سوشل میڈیا

'اورنگزیب نام ہمیشہ بھارت کیلئے بھیانک خواب بنا رہے گا'

ایئر وائس مارشل اورنگزیب احمد کو 'نیشنل کرش' کا خطاب مل گیا

Web Desk

'اورنگزیب نام ہمیشہ بھارت کیلئے بھیانک خواب بنا رہے گا'

ایئر وائس مارشل اورنگزیب احمد کو 'نیشنل کرش' کا خطاب مل گیا

(فائل فوٹو: سوشل میڈیا)
(فائل فوٹو: سوشل میڈیا)

پاکستان ایئر فورس کے ڈپٹی چیف آف ایئر آپریشنز وائس ایئر مارشل اورنگزیب احمد بھارت کے خلاف کامیاب جوابی آپریشن 'بُنیان مرصوص' کے بعد کروڑوں پاکستانیوں کے دلوں کی دھڑکن بن گئے۔

آج سے محض چند ماہ قبل بالی وڈ اداکار وکی کوشل کی فلم 'چھاوا' کی ریلیز کے بعد بھارت میں انتہاپسند ہندوؤں کی جانب سے مغل بادشاہ اورنگزیب کا مقبرہ اکھاڑنے کی آوازیں اٹھتیں سنائی دے رہی تھیں۔

انتہاپسند بھارتیوں کا یہ مطالبہ تو پورا نہ ہوسکا، تاہم 'اورنگزیب' نام کے دبدبے سے بھارتیوں پر خوف طاری کرنے کیلئے پاکستان سے ایک اور اورنگزیب سامنے آگیا۔

6 اور 7 مئی کی درمیانی شب بھارت کے بزدلانہ حملے اور 10 مئی کو پاکستان کے کامیاب جوابی آپریشن کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹینینٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پاکستان ایئرفورس اور پاکستان نیوی کے افسران وائس ایڈمرل رب نواز اور ڈپٹی چیف آف ایئر آپریشنز وائس ایئرمارشل اورنگزیب احمد کے ہمراہ 2 پریس کانفرنسز کی ہیں۔

ان دونوں پریس کانفرنسز سے جہاں پوری قوم کا مورال بلند ہوا وہیں ایئر وائس مارشل اورنگزیب احمد اور ان کا منفرد انداز گفتگو مرکز نگاہ بن گئے۔

پہلی پریس کانفرنس کے بعد ہی ملک بھر کے عوام ایئر وائس مارشل اورنگزیب احمد اور ان کی حاضر جوابی پر فریفتہ نظر آئے جبکہ گزشتہ روز ہونے والی پریس کانفرنس کے بعد ایئر وائس مارشل اورنگزیب احمد پر لٹّو ہونے والی قوم پر بنی میمز کا طوفان امڈ آیا۔

ایک صارف نے لکھا کہ 'اورنگزیب احمد زمانہ طالبعلمی میں 2 دن اسکول نہیں گئے تھے، آج دنیا اُن 2 دنوں کو ویک اینڈ کہتی ہے'۔

ایک اور صارف نے لکھا کہ 'جب اورنگزیب احمد طالبعلم تھے تو اساتذہ اُن سے بات کرنے کیلئے ہاتھ کھڑا کرتے تھے'۔

اسی طرح ایک میم میں مشہور ڈرامہ 'الفا براوو چارلی' کا کردار دکھایا گیا جو سینئر افسر سے فون پر کہہ رہا ہے 'سر تمام لیڈیذ اورنگزیب سر کی انسٹاگرام آئی ڈی مانگ رہی ہیں'۔

ایسی ہی ایک اور میم میں ڈرامہ 'الفا براوو چارلی' کا کردار دکھایا گیا جو سینئر افسر سے فون پر کہہ رہا ہے 'سر لیڈیز لوگ کہہ رہی ہیں کہ ایئر وائس مارشل اورنگزیب ہفتہ وار پریس کانفرنسز کر سکتے ہیں کیا؟'

ایک صارف نے توجہ دلائی کہ گزشتہ روز ہونے والی پریس کانفرنس میں ایئر وائس مارشل اورنگزیب احمد نے انگوٹھی پہن رکھی تھی، جسکی ممکنہ وجہ پہلی پریس کانفرنس کے بعد اُن پر فدا ہونے والی لڑکیاں ہوسکتی ہیں۔

ایک اور صارف نے ٹوئٹر ٹرینڈز اور میمز کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا کہ 'اورنگزیب سر کے بیگم بچے آج ٹوئٹر نہ ہی استعمال کریں تو اچھا ہے'۔

یہ تجویز کچھ اتنی غلط بھی نہیں معلوم ہوتی کیونکہ اورنگزیب احمد کو نہ صرف 'نیشنل کرش' کا خطاب مل چکا ہے بلکہ بعض شوخ مزاج سوشل میڈیا صارفین اورنگزیب احمد کی تصاویر اور ویڈیوز پر باقاعدہ رومانوی گانے لگا کر پوسٹس شیئر کررہے ہیں۔

'اورنگزیب احمد' اور 'مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر'

سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر ایک صارف نے لکھا کہ 'اورنگزیب نام کے لوگ ہمیشہ بھارت کیلئے ایک بھیانک خواب بنے رہیں گے'

ایک اور صارف نے لکھا کہ 'چھاوا' فلم میں بادشاہ اورنگزیب کو دیکھنے کے بعد حواس باختہ بھارتیوں کو اب ایئر وائس مارسل اورنگیزب احمد کا نام بھی ہمیشہ یاد رہے گا۔

