معاون کردار ادا کرنے والے فنکاروں کا سفر جسے اکثر نظر انداز کیا گیا
فلم میں معاون کردار فلم میں جان ڈالتے ہیں لیکن اکثر انہیں نظر انداز کیا جاتا ہے
کسی بھی فلم کی کامیابی کیلئے صرف مرکزی کردار، یا ہیرو ہیروئن ہی کافی نہیں ہوتے بلکہ معاون اداکار بھی فلم کی کامیابی میں اپنا سو فیصد دیتے ہیں لیکن اکثر و بیشتر انہیں نظر انداز کرکے صرف مرکزی کرداروں کے ناموں کا ڈنکا بجتا ہے۔
یہ وہی کردار ہوتے ہیں جو اکثر ریڈ کارپٹ یا فلمی پوسٹرز میں پیچھے رہ جاتے ہیں، ایسا ہی ایک نام فلم اور ٹی وی کے تجربہ کار اداکار دیپ راج رانا کا بھی ہے جو 1980 کی دہائی کے آخر سے ہندی سینما کا حصہ ہیں اور اپنے معاون کرداروں سے ہی سہی لیکن دھوم مچاتے آئے ہیں۔
تو آئیے ان سمیت دیگر ایسے فنکاروں کے بارے میں بات کرتے ہیں جنہوں نے معاون کرداروں سے اپنے نام روشن کیے اور اب انکا ماننا ہے کہ سپورٹنگ کردار اب صرف 'سپورٹ' نہیں رہے بلکہ یہ ہماری کہانیوں کے نئے ہیرو بن چکے ہیں۔
دیپ راج رانا:
یہ وہی شخصیت ہے جس نے اپنے کیرئیر میں کئی سپر ہٹ فلموں جیسے ’صاحب بیوی اور گینگسٹر ، آراکشن اور پریم رتن دھن پایو میں اپنی شاندار اداکاری سے دھم مچائی۔
یہاں تک کہ انکی کامیابی کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ وہ کسی ایک لمحۂ شہرت پر نازاں نہیں ہیں، بلکہ ان کا پورا کیریئر محنت، فن، اور استقامت کی مثال ہے۔
حال ہی میں انہوں نے ای ٹائمز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے اپنی فلمی کیرئیر پر نظر ڈالی اور بتایا کہ،’صاحب بیوی اور گینگسٹر سے لے کر پریم رتن دھن پایو تک، اور اس کے بعد شاید لوگ سوچتے ہوں کہ مجھے اور آگے جانا چاہیے تھا، لیکن میں نے اپنی زندگی جی ہے، مسلسل کام کیا ہے، اور میں مطمئن ہوں۔’
ساتھ ہی رانا صاحب نے فلم ’منگل پانڈے’ کی شوٹنگ سے ایک خاص یاد کو بھی شیئر کیا اور بتایا کہ،‘میں نے عامر خان کے ساتھ 20 سال پہلے 'منگل پانڈے' میں کام کیا تھا۔
وہ بتاتے ہیں کہ اس وقت 'ستارے زمین پر' کی شوٹنگ کا پہلا دن تھا اور آج بھی عامر خان کو میرا یاد ہونا بس یہی میرے لیے سب سے خاص بات ہے کہ جب لوگ آپ کے کام کو یاد رکھتے ہیں تو اپنی محنت وصول ہوجاتی ہے’۔
درگیش کمار:
اسی فہرست میں ایک اور اداکار درگیش کمار بھی ہیں جنہوں نے اب تک 45 سے زائد معاون کردار ادا کیے ہیں، بشمول فلم ’پنچایت’ میں مشہور کردار بھنوشن شرما عرف بنراکس کے لیکن اس کے باوجود وہ ابھی تک جدوجہد میں مصروف ہیں۔
اس حوالے سے وہ کہتے ہیں کہ،’ہم یہ سب محبت میں کرتے ہیں، لیکن اگر پروڈکشن ہاؤسز اور انڈسٹری ہماری قدر نہ کریں یا ہمیں کام نہ دیں، تو ہم کیسے آگے بڑھیں؟’
