انفوٹینمنٹ

نوازالدین صدیقی نے بالی وڈ کے تلخ حقائق سے پردہ اٹھا دیا

نوازالدین صدیقی آج اپنی 51ویں سالگرہ منا رہے ہیں

Web Desk

نوازالدین صدیقی نے بالی وڈ کے تلخ حقائق سے پردہ اٹھا دیا

نوازالدین صدیقی آج اپنی 51ویں سالگرہ منا رہے ہیں

(فائل فوٹو: سوشل میڈیا)
(فائل فوٹو: سوشل میڈیا)

بالی ووڈ کے ورسٹائل اداکار نوازالدین صدیقی نے اپنی 51ویں سالگرہ پر بالی وڈ انڈسٹری کے تلخ حقائق بیان کردیے۔

نوازالدین صدیقی کا فلمی سفر ایک متاثرکن داستان ہے، ایک طویل جدوجہد، چھوٹے کرداروں سے لے کر بڑے پردے پر چھا جانے تک، نواز الدین صدیقی نے خود کو محض ایک اداکار نہیں بلکہ ایک فنکار کے طور پر منوایا۔

فلم گینگز آف واسے پور، منٹو، لنچ باکس اور ویب سیریز سیکرڈ گیمز جیسے پروجیکٹس میں ان کی اداکاری نے ناقدین اور عوام دونوں کو متاثر کیا۔

'بالی ووڈ میں کوئی حقیقی دوست نہیں'

نوازالدین صدیقی نے اپنے تازہ انٹرویو میں بالی وڈ میں جھوٹی دوستیوں کو سختی سے تنقید کا نشانہ بنایا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'یہاں وقت کے ساتھ سب کچھ بدل جاتا ہے، آج کوئی ہے، کل کوئی اور ہوگا، سب کچھ فائدے اور ضرورت کی بنیاد پر ہوتا ہے، جو دوستیاں میری زندگی میں ہیں، وہ یہاں سے نہیں بلکہ پرانے وقتوں سے ہیں'۔

نوازالدین صدیقی نے کہا کہ فلمی دنیا میں زیادہ تر تعلقات ذاتی مفاد کے گرد گھومتے ہیں، وہ خلوص اور وفاداری پر مبنی نہیں ہوتے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ 'یہ اس لیے ہوتا ہے کیونکہ یہاں ہر اداکار کے اندر ایک عدم تحفظ کا احساس ہے، اسی لیے نہ مضبوط دوستی ہوتی ہے، نہ وفاداری، یہاں ایک مخصوص کلب ہے جو الگ تھلگ رہتا ہے، اتحاد نہیں پایا جاتا'۔

'تجربے کے بغیر بڑے کردار دے دیے جاتے ہیں'

نوازالدین صدیقی نے انڈسٹری میں غیر تربیت یافتہ اداکاروں کو کاسٹ کرنے کے بڑھتے ہوئے رجحان پر بھی سوالات اٹھائے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ایسا اداکار جس پر بھروسہ بھی نہیں کیا جا سکتا، اسے بھی کسی طرح ایکٹنگ کرا دی جاتی ہے، یہ صرف ہماری انڈسٹری میں ہوتا ہے، باقی جگہوں پر صرف ٹرینڈ اور پروفیشنل اداکاروں کو موقع دیا جاتا ہے'۔

انہوں نے واضح کیا کہ اداکاری ایک فن ہے، جس کے لیے تربیت اور سنجیدگی ضروری ہے، لیکن بدقسمتی سے بالی ووڈ میں اکثر قابلیت سے زیادہ چہرے اہم ہو جاتے ہیں۔

اگرچہ نوازالدین نے انڈسٹری کے اندرونی مسائل پر روشنی ڈالی، مگر وہ اب بھی ایسے پراجیکٹس پر کام کرنے کے لیے پُرعزم ہیں جو طاقتور کہانیاں سناتے ہیں۔

حال ہی میں وہ فلم 'کوسٹاؤ' میں نظر آئے، جو 1990 کی دہائی کے گووا کے کسٹمز آفیسر 'کوسٹاؤ فرنانڈس' کی حقیقی زندگی پر مبنی کرائم ڈرامہ فلم ہے۔

فلم میں نوازالدین نے ایک فرض شناس اور بہادر افسر کا کردار ادا کیا، جو سونے کی اسمگلنگ کو روکنے کے لیے سب کچھ قربان کر دیتا ہے۔

اِن دنوں وہ لکھنؤ میں 'رات اکیلی ہے' کے سیکوئل کی شوٹنگ میں مصروف ہیں، جہاں وہ ایک بار پھر انسپکٹر جتیل یادو کے کردار میں نظر آئیں گے، ایک ایسا کردار جس نے پہلی فلم میں ناظرین کا دل جیت لیا تھا۔