ایک اور میم میں باشادہ اورنگزیب کی پینٹنگ میں ان کے چہرے ایئر وائس مارشل اورنگزیب احمد کی تصویر ایڈٹ کرکے لگائی گئی تھی۔

تصویر کے کیپشن میں لکھا تھا 'بھارتیوں کو ایئر وائس مارشل اورنگزیب احمد کچھ اس طرح نظر آتے ہیں'۔

پریس کانفرنس کے دوران ایئر وائس مارشل اورنگزیب احمد کے برجستہ جملوں نے بھی خوب توجہ سمیٹی، مثلاً پاک فضائیہ کی جانب سے گرائے گئے بھارتی طیاروں کا حوالہ دیتے ہوئے اورنگزیب احمد نے گفتگو کے آغاز میں کہا کہ ’میں ہوں ایئر وائس مارشل اور میں وہیں سے شروع کروں گا جہاں بات ختم کی تھی۔۔۔ پاکستان فضائیہ 6، انڈین فضائیہ 0'۔

اسی طرح رافیل طیاروں سے متعلق گفتگو کے دوران بھارتی پائلٹس پر طنز کرتے ہوئے اورنگزیب احمد نے کہا کہ 'رافیل طیارے واقعی بہت اچھے ہیں، اگر ٹھیک سے چلائے جائیں'۔

میڈیا کو بریفنگ کے دوران ایک اور کلپ میں ایئر وائس مارشل کو کہتے سنا جا سکتا ہے جس میں وہ انڈین پائلٹس کو کہہ رہے ہیں کہ ان کی سیکھنے کی رفتار کم ہے، امید ہے کہ وہ آئندہ ایسا کرنے کا نہیں سوچیں گے۔

ایئر وائس مارشل اورنگزیب احمد کون ہیں؟

ایئر وائس مارشل اورنگزیب احمد نے دسمبر 1992 میں پاک فضائیہ میں اپنے کیریئر کا آغاز جنرل ڈیوٹی (پائلٹ) برانچ میں کمیشن حاصل کر کے کیا۔ 

اُن کا کیریئر آپریشنل کمانڈ کے وسیع تجربات سے مزین ہے، جن میں ایک فائٹر سکواڈرن اور ایک آپریشنل ایئر بیس کی قیادت شامل ہے۔ 

انہوں نے اہم حکمتِ عملی کے عہدوں پر بھی خدمات انجام دیں، جن میں ایئر ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں اسسٹنٹ چیف آف دی ایئر سٹاف (آپریشنل ریکوائرمنٹس اینڈ ڈیولپمنٹ) کے طور پر فرائض انجام دینا شامل ہے۔

اورنگزیب احمد نے چین کی ایک جامعہ سے ملٹری آرٹس میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی، جبکہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے نیشنل سکیورٹی اور وار سٹڈیز میں ماسٹرز کیا۔ انہوں نے آئندہ نسل کے فوجی رہنماؤں کی تعلیم و تربیت میں بھی اہم کردار ادا کیا اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں ڈائریکٹنگ سٹاف اور فیکلٹی ممبر کے طور پر خدمات انجام دیں۔

ایئر وائس مارشل احمد کا تجربہ بین الاقوامی سطح تک پھیلا ہوا ہے۔ انہوں نے سعودی عرب میں پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس کی ٹیم کے کمانڈر کی حیثیت سے فرائض انجام دیے، جہاں انہوں نے بین الاقوامی ماحول میں اپنی قیادت کی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ 

پاک فضائیہ میں ان کی نمایاں خدمات میں ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز (ڈی جی پی آر) اور ڈائریکٹر جنرل وارفیئر اینڈ سٹریٹجی کے عہدے بھی شامل ہیں۔ 

اس وقت وہ ایئر ہیڈکوارٹرز میں ڈپٹی چیف آف دی ایئر سٹاف (آپریشنز) کے اہم عہدے پر فائز ہیں، ان کی غیرمعمولی خدمات کے اعتراف میں انہیں ستارۂ امتیاز (ملٹری) سے بھی نوازا گیا ہے۔

پاک بھارت کشیدگی

یاد رہے کہ پہلگام حملے کے بعد 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب بھارتی فوج نے رات کی تاریکی میں بزدلانہ حملہ کرتے ہوئے آزاد کشمیر کے علاقوں کوٹلی، مظفر آباد اور باغ کے علاوہ مریدکے اور احمد پور شرقیہ میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا جس میں 2 مساجد شہید ہوئیں جبکہ حملوں میں دو بچوں سمیت 31 پاکستانی شہید اور 51 زخمی ہوئے تھے۔

بھارت کی جانب سے رات کی تاریکی میں پاکستان پر بزدلانہ حملے کے بعد پاکستان نے بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دیا، پاکستان پر حملہ کرنے والے 3 رافیل، ایک مگ ٹوئنٹی نائن، ایک ایس یو تھرٹی طیارے اور ایک کومبیٹ ڈرون کو مار گرایا۔

بعدازاں 10 مئی کو بھارت کے خلاف 'آپریشن بُنیان مرصوص' کے تحت پاکستان نے بھارت میں متعدد اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے ادھم پور ایئربیس، پٹھان کوٹ ایئربیس، سرسہ ایئربیس، سورت گڑھ ایئرفیلڈز، براہموس اسٹوریج سائٹ، بھارتی بریگیڈ ہیڈکوارٹر کے جی ٹاپ اور اڑی میں سپلائی ڈپو سمیت 12 اہداف کو تباہ کردیا۔