درگیش نے اپنے کیرئیر میں کی گئی انتہک محنت پر بات کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ،’جب میں بمبئی آیا تو مجھے امتیاز علی کی فلم 'ہائی وے' میں ایک اہم کردار ملا اور عوام نے اسے پسند بھی کیا یہاں تک کہ مقبولیت کا یہ عالم تھا کی میں سڑک پر پہچانا جانے لگا۔ لیکن اس تعریف کے باوجود، انڈسٹری نے مجھے دوبارہ کام کی پیشکش نہیں کی۔’
صنعت میں دو دہائیوں سے زائد عرصہ گزارنے اور نیشنل اسکول آف ڈرامہ (این ایس ڈی) اور ریپرٹری تھیٹر جیسے اداروں سے سخت تربیت لینے کے باوجود، درگیش مانتے ہیں کہ ان کے کام کو بہت کم پہچان ملی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ،‘25 سال میں صرف چار لوگوں نے میرا نام لیا یا میرے کام کی تعریف کی اور وہ ہیں پنکج تریپاٹھی، نوازالدین صدیقی، ادا شرما اور جیتو بھائیہ (جیتندر کمار)۔
درگیش نے کرداروں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ،‘اگر ایک کردار کو ڈرامے میں صرف ایک لائن بھی بولنی ہو، تو وہ بھی اتنی ہی اہم ہوتی ہے جتنی لیڈ کی۔ لیکن فلموں میں ایسا نہیں ہوتا۔ ناظرین صرف ہیرو اور ہیروئن کو دیکھتے ہیں۔ یہی تلخ حقیقت ہے۔’
چندن کے آنند:
دی باڈی, گنجن سکسینہ اور فائٹر جیسی فلموں میں اپنے کرداروں سے گہرا تاثر چھوڑنے والے اداکار چندن کے آنند کو بھلا کون فراموش کرسکتا ہے؟
وہ کہتے ہیں کہ،’سنیما بدل رہا ہے۔ ویب اسپیس یا 'لاپتہ لیڈیز' جیسی فلموں کو دیکھیں ہر کردار کی ایک کہانی ہے، ہر کردار کی ایک اہمیت ہے۔ روی کشن کا کردار بھی ہیرو تھا۔ لڑکیاں بھی ہیرو تھیں۔ ہم آخرکار یہ سمجھنے لگے ہیں کہ فلم صرف ایک ہیرو کے کندھوں پر نہیں چلتی۔’
اور دیکھا جائے توگزشتہ برسوں میں ’لاپتہ لیڈیز’ جیسی فلموں اور ’مرزا پور’، ’پنچایت’ جیسے ڈراموں نے فلمی منظرنامے کو تبدیل کر دیا ہے۔ یہ ایسے پراجیکٹس ہیں جن میں ہر کردار کا ایک الگ سفر ہے اور ہر رول اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے۔
چندن کے آنند اس کی اہمیت کو خوبصورتی سے بیان کرتے ہیں کہ،’اگر پلاؤ میں نمک نہ ہو تو کوئی نہیں کھائے گا ، چاہے آپ اس میں کتنا بھی گھی ڈال لیں۔ یہی ان نام نہاد سپورٹنگ رولز کی اہمیت ہے۔
خاموش انقلاب — اجتماعی کہانی گوئی کا عروج
اس بارے میں ای ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں جب دیپ راج رانا سے پوچھا گیا کہ وہ دہائیوں کے دوران کرداروں میں ہونے والی تبدیلی کو کیسے دیکھتے ہیں؟
تو جواب میں اداکار کا کہنا تھا کہ،’کردار اسکرپٹ پر منحصر ہوتے ہیں۔ آپ کا کردار کہانی میں کہاں داخل ہوتا ہے، اس وقت کیا صورتحال ہے یہ سب چیزیں اہمیت رکھتی ہیں۔ مجھے خوش قسمتی سے ایسے کردار ملے جہاں میں خود کو مضبوطی سے پیش کر سکا، چاہے میرے سامنے امیتابھ بچن، سنی دیول، اکشے کمار یا اجے دیوگن جیسے بڑے ستارے ہوں۔ ان مناظروں کی اپنی اہمیت تھی۔’
