فلم ’فتح’ کے لیے تھا۔ گانا ہنی سنگھ نے خود گایا اور کمپوز کیا جبکہ اس کے بول لیو گریوال اور پیرادوکس نے لکھے، جنہوں نے گلوری البم میں بھی سنگھ کے ساتھ کام کیا تھا۔

2025 میں ہنی سنگھ نے ’ملینیئر انڈیا ٹور’ کا اعلان کیا جو کہ آج تک کے اشتراک سے منعقد ہوا، اور اس دوران وہ 10 بڑے بھارتی شہروں (ممبئی، لکھنؤ، دہلی، اندور، پونے، احمدآباد، بنگلور، چندی گڑھ، جے پور، اور کولکتا) گئے۔ ہر شہر میں ٹکٹ چند منٹوں میں فروخت ہو گئے اور بعض مقامات پر وینیو کا سائز بھی بڑھانا پڑا۔ ممبئی میں انہوں نے کیبل کے ذریعے اوپر سے اسٹیج پر انٹری دی جسے بہت پسند کیا گیا۔

ہنی سنگھ کا حیران کن معاوضہ:

بتایا جاتا ہے کہ سال 2012 تک ہنی سنگھ نے بالی وڈ میں کسی گانے کے لیے اب تک کی سب سے زیادہ فیس لینے کا ریکارڈ قائم کیا ہے انہوں نے فلموں ’کاک ٹیل’ اور ’مستان’ میں گانوں کے لیے مبینہ طور پر 70 لاکھ روپے چارج کیے۔

2013 میں، ہنی سنگھ نے ایک اور ہٹ گانا بلو آئیز ریلیز کیا۔ یہ گانا اپنی عمدہ پروڈکشن اور دلکش دھن کی وجہ سے بہت جلد مقبول ہو گیا۔ اس نے ہنی سنگھ کی اس مہارت کو بھی نمایاں کیا کہ وہ کس طرح ہندی اور انگریزی بولوں کو بین الاقوامی انداز میں جوڑ سکتے ہیں۔

صحت کے مسائل اور کم بیک:

فائل فوٹو
فائل فوٹو

2014 میں، ہنی سنگھ نے اپنا دوسرا البم ’دیسی کلاکار’ ریلیز کیا جس میں انہیں سوناکشی سنہا کیساتھ اداکاری کے جوہر دکھاتے دیکھا گیا۔

جبکہ گانے ’لو ڈوز’ میں اروشی روٹیلا اور ہنی سنگھ نظر آئے۔ 8 گانوں پر مشتمل یہ البم 26 اگست 2014 کو ریلیز ہوا جس میں اروشی روٹیلا نے ہنی سنگھ کی محبوبہ کا کردار ادا کیا۔ البم کے دیگر گانوں پر ویڈیوز بنانے کی بھی منصوبہ بندی تھی، مگر ہنی سنگھ کی صحت خراب ہونے لگی اور وہ موسیقی سے عارضی دوری اختیار کرنے پر مجبور ہو گئے۔

حالانکہ اس دوران گلوکار صحت کے مسائل سے نبردآزما تھے لیکن پھر بھی موسیقی کی دنیا میں سرگرم رہے۔ 2015 میں انہوں نے ’دھیرے دھیرے’ نامی گانا لکھا، کہا جاتا ہے کہ یہ یوٹیوب پر پہلا بھارتی گانا تھا جس نے 200 ملین ویوز کا ہندسہ عبور کیا۔

گلوکار کی صحت سے متعلق یہ بات سامنے آئی تھی کہ انہیں بائی پولر بیماری کی تشخیص ہوئی تھی جس کے بعد انہوں نے میوزک انڈسٹری سے وقفہ لیا، تاہم کچھ میڈیا ذرائع نے دعویٰ کیا کہ وہ نشہ آور ادویات اور شراب کی لت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے بحالی مرکز (ریہیب) میں داخل تھے۔

بعد ازاں ہنی سنگھ نے ان افواہوں کی تردید کی اور کہا کہ وہ اپنے کیریئر سے اس لیے دور رہے کیونکہ وہ بائی پولر بیماری کا شکار تھے۔

ایک انٹرویو میں گلوکار نے ان دعوؤں پر ردعمل دیتے ہوئے بتایا تھا کہ ‘میں اپنے کمرے سے باہر نہیں نکلتا تھا، گھر سے باہر نکلنا تو دور کی بات ہے۔ میری داڑھی بڑھی ہوئی تھی اور میں نے کئی مہینوں تک بال نہیں کٹوائے۔ جو شخص 20,000 لوگوں کے مجمعے کے سامنے پرفارم کر چکا ہو، وہ 4-5 لوگوں کا سامنا کرنے سے بھی ڈر رہا تھا۔’

