بھارت میں ترکیہ کے بائیکاٹ کی مہم، فلمی صنعت بھی متاثر
بھارتی فلم فیڈریشن نے ترکیہ کی لوکیشنز پر شوٹنگ نہ کرنے پر زور دیا ہے۔
بھارت کو پہلگام حملے بہانہ بنا کر پاکستان پر حملے کرنے کا اقدام خاصہ مہنگا پڑ گیا اور پاکستانی افواج نے بھارتی جارحیت کا ایسا منہ توڑ جواب دیا کہ دنیا حیران رہ گئی۔
بھارت نے 6 اور 7 مئی کو رات کی تاریکی میں بزدلانہ وار کرتے ہوئے پاکستان میں متعدد سویلین مقامات کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں درجنون شہری لقمہ اجل بنے۔
اس کے جواب میں پاکستان کی سینہ سپر افواج نے بھارت کو جواب دیتے ہوئے اس کے 6 جہاز مارگرائے، شکست خوردہ بھارت ایک مرتبہ پھر تلملا کر وار کرنے پلٹا اور 9 مئی کو پاکستان کی ایئربیسز کو نشانہ بنایا۔
تاہم اس کے بعد جو کچھ اس کے ساتھ ہوا اسے دنیا برسوں یاد رکھے گی، پاکستان نے نہ صرف بھارت کے ڈرونز حملوں کو ناکام بنایا بلکہ آپریش بنیان المرصوص کے نام سے بھارت میں جوابی کارروائی کرتے ہوئے تمام الیکٹرونک کمیونکیشن جام کر کے بھونچال مچادیا۔
اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی طیاروں نے کارروائی کرتے ہوئے متعدد بھارتی ایئر بیسز پر اہم اسٹریٹجک اہداف کو نشانہ بنایا جس پر امریکا کو بیچ میں مداخلت کر کے جنگ بندی کا اعلان کرنا پڑ گیا۔
عالمی سطح پر بھارت کی اس سبکی پر نہ صرف بھارتی حکومت بلکہ بھارتی عوام بھی سخت ہزیمت کا شکار ہیں۔
اس تمام تر قضیے میں چین، ترکیہ اور آذر بائیجان پاکستان کے ساتھ کسی ستون کی طرح کھڑے رہے اور پاکستان نے چین اور ترکیہ سے حاصل کردہ ٹیکنالوجی کا بھی بھرپور استعمال کیا۔
پاکستان نے بھارتی ڈرونز کے جواب میں ترکیہ سے حاصل کردہ ڈرونز بھیجے، پاکستان کی بہترین جنگی صلاحیتوں کا جہاں دنیا اعتراف کررہی ہے وہیں بھارتی اپنی ناکامی پر بری طرح سیخ پا ہےاور اب انہوں نے پاکستان کا ساتھ دینے والے برادر ملک ترکیہ کو نشانہ بنانا شروع کردیا ہے۔
سوشل میڈیا پر ایک منظم مہم جاری ہے جس میں بھارتی صارفین تعطیلات گزارنے کے لیے ترکیہ کے خوبصورت سیاحتی مقامات کا رخ نہ کرنے اعلان کرتے نظر آرہے ہیں۔
صرف سوشل میڈیا صارفین ہی نہیں بلکہ اب بھارت کے دیگر حلقوں سے بھی اسی قسم کی آوازیں آنا شروع ہوگئی ہیں۔
جس میں بھارت کی فلمی صنعت کی ایک فیڈریشن نے بھی فلموں کے شوٹنگ کے لیے ترکیہ کی لوکیشن کا انتخاب نہ کرنے پر زور دیا ہے۔
فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا سنے ایمپلائز (ایف ڈبلیو آئی سی ای) نے بدھ، 14 مئی کو ایک بیان جاری کیا، جس میں تمام بھارتی فلم پروڈیوسروں پر زور دیا گیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ بڑھتی ہوئی حمایت کی روشنی میں ترکیہ کو شوٹنگ کی لوکیشن کے طور پر منتخب کرنے پر نظر ثانی کریں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ فلمی برادری کو قوم کے ساتھ یکجہتی کے طور پر کھڑے ہونے اور فلم کی شوٹنگ کے لیے ترکیہ کا بائیکاٹ کرنے کی ضرورت ہے جب تک کہ ملک اپنے سفارتی موقف پر نظر ثانی اور باہمی احترام اور عدم مداخلت کے اصولوں کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہوجاتا ہے۔




