بالی ووڈ

کرینہ کپور کا ’نیپوٹزم’ کے الزامات پر دو ٹوک بیان

میں نے صرف اقرباپروری کی وجہ سے فلم انڈسٹری میں کام نہیں کیا، اداکارہ

Web Desk

کرینہ کپور کا ’نیپوٹزم’ کے الزامات پر دو ٹوک بیان

میں نے صرف اقرباپروری کی وجہ سے فلم انڈسٹری میں کام نہیں کیا، اداکارہ

میں نے صرف نیپوٹزم کی وجہ سے کام نہیں کیا
میں نے صرف نیپوٹزم کی وجہ سے کام نہیں کیا

بالی وڈ فلم نگری میں جہاں نیپوٹیزم (اقرباپروری) کا رجحان بڑھتا جارہا ہے اور ہر کوئی اس پر بات کرتا سنائی دے رہا ہے وہیں جب کرینہ کپور کو ’الٹی میٹ انسائیڈر’ اور ’مراعات یافتہ لڑکی’ کہا گیا تو اُنہوں نے اس پر دو ٹوک ردعمل دے دیا۔

یہ بات ہے سال 2021 کی جب کرینہ کپور نے ایک انٹرویو میں اقربا پروری پر کھل کر بات کی۔ 

کرینہ کپور کا اس حساس اور اہم موضوع پر بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ‘میں نے صرف نیپوٹزم کی وجہ سے کام نہیں کیا۔ اگر ایسا ہوتا، تو میں 21 سالوں سے کام نہ کر رہی ہوتی۔ کیونکہ صرف ایک نام یا پس منظر کافی نہیں ہوتا، اگر لوگ آپ کو پسند نہ کریں تو آپ کا سفر وہیں ختم ہو جاتا ہے’۔

بییو کا یہ بھی کہنا تھا کہ ‘جو لوگ انگلیاں اٹھا رہے ہیں، وہی دراصل آج کے 'نیپوٹسٹک اسٹارز' بنا رہے ہیں، آخرکار یہ عوام ہی ہیں جو ہمیں سنیما میں دیکھنے آتے ہیں، جو ہماری فلمیں ہِٹ یا فِلاپ کرتے ہیں، تو ذمہ داری صرف اداکار پر نہیں بلکہ ناظرین پر بھی ہے’۔

ساتھ ہی انٹرویو میں کرینہ کپور نے جب ’الٹی میٹ انسائیڈر’  اور ’مراعات یافتہ لڑکی’ کہلائے جانے پر بات کی تو انہوں نے صاف کہا کہ ’ہماری عادت بن چکی ہے کہ ہم اصل صورتحال کو سمجھے بغیر لوگوں پر حملہ کرتے ہیں، چاہے وہ کسی مراعات یافتہ پس منظر سے ہوں یا اشرافیہ سے۔ ایسا لگتا ہے جیسے اگر کسی کے پاس نام، شہرت، پیسہ یا کامیابی ہو تو وہ بری بات بن جاتی ہے۔’

اداکارہ کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ ’ کوئی بھی بڑی تصویر کو دیکھنے کی کوشش نہیں کرتا۔ سچ کہوں تو، میرے 21 سالہ کریئر کی کامیابی صرف نیپوٹزم کی وجہ سے نہیں ہو سکتی، یہ ممکن ہی نہیں۔’

لگے ہاتھوں اداکارہ نے یہ بھی واضح کیا کہ فلمی پس منظر رکھنے والے بچوں کی کامیابی کی کوئی گارنٹی نہیں ہوتی۔ایسے کئی سپر اسٹار بچوں کی مثالیں موجود ہیں جو بالی وڈ میں اپنی جگہ نہیں بنا سکے۔

کرینہ کپور نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ آج وہ جس مقام پر ہیں  ان کی زندگی میں بھی جدوجہد کا بڑ اعمل دخل تھا۔

وہ بتاتی ہیں کہ،‘ ہاں البتہ میری جدوجہد شاید اتنی دلچسپ نہیں جتنی کسی کی ہو سکتی ہے جو جیب میں صرف 10 روپے لے کر ٹرین میں سفر کر کے آیا ہو۔ لیکن میری بھی ایک کہانی ہے، تو کسی کو یہ کہنا کہ تمہاری کہانی چھوٹی ہے یا بڑی، یا کم یا زیادہ دلچسپ ہے  یہ انگلی اٹھانا بالکل غلط ہے، ہر سطح پر غلط ہے۔’

اداکارہ کا ناقدین کو مخاطب کرتے ہوئے یہ بھی کہنا تھا کہ ‘ہمیں ناظرین نے بنایا ہے، انہی کی وجہ سے ہم ہیں اور وہی لوگ جو انگلیاں اٹھاتے ہیں، انہی نیپوٹزم والے اسٹارز کو بھی بناتے ہیں ، آپ فلمیں دیکھنے جاتے ہیں۔ مت جائیں  کسی نے آپ پر زبردستی تو نہیں کی۔

انڈسٹری میں آؤٹ سائیڈر فنکاروں کے بارے میں بھی کرینہ کپور نے کھل کر بات کی اور کہا کہ ‘بالکل سچ ہے کہ اکشے کمار، شاہ رخ خان، راجکمار راؤ جیسے بڑے اسٹارز بالی وڈ میں آؤٹ سائیڈرز تھے، اور انہوں نے سخت محنت کی ہے۔ لیکن اسی طرح، چاہے وہ عالیہ بھٹ ہو یا میں  ہم نے بھی سخت محنت کی ہے، اور ہمیں بھی ناظرین نے بنایا ہے یا گرایا ہے۔’

ورک فرنٹ کی بات کریں تو اداکارہ کرینہ کپور اپنی آنے والی فلم ’دائرہ’ میں نظر آئیں گی، جس کی ہدایتکاری معروف فلمساز میگھنا گلزار کر رہی ہیں، اس فلم میں کرینہ کے ساتھ مرکزی کردار میں پرتھوی راج سکوما ران بھی شامل ہیں۔

اور ابھی سے اس نئے شاہکار سے یہ امیدیں وابستہ ہیں کہ یہ فلم شائقین کو ایک نئی اور مختلف کہانی کے ساتھ بڑی اسکرین پر کرینہ کے کردار میں نئی جھلک دکھائے گی۔