نواز الدین صدیقی کی انڈرریٹڈ فلمیں کونسی ہیں ؟
ان فلموں کو باکس آفس کامیابی تو نہ مل سکی لیکن نواز کی اداکاری کو خوب سراہا گیا
بالی وڈ کے معروف اداکار نواز الدین صدیقی آج انڈسٹری کا بہت بڑا نام سمجھے جاتے ہیں لیکن یہاں تک پہنچنے میں جو تکالیف انہوں نے اٹھائیں وہ فلم انڈسٹری میں اپنے بل بوتے پر آنے والے نوجوانوں کے لیے مشعل راہ ہے۔
بالی وڈ میں یہ بات مشہور ہے کہ یہاں وہی لوگ کامیاب ہو پاتے ہیں جن کے پیچھے یا تو ایک مشہور فلمی گھرانہ ہو یا پھر ان کے پاس ایک تگڑا ریفرنس ہو اور اس کی مثالیں ہمیں بالی وڈ میں جابجا نظر آتی ہیں۔
آج بھی اگر ایک لسٹ بنائی جائے تو بیشتر اداکاروں کا تعلق فلمی گھرانوں سے ہی نکلے گا اور نواز الدین صدیقی جیسے اداکار بہت کم نظر آئیں گے۔
نواز جو کہ ابتدا سے ہی ایک اداکار بننے کی خواہش رکھتے تھے انہوں نے فلموں میں معمولی چوراُچکے کے کرداروں سے قدم رکھا۔
یہ کردار اس معمولی نوعیت کے تھے کہ جب نواز الدین صدیقی مشہور ہوئے اور شائقین کو ان کرداروں سے متعلق پتا چلا تو انہوں نے وہ فلمیں مثلاً ’سرفروش‘ اور ’منابھائی ایم بی بی ایس‘ دوبارہ اس وجہ سے دیکھیں کہ وہ نواز الدین صدیقی کو ان کرداروں میں دیکھ سکیں۔
’گینگ آف واسے پور‘ سے بریک ملنے کے بعد آج تک نواز الدین صدیقی اپنے کریئر کے عروج پر ہیں۔
تاہم ان کی کچھ فلمیں ایسی بھی ہیں جو ہٹ تو نہ ہوسکیں لیکن ان میں نواز الدین صدیقی کی کردار نگاری کو خوب سراہا گیا۔
ذیل میں ہم ان کچھ فلموں کی بات کریں گے۔
حرام خور:
نواز الدین صدیقی کی فلم ’حرام خور‘ ایک ڈارک کامیڈی فلم ہے جو 2017 میں ریلیز ہوئی تھی۔
اس فلم میں نواز الدین صدیقی نے مرکزی کردار ادا کیا ہے اور ان کی اداکاری کو کافی سراہا گیا ہے۔
’حرام خور‘ میں نواز الدین صدیقی نے شیام تیک چند نامی اسکول ٹیچر کا کردار ادا کیا ہے اور ان کی اداکاری کو فلم کی سب سے بڑی طاقت سمجھا گیا ہے۔
نواز الدین نے شیام کے کردار کو بڑی خوبصورتی سے نبھایا ہے، جو ایک طرف لالچی اور موقع پرست ہے تو دوسری طرف اس میں ایک عجیب سی کمزوری بھی نظر آتی ہے۔
انہوں نے اس کردار کی بددیانتی اور گہری نفسیاتی کیفیات کو بڑی مہارت سے پیش کیا ہے۔
ناقدین نے فلم میں نواز الدین صدیقی کی اداکاری کو بے مثال قرار دیا ہے جس میں وہ اپنے ایکسپریشنز اور باڈی لینگویج سے کردار کی گہرائی کو دکھاتے ہیں، ان کی آنکھیں کردار کی چالاکی اور بدنیتی کو بڑی آسانی سے ظاہر کرتی ہیں۔
نواز الدین صدیقی نے خود کہا ہے کہ انہوں نے اپنے گاؤں میں اس طرح کے اساتذہ کو دیکھا ہے اور اسی مشاہدے کی بنیاد پر انہوں نے اس کردار کو ایک حقیقی شکل دی۔
انہوں نے ایسے لوگوں کی تصویر کشی کی ہے جو بظاہر اچھے نہیں لگتے لیکن ان کی شخصیت میں گہرائی ہوتی ہے۔
اداکار کو ’نیویارک انڈین فلم فیسٹیول‘ میں اس فلم کے لیے بہترین اداکار کا ایوارڈ بھی دیا گیا۔
فوٹوگراف:
نوازالدین صدیقی کی 2019 کی فلم ’فوٹوگراف‘خاموش اور دل کو چھو لینے والی رومانوی کہانی ہے، جس میں ان کی اداکاری کو ناقدین نے بے حد سراہا۔
اس فلم میں وہ رفیع کا کردار ادا کرتے ہیں، جو ممبئی کا ایک محنتی اسٹریٹ فوٹوگرافر ہے۔
