انفوٹینمنٹ

نوازالدین صدیقی کی 51ویں سالگرہ پر چند اَن جانے حقائق

نوازالدین صدیقی کا شمار ان اداکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی محنت سے انڈسٹری میں قدم جمائے۔

Web Desk

نوازالدین صدیقی کی 51ویں سالگرہ پر چند اَن جانے حقائق

نوازالدین صدیقی کا شمار ان اداکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی محنت سے انڈسٹری میں قدم جمائے۔

فائل فوٹو:گوگل
فائل فوٹو:گوگل

نوازالدین صدیقی ہندوستانی سینما کا وہ چمکتا ستارہ ہیں جنہوں نے اپنی محنت، لگن اور غیر معمولی فنکارانہ صلاحیتوں کے ذریعے بالی وڈ میں ایک اہم مقام حاصل کیا ہے۔

وہ 19 مئی 1974کو ریاست اترپردیش کے ضلع مظفر نگر کے ایک چھوٹے سے گاؤں بڈھانا میں پیدا ہوئے۔

 ایک عام کسان گھرانے سے تعلق رکھنے والے نوازالدین نے اپنی ابتدائی زندگی انتہائی سادہ اور محدود وسائل میں گزاری لیکن ان کے خواب بہت بڑے تھے۔

تعلیمی سفر اور ابتدائی زندگی

نوازالدین صدیقی نے گُروکل کانگری یونیورسٹی ہریانہ سے کیمسٹری میں گریجویشن کیا۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے کچھ عرصہ ودوڈرا (گجرات) کے ایک کیمسٹ اسٹور میں بطور کیمسٹ ملازمت بھی کی، تاہم دل میں اداکاری کا خواب زندہ تھا، جسے حقیقت بنانے کے لیے وہ دہلی روانہ ہوگئے، جہاں انہوں نے نیشنل اسکول آف ڈرامہ میں داخلہ لیا۔

1999 میں انہوں نے این ایس ڈی سے گریجویشن مکمل کیا اور پھر اداکاری کو باقاعدہ پیشہ بنانے کے لیے ممبئی کا رُخ کیا۔

ابتدائی جدوجہد اور فلمی آغاز

ممبئی آ کر نواز الدین صدیقی کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، انہیں چھوٹے موٹے کرداروں میں طویل عرصے تک کام کرنا پڑا اور کئی سال تک وہ ایک اداکار کی حیثیت سے خود کو منوانے کے لیے کوشاں رہے۔

 انہوں نے 1999میں عامر خان کی فلم’ سرفروش‘ میں ایک مختصر کردار کے ذریعے بالی وڈ میں قدم رکھا۔

 اس کے بعد وہ’ منا بھائی ایم بی بی ایس‘ جیسی فلموں میں بھی نظر آئے لیکن ان کا ٹیلنٹ اب بھی پہچانا نہیں گیا تھا۔

شہرت کی سیڑھی پر پہلا قدم:

2010 میں ریلیز ہونے والی فلم’ پیپلی لائیو‘ سے ان کے کریئر کو ایک نئی شناخت ملی، اس فلم کے بعد نواز الدین نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔

’ بلیک فرائیڈے‘،’ کہانی‘،’ گینگ آف واسع پور‘،’ کِک‘،’ بجرنگی بھائی جان‘،’ مانجھی: دی ماؤنٹین مین‘،’ سائیکو رمن‘،’ رات اکیلی ہے‘ اور’ ہڈی‘ جیسی فلموں میں ان کی زبردست اداکاری نے ناقدین اور ناظرین دونوں کو متاثر کیا۔

فلم ’منٹو‘ اور عالمی سطح پر پذیرائی

نوازالدین صدیقی کی فنی قابلیت کا سب سے شاندار مظاہرہ فلم منٹو میں دیکھنے کو ملا، جس میں انہوں نے معروف افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کا کردار ادا کیا۔

اس کردار کے لیے انہیں خوب سراہا گیا۔ اس کے علاوہ، فلم’ پتنگ‘ میں بھی ان کی اداکاری کو  بین الاقوامی سطح پر پذیرائی ملی۔

برلن فلم فیسٹیول میں اس فلم کی اسکریننگ ہوئی، جہاں ممتاز فلم ناقد راجر ایبرٹ نے بھی ان کی صلاحیتوں کی تعریف کی۔

ہالی وڈ میں قدم

نوازالدین نے صرف بالی وڈ تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ 2016 میں ہالی ووڈ فلم’ لائن‘ میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائے۔

یوں وہ ایک بین الاقوامی فنکار کے طور پر بھی اپنی شناخت قائم کر چکے ہیں۔

ذاتی زندگی اور سادگی کا علمبردار

اگرچہ نواز الدین صدیقی آج ایک معروف اداکار ہیں لیکن وہ اب بھی ایک سادہ طرز زندگی کو ترجیح دیتے ہیں۔

وہ فلموں میں اپنے ظاہری روپ سے زیادہ اپنی فطری اداکاری کو اہمیت دیتے ہیں، وہ اکثر اپنے آبائی گاؤں جاتے ہیں اور کھیتی باڑی سے ان کا لگاؤ آج بھی برقرار ہے۔

اعزازات اور اعترافِ فن

نوازالدین صدیقی کی غیر معمولی اداکاری کو کئی قومی اور بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا ہے۔

ان کے حصے میں نیشنل فلم ایوارڈ، دو فلم فیئر ایوارڈز، آئیفا اور متعدد دیگر اعزازات آئے۔

یہاں تک کہ انہیں گریمی ایوارڈز کے لیے بھی نامزد کیا گیا، جو ان کی عالمی مقبولیت اور فنی مہارت کا ثبوت ہے۔

زندگی کا مشکل ترین وقت

سال 2004 ان کی زندگی کا سب سے کٹھن دور تھا۔ اس وقت ان کے مالی حالات اس قدر خراب ہو چکے تھے کہ وہ اپنے فلیٹ کا کرایہ تک ادا نہیں کر سکتے تھے۔

وہ گوریگاؤں میں اپنے این ایس ڈی کے ایک دوست کے ساتھ رہتے تھے اور اکثر فاقہ کشی کی نوبت آ جاتی تھی لیکن ان کی محنت اور استقامت نے انہیں کامیابی کی بلندیوں پر پہنچایا۔

فلم ’ہڈی‘ میں دوہرا کردار

حالیہ برسوں میں ان کی فلم ہڈی ریلیز ہوئی، جس میں انہوں نے ڈبل رول ادا کیا۔

اس فلم میں ان کے کردار اور اداکاری کو ناقدین اور عوام دونوں نے بے حد سراہا۔