پریش راول کے 'ہیراپھیری 3' چھوڑنے سے قبل کتنی شوٹنگ ہوچکی تھی؟
اداکار کی ٹیم کی جانب سے وضاحتی بیان جاری کردیا گیا
معروف بھارتی اداکار پریش راول کے ’ہیرا پھیری 3‘ فلم سے اچانک علیحدہ ہونے پر تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔
پریش راول کی ٹیم کی جانب سے آج جاری کیے گئے ایک بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ انہوں نے فلم کے لیے ایک بھی سین عکسبند نہیں کروایا تھا، بلکہ صرف ایک پرومو شوٹ کا حصہ بنے تھے۔
یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی جب اکشے کمار کی پروڈکشن کمپنی 'کیپ آف گڈ فلمز' نے فلم کو درمیان میں چھوڑنے کے فیصلہ کو 'غیر پیشہ ورانہ' قرار دیتے ہوئے پریش راول پر 25 کروڑ روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا۔
پریش راول کی ٹیم کی جانب سے آج جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ 'ایک ایسا اداکار جس نے چار دہائیوں تک انڈسٹری کو اپنی بے مثال اداکاری سے نوازا، اسے غیر پیشہ ورانہ رویہ اپنانے کا الزام دینا نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ ایک لطیفہ بھی ہے، فلم کی شوٹنگ تو شروع ہی نہیں ہوئی تھی، صرف ایک پرومو شوٹ ہوا تھا، فلم کی اصل شوٹنگ اگلے سال کے لیے شیڈول تھی'۔
پریش راول پر الزام تھا کہ وہ فلم کے تقریباً ساڑھے تین منٹ کی شوٹنگ میں شامل رہے، تاہم ان کی ٹیم نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ فلم کی باقاعدہ شوٹنگ شروع ہی نہیں ہوئی تھی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ 'پریش راول تو ایسے وقت میں فلم سے علیحدہ ہو گئے تھے جب سیٹ بھی لگایا نہیں گیا تھا، انہوں نے اپنی زندگی میں سرخیاں بنا کر نہیں بلکہ فلمی کرداروں کی بنیاد پر کامیابی حاصل کی ہے، وہ ایمانداری، نظم و ضبط اور خالص فن پر یقین رکھتے ہیں'۔
فلم کی ٹیم حیران، اکشے کمار آبدیدہ
ہدایت کار پریا درشن اور اداکار سنیل شیٹی سمیت فلم سے جڑی تمام مرکزی شخصیات نے اس فیصلے پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔
پریادرشن نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ جب اکشے کمار کو پریش روال کے اس فیصلے کا علم ہوا تو وہ جذباتی ہو گئے اور ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
سنیل شیٹی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ 'مجھے اس بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا، یہ ایک بہت بڑا دھچکا ہے، پہلے سوچا کہ انہیں میسج کروں، پھر ارادہ کیا کہ ملاقات کر کے بات کروں گا'۔
انہوں نے بتایا کہ 'ہم پرومو کی شوٹنگ کر چکے تھے اور جنوری میں فلم کی شوٹنگ شروع ہونے والی تھی، یہ ایک بڑا جھٹکا ہے، میں سمجھ نہیں پا رہا کہ کیا ہو رہا ہے'۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پریش راول نے معاہدہ پر دستخط کے بعد معاوضے میں اضافے کا مطالبہ کیا تھا اور پروڈکشن کمپنی کے انکار پر انہوں نے فلم چھوڑ دی، تاہم پریش راول نے 18 مئی کو اپنے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں واضح کیا تھا کہ ان کا یہ فیصلہ تخلیقی پہلوؤں پر اختلافات پر مبنی نہیں ہے۔
انہوں نے لکھا تھا کہ 'میری فلم سے علیحدگی کا تخلیقی پہلوؤں پر اختلافات سے کوئی تعلق نہیں، میں ہدایت کار پریادرشن کا بے حد احترام کرتا ہوں اور ان پر مکمل اعتماد ہے'۔
دوسری جانب اکشے کمار کی ٹیم کا کہنا ہے کہ پریش راول 11 لاکھ روپے بطور سائننگ اماؤنٹ وصول کر چکے تھے اور شوٹنگ کے ابتدائی مرحلے میں کسی قسم کی غیررضامندی کا اظہار نہیں کیا تھا۔
اس سے قبل للن ٹاپ کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے پریش راول نے بابو راؤ کے کردار سے بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ان کے گلے کا پھندا بن گیا ہے، تاہم اس کے باوجود وہ ایک مرتبہ پھر نہ صرف ہیرا پھیری کے لیے راضی ہوئے بلکہ 11 لاکھ روپے کی ایڈوانس رقم بھی وصول کرلی تھی اور پھر اچانک فلم چھوڑنے کا اعلان کردیا۔
اب اکشے کمار کی پروڈکشن کمپنی ’کیپ آف گڈ فلمز’ نے پریش راول کے خلاف 25 کروڑ روپے کا مقدمہ دائر کر دیا ہے۔
اس سلسلے میں ذرائع کا کہنا تھا کہ ’پریش نے پیشہ ورانہ دیانتداری اور تجارتی اخلاقیات کی کھلی خلاف ورزی کی ہے، اگر وہ فلم نہیں کرنا چاہتے تھے تو سائن کرنے سے پہلے انکار کر دیتے، نہ کہ معاہدے پر دستخط کرنے، ایڈوانس لینے اور پروڈیوسر کے لاکھوں روپے خرچ کروانے کے بعد چھوڑتے‘۔
اس کامیڈی فرنچائز کے مداحوں کو اکشے، سنیل اور پریش کی مشہور تین رکنی جوڑی کی واپسی کا شدت سے انتظار تھا، لیکن اب پریش کی غیر موجودگی میں بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ فلم اپنی اصلی کشش کھو دے گی۔