رفیع کی زندگی میں اس وقت تبدیلی آتی ہے جب وہ ملونی (ثانیہ ملہوترا) سے ملتا ہے اور اسے اپنی منگیتر ظاہر کرتا ہے تاکہ اپنی دادی کو شادی کے لیے قائل کر سکے۔
نوازالدین صدیقی کی اداکاری
نوازالدین صدیقی نے رفیع کے کردار میں اپنی فطری اور سادہ اداکاری سے جان ڈال دی ہے۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ انہوں نے اس کردار کو ادا کرتے ہوئے خود کو ہی پیش کیا ہے۔
جیسا کہ وہ ممبئی آنے کے ابتدائی دنوں میں تھے، ہدایتکار ریتیش بترا نے ان سے اداکاری کے تمام آثار ختم کروائے تاکہ کردار میں قدرتی پن آئے۔
ناقدین نے فلم میں نواز کی اداکاری کو دل موہ لینے والی اور غیر معمولی قرار دیا ہے۔
انہوں نے رفیع کے کردار میں خاموشی، تنہائی اور اندرونی جذبات کو اس مہارت سے پیش کیا کہ ناظرین ان کے کردار سے جڑ جاتے ہیں۔
منٹو:
برصغیر پاک و ہند کے مشہور افسانہ نگار کا بہروپ بھرنا کوئی آسان بات نہیں ہے لیکن نواز الدین صدیقی نے یہ بھی کردکھایا۔
فلم کی کہانی 1940 کی دہائی میں تقسیم ہند کے پس منظر میں سعادت حسن منٹو کی زندگی کے گرد گھومتی ہے، خاص طور پر ان کی ممبئی سے لاہور ہجرت اور اس کے بعد کی زندگی پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔
فلم ان کے متنازع افسانوں اور ان پر چلائے جانے والے مقدمات کو بھی دکھاتی ہے، جہاں ان پر فحاشی کا الزام لگایا گیا۔
فلم منٹو کی آزاد خیالی، ان کی سچائی پر مبنی تحریروں اور اس وقت کے سماجی و سیاسی حالات کی عکاسی کرتی ہے۔
نواز الدین صدیقی کی اداکاری:
نواز الدین صدیقی نے سعادت حسن منٹو کا مرکزی کردار ادا کیا ہے اور ان کی یہ پرفارمنس ان کے کریئر کی بہترین پرفارمنسز میں سے ایک سمجھی جاتی ہے۔
نواز الدین صدیقی نے منٹو کے کردار میں مکمل طور پر خود کو ڈھال لیا، انہوں نے منٹو کی شخصیت کی گہرائی، ان کی ذہنی کشمکش، ان کی ذہانت، ان کی بے باکی اور ان کے اندرونی مسائل کو بڑی مہارت سے پیش کیا ہے۔
نواز الدین صدیقی کو اس کردار کے لیے دنیا بھر میں سراہا گیا، انہیں 2018 کے ایشیا پیسیفک اسکرین ایوارڈز میں ’بہترین اداکار‘ کا ایوارڈ بھی ملا اور فلم فیئر ایوارڈز میں بھی انہیں بہترین اداکار (ناقدین) کے لیے نامزد کیا گیا۔
یہ فلم نواز الدین صدیقی کے مداحوں اور سینما کے شائقین دونوں کے لیے ایک یادگار پرفارمنس سمجھی جاتی ہے۔
فلم ساز نندیتا داس نے خود کہا تھا کہ نواز الدین صدیقی نے اس فلم میں کام کرنے کے لیے صرف ایک روپیہ معاوضہ لیا تھا، جس سے اس پروجیکٹ کے ساتھ ان کی ذاتی وابستگی اور منٹو کے کردار سے محبت کا اندازہ ہوتا ہے۔
رمن راگھو 2.0:
نواز الدین صدیقی کی فلم ’رمن راگھو 2.0‘ سال 2016 کی سائیکولوجیکل کرائم تھرلر فلم ہے جس کی ہدایات انوراگ کشیپ نےدی تھیں۔
یہ فلم 1960 کی دہائی کے ایک بدنام زمانہ سیریل کلر رمن راگھو کی حقیقی زندگی سے متاثر ہے۔
تاہم فلم کی کہانی موجودہ دور کے ممبئی میں ترتیب دی گئی ہے اور اس میں ایک سیریل کلر رمن (نواز الدین صدیقی) اور ایک بدعنوان پولیس افسر راگھون (وکی کوشل) کے درمیان چوہے بلی کا پیچھا دکھایا گیا ہے۔