اس بات سے اداکار چندن کے آنند بھی اتفاق کرتے نظر آئے اور کہتے ہیں کہ،’ہم نے کبھی کرداروں کو 'لیڈ' یا 'سپورٹنگ' نہیں سمجھا۔ ہمیں تو بس اداکاری کرنی تھی۔’
اور پھر جب اداکار درگیش سے پوچھا گیا کہ کیا انڈسٹری نے معاون اداکاروں کے حوالے سے اپنا رویہ بدلا ہے؟ تو انہوں نے صاف گوئی سے جواب دیا کہ،’نہیں۔ کچھ نہیں بدلا۔ اگر آپ کا کردار نمایاں ہو تو 10 لوگ تعریف کریں گے، اگر نہ ہو تو کوئی پوچھتا بھی نہیں۔ یہی حقیقت ہے۔’
جدید دور میں ناظرین کی بدلتی سوچ:
اس بات سے بھی انکار نہیں کہ بدلتے دور کیساتھ ساتھ ناظرین کا دیکھنے اور سوچنے کا انداز بھی تبدیل ہوتا جارہا ہے۔اب وہ صرف چمک دمک یا گلیمر نہیں چاہتا، بلکہ ایسی کہانیاں دیکھنا چاہتا ہے جو حقیقت کی عکاسی کریں۔
یہی وجہ ہے کہ اب ناظرین کو ایسے اداکار چاہیے جو زندگی جیسے کردار نبھائیں نہ کہ بناؤٹی اور مصنوعی پرفارمنس۔
اس بارے میں بات کرتے ہوئے جب اداکار چندن سے پوچھا گیا کہ انڈسٹری میں انہوں نے کیا بدلا تو جواب میں اداکار کا کہنا تھا کہ،‘پہلے پروڈیوسرز یہی سمجھتے تھے کہ صرف بڑے ستارے ہی فلم کو بیچ سکتے ہیں۔ لیکن اب وہ بھی سمجھنے لگے ہیں کہ یہ معاشی طور پر مناسب نہیں۔ آپ ایک ہیرو پر کروڑوں خرچ کر سکتے ہیں، یا انہی پیسوں سے 10 زبردست فلمیں بنا سکتے ہیں جن میں 10 مضبوط اداکار ہوں۔ اور ناظرین اس تبدیلی کے لیے تیار ہیں۔’
انہوں نے مزید کہا کہ انوراگ کشیپ اور رام گوپال ورما جیسے ہدایتکاروں نے یہ راستہ پہلے ہی ہموار کر دیا ہے، جب انہوں نے نوازالدین صدیقی، پنکج تریپاٹھی، اور وِنیت کمار سنگھ جیسے باصلاحیت لیکن غیر روایتی چہروں کو کاسٹ کیا جو بعد میں گھروں کے جانے پہچانے نام بن گئے۔
برابری کی طرف ایک روشن مستقبل:
انڈسٹری اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں اب ہم اصل ہیروز کو سراہیں، اس بارے میں بات کرتے ہوئے دیپ راج کا کہنا تھا کہ،‘جب سورج جی جیسے ہدایتکار یا عامر جیسے بڑے اداکار دہائیوں بعد آپ کو پہچانیں، تو لگتا ہے آپ کو دیکھا جا رہا ہے۔ آپ کو تسلیم کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے حالیہ ریلیز فلموں کی تعریف کرتے ہویے مزید یہ بھی کہا کہ،‘اب وقت آ گیا ہے کہ پوری انڈسٹری اور عوام بھی یہی تسلیم کرے کیونکہ یہ کہانیاں سنانے کا سنہری دور ہے۔’
انہوں نے مرزا پور، لاپتا لیڈیز، میلیگون جیسے شوز کا نام لیتے ہوئے کہا کہ یہ سب ایسے پراجیکٹس ہیں جن میں ہر کردار کی اہمیت ہے اور اب یہی سینما ناظرین کو پسند آ رہا ہے۔
کیونکہ 'سپورٹنگ رول' جیسا لفظ اب پرانا ہونے والا ہے۔
دیپ راج کے مطابق،’ہم سب اداکار ہیں، اور ہر اچھے کردار کی اپنی ایک کہانی ہوتی ہے، جو اسے ہیرو بنا دیتی ہے۔کیونکہ آخر میں، ایک کہانی صرف اس کے مرکزی کردار کے بارے میں نہیں ہوتی بلکہ ان سب کے بارے میں ہوتی ہے جو مل کر اس کہانی کا ڈھانچہ تھامے رکھتے ہیں۔’







