پارول گلاٹی کا کانز ریڈ کارپٹ پر منفرد انداز
انسانی بالوں سے تیار لباس نے سب کی توجہ کھینچ لی
اداکارہ اور کاروباری شخصیت پارول گلاٹی نے کانز فلم فیسٹیول کے ریڈ کارپٹ پر اپنے ڈیبیو کو یادگار بنانے کے لیے ایک نہایت منفرد اور جرات مندانہ لباس زیب تن کیا جسے دیکھ کر ناظرین حیرت زدہ رہ گئے۔
یہ لباس کسی روایتی کپڑے سے نہیں بلکہ کالے انسانی بالوں کی چوٹیوں سے تیار کیا گیا تھا، جو ان کے ہیئر وِگ اور ایکسٹینشن برانڈ ‘نِش ہیئر‘ کے لیے ایک تخلیقی اور پُراثر خراجِ تحسین تھا۔
پارول گلآٹی نے 16 مئی کو فلم ’ایڈنگٹن‘ کی اسکریننگ میں شرکت کے موقع پر یہ بےمثال اسٹرپ لیس لباس پہنا، جو نہ صرف منفرد تھا بلکہ فیشن میں ایک جرات مندانہ اسٹیٹمنٹ کے طور پر بھی سامنے آیا۔
لباس میں گہری سویٹ ہارٹ نیک لائن اور غیر متوازن ہیم لائن شامل تھی، جبکہ چوٹیوں کو اس انداز میں ترتیب دیا گیا کہ وہ جسم سے چپکتی ہوئی باڈی کون سلوئیٹ تشکیل دیتی تھیں۔
لباس کے نچلے حصے میں چوٹیاں جھالر کی مانند بہتی ہوئی دکھائی دیں، جنہوں نے اس لک کو ایک ڈرامائی اور فنی جمالیات سے آراستہ کر دیا۔
اس تخلیقی شاہکار کا تصور خود پارول گلاٹی کا تھا، جسے معروف اسٹائلسٹ موہت رائے اور فیشن ڈیزائنر ردھی بنسال نے عملی صورت دی۔
اس لباس کی تیاری میں 12 ماہر کاریگروں نے حصہ لیا اور اسے مکمل کرنے میں ایک ماہ سے زائد کا وقت صرف ہوا۔ یہ لباس نہ صرف فیشن کا اظہار تھا بلکہ ہنرمندی، تخلیقیت اور وژن کا بھی منہ بولتا ثبوت تھا۔
ریڈ کارپٹ پر پارول گلاٹی نے اپنے لباس کو مرکزِ نگاہ بنائے رکھنے کے لیے سادہ اور نپے تلے انداز کا انتخاب کیا۔
انہوں نے صرف چمکدار جھمکے پہنے، گلے میں کوئی زیور نہیں پہنا، اور اپنے بالوں کو ایک سادہ بن اسٹائل میں ترتیب دیا۔ ان کا میک اپ بھی ہلکا اور قدرتی رکھا گیا تاکہ توجہ صرف لباس پر مرکوز رہے۔
فیسٹیول میں شرکت سے قبل اپنے بیان میں پارول نے کہا کہ،‘میں اس لمحے کو خوشی کے ساتھ منانا چاہتی تھی، دباؤ کے ساتھ نہیں۔ میں ایسا لباس پہننا چاہتی تھی جو میری اصل شخصیت کی عکاسی کرے، ایسا انداز جو صرف مجھ سے جُڑا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنے ہیئر برانڈ کے بالوں کو لباس میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔‘
دلچسپ بات یہ ہے کہ عالمی فیشن انڈسٹری میں بھی بالوں سے بنے ملبوسات ایک نیا رجحان بنتے جا رہے ہیں۔ مشہور فیشن ہاؤس Schiaparelli کا چوٹیوں والا نیک ٹائی ڈیزائن، جسے فلم ساز کرن جوہر نے بھی سراہا، اسی تخلیقی رجحان کی ایک عمدہ مثال ہے۔



