فریم ٹو فریم چربہ ہونے پر ’ستارےزمین پر‘تنقید کی زد میں
ایک ویڈیو میں ’ستارے زمین پر‘ اور اسپینش فلم کے فریم ٹو فریم چربہ ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے
بالی وڈ کے مسٹر پرفیکشنسٹ عامر خان کو اپنی اپکمنگ فلم ’ستارےزمین پر‘ کو فریم ٹو فریم اسپینش فلم ’چیمپینز‘ کا چربہ ہونے پر تنقید کا سامنا ہے۔
گزشتہ شب بالی ووڈ کے مسٹر پرفیکشنسٹ عامر خان نے اپنی نئی فلم’ ستارے زمین پر‘ کا بے صبری سے انتظار کیا جانے والا ٹریلر بالآخر ریلیز کر دیا۔
جینیلیا ڈسوزا اور 10 نئے اداکاروں کے ساتھ یہ فلم عامر خان اور درشیل سفاری کی 2007 کی شاہکار فلم’ تارے زمین پر‘ کا سیکوئل ہے۔
ریلیز سے قبل جینیلیا کے اداکار شوہر ریتیش دیشمکھ نے اس ٹریلر کو غیر معمولی قرار دیا تھا،جب ٹریلر ریلیز ہوا تو مداحوں نے بھی اس تعریف سے اتفاق کیا اور عامر خان کی اداکاری کو خوب سراہا جو فلم میں ایک باسکٹ بال کوچ کے کردار میں نظر آ رہے ہیں۔
تاہم سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کلپ وائرل ہوا، جس میں ’ستارے زمین پر‘ اور 2018 کی اسپینش فلم ’چیمپیئنز‘ کے درمیان مماثلتیں دکھائی گئیں۔
یہ لمحہ فلم کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہوا کیونکہ اب عامر کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔
عامر خان اور جینیلیا دیشمکھ کی اس فلم کے وکی پیڈیا پیج کے مطابق’ ستارے زمین پر‘ 2018 کی ہسپانوی فلم ’چیمپیئنز‘ پر مبنی ہے۔
یہ ہسپانوی فلم ویلینسیا کے علاقے برجاسوت میں ذہنی معذوری کے شکار افراد کی باسکٹ بال ٹیم سے متاثر ہو کر بنائی گئی تھی۔
بعد ازاں اسے عربی، جرمن اور انگریزی زبانوں میں بھی دوبارہ بنایا گیا لیکن اب سوشل میڈیا صارفین عامر کی فلم کو اس ہسپانوی فلم کی ’فریم بہ فریم کاپی‘ قرار دے کر تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
کچھ صارفین نے یہ بھی کہا کہ ٹیم کو باسکٹ بال کے بجائے کوئی ایسا کھیل منتخب کرنا چاہیے تھا جو بھارت میں زیادہ مقبول ہو جیسے کرکٹ یا ہاکی۔
دیگر لوگ اس فلم کا موازنہ عامر خان کی 2022 کی فلم’ لال سنگھ چڈھا‘ سے کر رہے ہیں، جو کہ 1994 کی ہالی وڈ فلم’ فارسٹ گمپ‘ کا بھارتی ورژن تھی اور باکس آفس پر بری طرح ناکام ہوئی تھی۔
ایک صارف نے لکھا کہ فارسٹ گمپ کے بعد تو اسے ریمیکس سے دور ہی رہنا چاہیے تھا۔یہ بھی فلاپ ہو گی، ایک اور ٹرول نے طنزیہ تبصرہ کیا کہ عامر خان پرفیکشنسٹ ہے مگر فلم فریم ٹو فریم کاپی کرنے میں۔
ایک اور کمنٹ میں کہا گیا کہ لوگ عامر کے اسکرپٹس کی تعریف کرتے ہیں مگر اس کی تقریباً ہر فلم کہیں نہ کہیں سے کاپی ہوتی ہے جبکہ ایک صارف نے نشاندہی کی کہ مسئلہ یہ ہے کہ بھارت میں باسکٹ بال سمجھنے والے لوگ بہت کم ہیں ، کم از کم کھیل کو بدل دیتے، جیسے کرکٹ، فٹبال، یا ہاکی رکھتے تو تھوڑا ریلیٹ ایبل لگتا۔
تاہم کچھ مداح فلم کے دفاع میں بھی سامنے آئے، ایک صارف نے کہا کہ آفیشل ریمیک ہے بھائی، تو اس میں نئی بات کیا ہے؟ جبکہ ایک اور صارف نے لکھا کہ ایسا لگ رہا ہے جیسے بھارت کے سب لوگ ’چیمپیئنز‘ دیکھ چکے ہوں اور یہ کوئی مشہور فلم ہو،کسی کو پرواہ نہیں کہ یہ ریمیک ہے یا نہیں، بس فلم اچھی ہونی چاہیے۔




