صحت

ذیابیطس کے مریضوں کے لیے تربوز: فائدہ یا احتیاط؟

تربوز کا گلیسیمک انڈیکس (GI) نسبتاً بلند ہوتا ہے

Web Desk

ذیابیطس کے مریضوں کے لیے تربوز: فائدہ یا احتیاط؟

تربوز کا گلیسیمک انڈیکس (GI) نسبتاً بلند ہوتا ہے

اسکرین گریب
اسکرین گریب

ذیابیطس میں مبتلا افراد کو عمومی طور پر میٹھے کھانوں اور بعض پھلوں سے پرہیز کا مشورہ دیا جاتا ہے، کیوں کہ ان میں موجود قدرتی شکر خون میں گلوکوز کی سطح کو تیزی سے بڑھا سکتی ہے۔ تربوز ایک ایسا موسمی پھل ہے جو اپنی مٹھاس، رس دار ساخت اور تازگی کے باعث بے حد مقبول ہے، مگر ذیابیطس کے مریضوں کے لیے یہ پھل ایک متنازع حیثیت رکھتا ہے۔

تربوز کے غذائی فوائد

ماہرینِ صحت کے مطابق، تربوز تقریباً 92 فیصد پانی پر مشتمل ہوتا ہے، جو جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے اور وزن میں کمی میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ پھل قدرتی فائبر سے بھرپور ہوتا ہے جو نظامِ ہاضمہ کو بہتر بناتا ہے اور قبض جیسے مسائل کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ تربوز میں کیلوریز کی مقدار کم ہوتی ہے، جو اسے وزن کے خواہشمند افراد کے لیے ایک مناسب انتخاب بناتی ہے۔

گلیسیمک انڈیکس اور شوگر پر اثر

تاہم، تربوز کا گلیسیمک انڈیکس (GI) نسبتاً بلند ہوتا ہے، یعنی یہ خون میں گلوکوز اور انسولین کی سطح کو تیزی سے بڑھا سکتا ہے۔ اسی لیے ٹائپ 1 اور ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں کو تربوز کھانے کی محدود مقدار میں ہی اجازت دی جاتی ہے۔

طبی ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ پروٹین سے بھرپور کھانے کے بعد تھوڑی مقدار میں تربوز کھانا زیادہ محفوظ اور مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ ایسا کرنے سے نہ صرف خون میں شوگر کی سطح متوازن رہتی ہے بلکہ انسولین کی کارکردگی بھی بہتر ہوتی ہے، اور مجموعی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

اگر آپ ذیابیطس کے مریض ہیں اور تربوز کھانے کے خواہشمند ہیں، تو اس کا استعمال اعتدال کے ساتھ اور غذائی ماہر کے مشورے سے کریں۔ تھوڑی مقدار میں، متوازن غذا کے ساتھ شامل کیا گیا تربوز، نہ صرف آپ کی خوراک میں تنوع لا سکتا ہے بلکہ جسمانی تروتازگی میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