بالی ووڈ میں انٹری:

ہنی سنگھ نے اپنے اس ٹیلنٹ کو صرف پنجابی گانوں تک ہی محدود نہ رکھا بلکہ بالی وڈ کی دنیا میں بھی اپنی خاص انٹری سے سب کو اپنا دیوانہ بنالیا۔

انکا پہلا بالی وڈ گانا ’شکل پر مت جا’ تھا جسکے بعد 2011 میں، انہوں نے فلم ’دیسی بوائز’ کے مشہور گانے ’صبح ہونے نہ دے’ کا ابتدائی حصہ گایا۔ ساتھ ہی انکے میوزک کیرئیر میں پارٹی آل نائٹ، لنگی ڈانس، چار بوتل ووڈکا اور سنی سنی جیسے بلاک بسٹر گانے بھی شامل ہیں۔

فلم 'مستان' کا ذکر بھی اس آرٹیکل میں شامل کرلیتے ہیں جس میں گانے کے لیے ہنی سنگھ نے 70 لاکھ روپے معاوضہ وصول لیا، جو اُس وقت کسی بھی بالی وڈ گلوکار کو دی جانے والی سب سے بڑی رقم تھی۔

پھر ہنی سنگھ نے فروری 2015 میں گانے ’برتھ ڈے بیش’ کے ساتھ واپسی کی اور پھر ان کے گانے فلم’گبراز بیک’ اور ’بھاگ جوہنی’ میں بھی شامل ہوئے۔

گلوکاری سے اداکاری تک کا سفر:

بات صرف گلوکاری تک ہی محدود نہ رہی بلکہ ہنی سنگھ نے 2012 میں ریلیز ہونے والی پنجابی فلم ’مرزا_ دی ان ٹولڈ اسٹوری’ میں ایک ایک پاگل گینگسٹر سے کیمیو کردار سے اداکاری کا بھی آغاز کیا۔

پھر اگلے ہی سال انہوں نے پنجابی کامیڈی فلم ’تو میرا 22 میں تیرا 22’ اور 2016 میں پنجابی ایکشن فلم ’زورآور’ میں مرکزی کردار ادا کیا، یہ فلم اب تک کی مہنگی ترین پنجابی فلموں میں سے ایک مانی جاتی ہے اور اسے ناقدین کی جانب سے بھی خوب سراہا جاتا ہے۔

ہنی سنگھ اور انکے تنازعات:

ہر عروج کیساتھ زوال ہے کہ جملہ تو سب نے ہی ضرور سنا ہوگا ، ایسا ہی کچھ ہنی سنگھ  کیساتھ بھی ہوا، کیرئیر میں کئی کامیابیاں سمیٹنے کے بعد سال 2012 میں ہنی سنگھ کے زوال کا وقت شروع ہوگیا جب دہلی گینگ ریپ واقعے کے بعد، یو یو ہنی سنگھ کے کچھ گانوں کے بول، جن میں خواتین کے خلاف تشدد اور زیادتی کو مثبت انداز میں پیش کیا گیا، شدید تنقید کا نشانہ بنے۔

ان متنازع گانوں پر گلوکار کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی، اور سماجی کارکنوں کے ایک گروہ نے ان کا نیا سال کا شو گڑگاؤں کے ایک ہوٹل میں منسوخ کروانے کے لیے آن لائن پٹیشن دائر کی۔ اس مہم کے بعد ہوٹل نے ہنی سنگھ کا شو منسوخ کر دیا۔ ہنی سنگھ نے ان گانوں کے بول خود لکھنے سے انکار کیا۔

یہاں تک کہ ہنی سنگھ کا گانا ’پارٹی آل نائٹ’ بھی تنازع کا شکار ہوا جسکی وجہ سے فلم کے پروڈیوسرز کو دہلی ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کرنا پڑی جسکی وجہ یہ بنی تھی کہ انہوں نے گانے میں موجود مبینہ فحش لفظ کو 'میوٹ' کر دیا ہے۔

وکیل سنجے بھاٹناگر کی طرف سے دائر کردہ پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ جب تک سنسر بورڈ کی منظوری حاصل نہ ہو، گانے کو فلم میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت سے فلم کی ریلیز پر پابندی کی درخواست کی گئی تھی۔