نواز الدین صدیقی کی اداکاری:
’رمن راگھو 2.0‘ میں نواز الدین صدیقی نے ایک سیریل کلر ’رمن‘ کا کردار ادا کیا ہے اور ان کی یہ پرفارمنس ان کے کیریئر کی سب سے خوفناک اور یادگار اداکاری میں سے ایک سمجھی جاتی ہے۔
نواز الدین نے رمن کے کردار کو جس مہارت سے نبھایا ہے وہ واقعی حیران کن ہے۔
انہوں نے ایک ایسے شخص کو پیش کیا ہے جو بے رحم، سفاک، اور ذہنی طور پر پریشان ہے۔
ان کی آنکھوں میں خالی پن اور سفاکیت کو صاف دیکھا جا سکتا ہے، جو کردار کو مزید دہشت ناک بنا دیتا ہے۔
نواز الدین صدیقی کو اس فلم میں ان کی جاندار اداکاری کے لیے بہت پذیرائی ملی۔
بہت سے لوگوں نے اسے ان کی بہترین پرفارمنسز میں سے ایک قرار دیا اور یہ فلم انوراگ کشیپ کے ساتھ ان کے تعاون کی ایک اور مثال ہے۔
Miss lovely
نواز الدین صدیقی کی فلم Miss Lovely 2012 میں کانز فلم فیسٹیول میں دکھائی گئی اور 2014 میں بھارت میں ریلیز ہوئی۔
فلم کی کہانی 1980 کی دہائی کی ممبئی میں سی گریڈ ہندی ہارر فلموں کی انڈسٹری کے گرد گھومتی ہے، یہ دو بھائیوں، سیما(نوازالدین صدیقی) اور وکی کی کہانی ہے جو اس صنعت میں کام کرتے ہیں۔
نواز الدین صدیقی کو اس فلم میں ایک شرمیلا اور حساس شخص دکھایا گیا ہے جو ان گندی فلموں سے باہر نکل کر کچھ بہتر کرنا چاہتا ہے۔
نواز الدین صدیقی کی اداکاری:
نواز الدین صدیقی کی ’مس لولی‘ کی اداکاری کو ناقدین کی طرف سے بہت سراہا گیا ہے۔
نواز الدین صدیقی نے خود اس کردار کو اپنے اب تک کی اپنی سب سے بہترین اداکاری میں سے ایک قرار دیا ہے۔
نواز نے سیما کے کردار میں ایک گہرائی شامل کی ہے جو صرف چند مکالموں کے ذریعے نہیں بلکہ ان کے چہرے کے تاثرات، ان کی آنکھوں کے خالی پن اور ان کی باڈی لینگویج سے ظاہر ہوتی ہے۔
ان کی خاموشی اور پریشان کن نظریں کردار کے اندرونی حال کو بخوبی بیان کرتی ہیں۔
بندوق باز:
2017 میں ریلیز ہونے والی اس فلم میں نواز الدین صدیقی نے اپنی شاندار اداکاری کی تمام حدود کو پار کردیا، اس فلم میں نواز الدین صدیقی نے ایک کرائے کے قاتل’بابو‘ کا کردار ادا کیا ہے۔
بابو ایک غیر معمولی اور عجیب و غریب کردار ہے جو اپنے کام میں ماہر ہے لیکن اس کی زندگی میں بہت سے اتار چڑھاؤ ہیں۔
فلم میں ایک دوسرے کانٹریکٹ کلر بانکے سے اس کا مقابلہ ہوتا ہے اور ایک خاتون پھلوادی سے اس کا رومانوی رشتہ بھی دکھایا گیا ہے۔
نواز الدین صدیقی کی اداکاری:
بابو موشائے بندوق باز میں نواز الدین صدیقی نے ایک بار پھر اپنی غیر معمولی اداکاری کا لوہا منوایا ہے۔
نواز الدین نے بابو کے کردار میں ایک عجیب سی اصلیت اور گہرائی شامل کی ہے۔
وہ ایک سفاک قاتل ہونے کے باوجود، کچھ جذباتی لمحات میں اس کی انسانیت کو بھی ظاہر کرتے ہیں، ان کا کردار بے رحم ہے لیکن اس کے اندر بھی کچھ ایسی کمزوریاں اور خواہشات ہیں جو ناظرین کو اس سے جوڑتی ہیں۔
اس فلم میں نواز الدین نے ڈارک کامیڈی کے عناصر کو خوبصورتی سے پیش کیا ہے، ان کے مکالمے اور ان کی ادائیگی، ہنسی کے ساتھ ساتھ ایک گہری سوچ بھی چھوڑ جاتی ہے۔
ان کا بے تکلف انداز، ان کی چالاکی اور ان کی آنکھوں میں چمک، سب کچھ کردار کو جاندار بنا دیتا ہے۔
