خواتین

بلوچستان کی پہلی، کم عمر ترین ہندو خاتون اسسٹنٹ کمشنر

کشش چوہدری کا تعلق نوشکی کے متوسط ہندو گھرانے سے ہے۔

Web Desk

بلوچستان کی پہلی، کم عمر ترین ہندو خاتون اسسٹنٹ کمشنر

کشش چوہدری کا تعلق نوشکی کے متوسط ہندو گھرانے سے ہے۔

کشش کے والد بھی ایک سرکاری افسر ہیں۔
کشش کے والد بھی ایک سرکاری افسر ہیں۔

بلوچستان کے ضلع نوشکی سے تعلق رکھنے والی 25 سالہ کشش چوہدری صوبائی مقابلے کا امتحان (پی سی ایس) پاس کر کے بلوچستان کی پہلی ہندو خاتون اور کم عمر ترین اسسٹنٹ کمشنر بن گئی ہیں۔

کشش چوہدری کا تعلق نوشکی کے متوسط ہندو گھرانے سے ہے،  انہوں نے میٹرک، ایف ایس سی، بی ایس تک تعلیم اسی ضلع سے ہی حاصل کی، بعدازاں یونیورسٹی آف بلوچستان کوئٹہ سے سوشیالوجی اور پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرز کیا۔

کشش چوہدری کے مطابق  2022 میں جیسے ہی جنرل پی سی ایس کا اعلان ہوا تو یونیورسٹی کے سیکنڈ لاسٹ سمسٹر میں ہوتے ہوئے بھی اپلائی کیا اور پھر دن رات ایک کر دیا۔

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے تین سال مسلسل اس امتحان کی تیاری کی، روزانہ آٹھ سے 10 گھنٹے پڑھا، شادی و دیگر تقریبات اور اپنی سالگرہ منانے جیسے لمحات بھی قربان کرنا پڑے۔

وہ کہتی ہیں ’یہ میری خوش نصیبی ہے کہ میں پہلی ہی کوشش میں کامیاب ہو گئی۔ لوگ دوسری یا تیسری کوشش میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور کئی تو ناکام ہی رہ جاتے ہیں ۔‘

ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں اقلیتوں کے لیے ماحول سازگار ہے۔ میڈیا پر شاید کچھ اور تاثر ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمیں ہر جگہ عزت اور احترام ملتا ہے۔ کبھی مذہبی تعصب محسوس نہیں ہوا۔

کشش چوہدری نہ صرف اپنی کمیونٹی بلکہ پورے ضلع میں واحد خاتون ہیں جنہیں یہ اعزاز حاصل ہوا۔

ان کی یہ کامیابی اس لیے بھی قابل ستائش ہے کیوں کہ ان کا تعلق نوشکی سے ہے، اس پسماندہ علاقے اور قبائلی معاشرے میں خواتین کی شرحِ تعلیم 25 فیصد سے بھی کم ہے۔

کشش کا کہنا تھا کہ ’والد کی خواہش تھی کہ میں ڈاکٹر بنوں۔ میں نے کئی بار میڈیکل کالج میں داخلے کے لیے ایم ڈی کیٹ کا ٹیسٹ بھی دیا لیکن بہت کم نمبروں سے رہ گئی۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’میری اپنی خواہش تھی کہ میں اپنے والد کی طرح افسر بن کر اپنے لوگوں، اپنے ضلع اور صوبے کے عوام کی خدمت کروں اور خواتین کی زندگیوں میں تبدیلیاں لاؤں۔‘

کشش کے والد چوہدری گرداری لعل خود بیورو کریٹ اور بلوچستان حکومت میں ایڈیشنل سیکریٹری ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر وہ ایک چھوٹے، پسماندہ علاقے سے ایک اوسط تعلیمی پس منظر سے آ کر یہ کامیابی حاصل کر سکتی ہیں تو کوئی بھی کر سکتا ہے۔

’میں کسی مہنگے اور بڑے سکول سے نہیں پڑھی نہ ہی میرے پاس وسائل کی فراوانی تھی لیکن عزم اور محنت سب کچھ ممکن بناتی ہے۔‘

کشش چوہدری کہتی ہیں کہ انہوں نے امتحان کی تیاری کے دوران کئی بار مایوسی کا سامنا کیا۔ ساڑھے تین سال تک مسلسل تیاری کی۔

وہ نوجوانوں کو مشورہ دیتی ہیں کہ مقابلے کے امتحان میں ایک بار ضرور حصہ لیں کیونکہ یہ صرف کامیابی یا ناکامی کا نام نہیں ۔ یہ سوچنے کا زاویہ بدل دیتا ہے۔ے۔