یہی وجہ تھی کہ ہنی سنگھ کے کام کو فحش، عورت دشمن، توہین آمیز اور نسل پرستانہ قرار دیا گیا ہے، جو خواتین پر تشدد، شراب نوشی، اور منشیات کے استعمال کو فروغ دیتا ہے اور نوجوانوں پر برا اثر ڈال رہا ہے۔ ان پر پرنٹ میڈیا میں بھی سخت تنقید کی گئی۔

2014 میں، ہنی سنگھ اور ریپر رفتار کے درمیان اس بات پر تنازع ہوا کہ آیا گانے ’یہ فگلی فگلی کیا ہے’ کے بول لکھنے کا کریڈٹ رفتا ر کو دیا جائے یا نہیں۔

2015 میں، سینٹ اسٹیفن کالج کے ایک طالبعلم کی جانب سے ہنی سنگھ کے متنازع گانوں پر ایک طنزیہ ریپ سامنے آیا، جس میں خواتین کے نقطۂ نظر سے ہنی سنگھ کے گانوں پر تنقید کی گئی اور سوشل میڈیا پر وہ ویڈیو وائرل ہوئی۔

اور صرف یہی نہیں بلکہ ہنی سنگھ سے متعلق ایک بار یہ افواہیں بھی گردش کر رہی تھیں کہ بھارتی اداکار شاہ رخ خان نے ہنی سنگھ کو تھپڑ مارا تھا۔ تاہم، ایک انٹرویو میں ہنی سنگھ کی سابقہ اہلیہ شالینی تلوار نے ان تمام افواہوں کو یہ کہتے ہوئے رد کردیا کہ ایسا کوئی واقعہ کبھی پیش ہی نہیں آیا، شاہ رخ خان نے کبھی ہنی سنگھ کو تھپڑ نہیں مارا، دراصل شاہ رخ خان نے کئی مواقع پر ہماری مدد اور حمایت کی ہے۔

شالینی کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ ’ وہ (شاہ رخ خان) ہنی سنگھ کو اپنے چھوٹے بھائی کی طرح سمجھتے ہیں۔ کچھ سال پہلے، ہنی سنگھ کی طبیعت بہت خراب تھی اور ڈاکٹروں نے انہیں سختی سے سفر کرنے سے منع کیا تھا، لیکن انہوں نے اپنے وعدے کی وجہ سے سفر کیا۔ جب شاہ رخ خان نے ٹور کے دوران ہنی سنگھ کی حالت دیکھی تو انہوں نے ہنی کو کہا کہ اگر وہ پرفارم نہیں کر سکتا تو آرام کرے۔’

اور پھر اکتوبر 2022 میں پیش آنے والا تنازع یاد کریں تو ہنی سنگھ نے انسٹاگرام پر ایک تصویر اپلوڈ کی تھی جس میں وہ ایک لڑکی کا ہاتھ تھامے ہوئے نظر آ رہے تھے۔

بس پھر کیا تھا یہ تصویر سوشل میڈیا پر تنازع کا سبب بن گئی جسکے بعد ایک انٹرویو میں ہنی سنگھ نے انکشاف کیا کہ وہ ایک لڑکی سے محبت کرتے ہیں جس کے نام انہوں نے اپنا میوزک البم ’ہنی سنگھ’ وقف کیا۔

بعدازاں ہنی سنگھ نے 25 فروری 2024 کو اداکارہ اروشی روٹیلا کی 30ویں سالگرہ پر 24 قیراط سونے کا کیک پیش کیا، جس کی مالیت تقریباً 3 کروڑ روپے تھی۔

ہنی سنگھ کی ازدواجی زندگی:

فائل فوٹو
فائل فوٹو

کیرئیر میں کئی نشیب و فراز دیکھنے کے بعد گلوکار نے 23 جنوری 2011 کو اپنی دیرینہ دوست شالینی تلوار سے شادی کی، جن سے ان کی ملاقات ٹیوشن کے دنوں میں ہوئی تھی۔ لیکن بدقسمتی سے یہ رشتہ زیادہ عرصے نہ چل سکا اور نومبر 2023 میں دونوں نے اپنی اپنی راہیں جدا کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

اس علیحدگی کے بعد شالینی نے گلوکار پر گھریلو تشدد کے الزامات بھی لگائے جسے ہنی سنگھ نے مسترد کیا، اور بعد میں شالینی نے ایک معاہدے کے بعد ان الزامات کو واپس لے لیا۔

بتایا جاتا ہے کہ ہنی سنگھ نے شالینی کو 1 کروڑ روپے سے زائد کا نان نفقہ دیا۔