مون سون شوٹ آؤٹ:
نواز الدین صدیقی کی یہ فلم 2013 میں کانز فلم فیسٹیول میں دکھائی گئی اور 2017 میں بھارت میں باضابطہ طور پر ریلیز ہوئی۔
فلم کی کہانی ایک نوجوان اور اصول پسند پولیس افسر آدتیہ (وجے ورما) کے گرد گھومتی ہے، جسے ممبئی کے ایک مشہور گینگسٹرشیو (نواز الدین صدیقی) کا پیچھا کرنے کا ٹاسک دیا جاتا ہے۔
نواز الدین صدیقی کی اداکاری:
’مون سون شوٹ آؤٹ‘ میں نواز الدین صدیقی نے ’شیو‘ نامی گینگسٹر کا کردار ادا کیا ہے اور اگرچہ ان کا اسکرین ٹائم مرکزی کردار آدتیہ کے مقابلے میں کم ہے، پھر بھی ان کی موجودگی اور اداکاری نے فلم پر گہرا اثر ڈالا ہے۔
اگرچہ نواز الدین صدیقی مرکزی کردار میں نہیں ہیں لیکن ان کی پرفارمنس اتنی طاقتور ہے کہ وہ ہر منظر میں اپنا لوہا منواتے ہیں۔
وہ اپنے کردار میں ایک ایسا عنصر شامل کرتے ہیں جو ناظرین کو اس کی موجودگی کو محسوس کرنے پر مجبور کرتا ہے، چاہے وہ اسکرین پر کتنی ہی دیر کے لیے ہوں۔
سیریس مین:
نواز الدین صدیقی کی فلم ’سیریس مین‘ ایک ہندی طنزیہ ڈراما فلم ہے جو 2020 میں نیٹ فلکس پر ریلیز ہوئی۔
فلم کی کہانی ممبئی کے ایک متوسط طبقے کے تامل خاندان کے ایان مانی (نواز الدین صدیقی) کے گرد گھومتی ہے۔
ایان ایک ذہین لیکن بدقسمت شخص ہے جو ایک بڑے تحقیقی ادارے میں کام کرتا ہے، جہاں اسے لگتا ہے کہ اس کی صلاحیتوں کو پہچانا نہیں جا رہا۔
وہ اپنی زندگی کی مایوسیوں کو دور کرنےکے لیے ایک خطرناک چال چلتا ہے اور اپنے 10 سالہ بیٹے کو اپنی چال کا حصہ بناتا ہے، وہ دنیا کو بتاتا ہے کہ اس کا بیٹا انتہائی ذہین ہے اور مشکل سائنسی تصورات کو سمجھ سکتا ہے۔
اس چال سے خاندان کی زندگی میں ہلچل مچ جاتی ہے اور یہ سماجی طبقات، ذات پات کے نظام اور جدید ہندوستان میں تعلیم اور کامیابی کے جنون پر طنز کرتی ہے۔
نواز الدین صدیقی کی اداکاری:
’سیریس مین‘میں نواز الدین صدیقی نے مرکزی کردار ایان کو بڑی مہارت سے پیش کیا ہے اور ان کی یہ پرفارمنس ناقدین کی طرف سے خاص طور پر سراہی گئی۔
انہیں اس کردار کے لیے 2021 میں بین الاقوامی ایمی ایوارڈز میں ’بہترین اداکار‘ کے لیے نامزد بھی کیا گیا تھا۔
دی لنچ باکس:
نواز الدین صدیقی کی فلم ’دی لنچ باکس‘ایک ہندی رومانٹک ڈراما فلم ہے جو 2013 میں ریلیز ہوئی، یہ ایک بین الاقوامی سطح پر سراہی جانے والی فلم ہے جس نے کئی ایوارڈز جیتے۔
اس فلم میں مرکزی کردار عرفان خان اور نمرت کور نے ادا کیا ہے اور نواز الدین صدیقی ایک معاون کردار میں نظر آئے ہیں۔
نواز الدین صدیقی کی اداکاری:
’دی لنچ باکس‘ میں نواز الدین صدیقی نے شیخ کا کردار ادا کیا ہے، جو ساجن (عرفان خان) کا جونیئر ہے اور اس سے کام سیکھنے آتا ہے۔
اگرچہ یہ ایک سپورٹنگ کردار ہے، لیکن نواز الدین نے اپنی موجودگی اور اداکاری سے اسے یادگار بنا دیا۔
عرفان خان کے ساتھ ان کی آن اسکرین کیمسٹری کو بہت سراہا گیا، ان کے درمیان کے مکالمے اور ان کی نوک جھونک فلم میں ایک اضافی دلکشی پیدا کرتی ہے۔ شیخ کا کردار ساجن کی تنہائی کو کم کرنے اور اس کی زندگی میں روشنی لانے میں مدد کرتا ہے۔











