انفوٹینمنٹ

امن کے سفیر، عتیقہ اوڈھو کو رابعہ اور مشی خان کا کرارا جواب

عتیقہ اوڈھو کے فنکاروں کو محبت کا سفیر قرار دینے پر تنقید

Web Desk

امن کے سفیر، عتیقہ اوڈھو کو رابعہ اور مشی خان کا کرارا جواب

عتیقہ اوڈھو کے فنکاروں کو محبت کا سفیر قرار دینے پر تنقید

عتیقہ اوڈھو کے فنکاروں کو محبت کا سفیر قرار دینے پر تنقید
عتیقہ اوڈھو کے فنکاروں کو محبت کا سفیر قرار دینے پر تنقید

پاکستانی شوبز انڈسٹری کی سینئر اداکارہ عتیقہ اوڈھو کی جانب سے فنکاروں کو محبت کا سفیر قرار دینے پر مشی خان اور رابعہ کلثوم  نے اداکارہ کو سخت الفاظ میں آڑے ہاتھوں لے لیا ۔

عتیقہ اوڈھو نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ فنکاروں کا جنگوں اور تنازعات سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ان کا کام لڑنا نہیں بلکہ محبت کے سفیر بننا اور امن و محبت پھیلانا ہے۔

انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری تنازع کے پس منظر میں دونوں ممالک کے فنکاروں سے اپیل بھی کی تھی کہ وہ نفرت پھیلانے کے بجائے امن اور محبت کو فروغ دیں اور ایک دوسرے کے خلاف بیانات دینے سے گریز کریں۔

تاہم عتیقہ اوڈھو کے اس بیان پر مشی خان، رابعہ کلثوم اور سوشل میڈیا صارفین نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

رابعہ کلثوم کا ردعمل

 اداکارہ رابعہ کلثوم نے عتیقہ اوڈھو کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ جو فنکار اپنے ملک کے لیے کھڑے نہیں ہو سکتے اور دو لفظ بھی نہیں بول سکتے ایسے افراد کے لیے 'سافٹ امیج' اور 'محبت کے سفیر' جیسے الفاظ محض متبادل ہیں۔

اسکرین گریب
اسکرین گریب

انہوں نے مزید لکھا کہ ایسے افراد یہ بات کیوں بھول جاتے ہیں کہ جو طاقتور ہوتے ہیں یا جن کی بات سنی جاتی ہے ان پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

 رابعہ کلثوم نے واضح کیا کہ ہم پاکستان کی وجہ سے ایک حیثیت اور اہمیت رکھتے ہیں اس لیے ہم پر اپنے ملک کے لیے بولنا فرض ہے اور وطن سے محبت کرنا اور اس کی خاطر لڑنا ہماری ذمہ داری ہے۔

مشی خان کا ردعمل

رابعہ کلثوم کے بعد  اداکارہ مشی خان نے بھی عتیقہ اوڈھو کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور ان سے سوال کیا کہ اگر جنگ کی حالت میں بھی فنکار اپنے وطن کے لیے نہیں بولیں گے تو پھر کب بولیں گے؟

 انہوں نے عتیقہ اوڈھو کے بیان کو بے وقوفی کی بات قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنگ اور کرونا کی وبا ایک جیسی نہیں ہیں جنگ کے وقت ملک کے لیے بولنا ہم سب پر فرض ہے۔

مشی خان نے مزید کہا کہ فنکار پاکستان میں رہتے ہیں پاکستان سے کماتے ہیں لیکن وہ اپنے ملک کے لیے بول نہیں سکتے؟ یہ کہاں کا منطق ہے؟ انہوں نے عتیقہ اوڈھو پر بھارت اور وہاں کے فنکاروں کی حمایت کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ ان کے لیے بہتر تھا کہ وہ خاموش رہتیں اور کوئی بیان نہ دیتیں۔

مشی خان نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حملوں اور جارحیت میں 40 پاکستانی شہید ہوئے اور اس صورتحال میں یہ کہنا کہ فنکار محبت کے سفیر ہوتے ہیں ناقابل قبول ہے۔

 انہوں نے سوال کیا کہ اگر فنکار اب بھی اپنے ملک کے لیے بات نہیں کریں گے تو پھر کب کریں گے؟ انہیں کس وقت کہا جائے کہ وہ اپنے وطن کے لیے آواز اٹھائیں۔

واضح رہے کہ ان اداکاراؤں کے علاوہ سوشل میڈیا صارفین نے بھی عتیقہ اوڈھو کو فنکاروں کے 'محبت کے سفیر' ہونے کے بیان پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ملک پر مشکل وقت آنے پر اپنے وطن کے لیے لڑنا اور بولنا ہر شہری پر فرض اور قرض ہے۔

 صارفین نے عتیقہ اوڈھو کے بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ فنکاروں کو بھی اپنے ملک کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے اور ضرورت پڑنے پر اپنی آواز بلند کرنی چاہیے۔